Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مٹی پر اشعار

اب جان جسم خاکی سے تنگ آ گئی بہت

کب تک اس ایک ٹوکری مٹی کو ڈھویئے

اب میری جان اس خاکی جسم سے بہت بیزار ہو چکی ہے۔

میں کب تک مٹی کی اس ایک ٹوکری کو اٹھائے پھروں؟

شاعر جان اور جسم کے تضاد کو دکھاتا ہے: جسمِ خاکی ایک بوجھ بن گیا ہے اور جان اس کی قید سے تنگ ہے۔ “ٹوکری مٹی” کہہ کر بدن کو محض مٹی کا ڈھیر بتایا گیا ہے، جو آخرکار خاک میں مل جانا ہے۔ اس میں تھکن، بےزاری اور رہائی کی خواہش کی گہری کیفیت ہے۔

میر تقی میر

مرے اشعار ہیں وہ آسمانی خواب جن کو

مری مٹی کے ہونٹھوں پر اتارا جا رہا ہے

فرحت احساس

اک آیت وجود ہوں مٹی کے ڈھیر میں

میرے نزول کی تو کوئی شان ہی نہیں

فرحت احساس
بولیے