دل کی بساط کیا تھی نگاہ جمال میں
اک آئینہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں
یہ کائنات مرے سامنے ہے مثل بساط
کہیں جنوں میں الٹ دوں نہ اس جہان کو میں
-
موضوع : دنیا
زندگی کی بساط پر باقیؔ
موت کی ایک چال ہیں ہم لوگ
لگی تھی جان کی بازی بساط الٹ ڈالی
یہ کھیل بھی ہمیں یاروں نے ہارنے نہ دیا