ہچکی پر اشعار
ہندوستانی اساطیری
روایات کے حوالے سے ہچکی کا سبب یہی سمجھا جاتا ہے کہ کوئی یاد کررہا ہے ۔ اس قسم کے تصورات سچ اور جھوٹ سے ماورا ہوتے ہیں ۔ شاعروں نے بھی ہچکی کو اس کے اسی تناظر میں برتا ہے ۔ کچھ اشعار کا انتخاب ہم آپ کے لئے پیش کر رہے ہیں ۔
آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں
-
موضوعات : روماناور 5 مزید
امیرؔ اب ہچکیاں آنے لگی ہیں
کہیں میں یاد فرمایا گیا ہوں
مجھے یاد کرنے سے یہ مدعا تھا
نکل جائے دم ہچکیاں آتے آتے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب پر طنزیہ انداز میں الزام رکھتا ہے کہ اس کی یاد بھی رحم کے لیے نہیں، اذیت کے لیے ہے۔ ہچکیاں یہاں جدائی کی لگاتار تڑپ اور رُک رُک کر آنے والے رنج کی علامت بن جاتی ہیں جو دم گھونٹ دیتی ہیں۔ سارا اثر اس تلخ احساس پر قائم ہے کہ یاد آنا بھی زندگی نہیں، موت کے قریب لے جانے والی کیفیت بن گیا ہے۔
-
موضوع : یاد
ہچکیاں رات درد تنہائی
آ بھی جاؤ تسلیاں دے دو
-
موضوعات : تنہائیاور 2 مزید
ہچکیوں پر ہو رہا ہے زندگی کا راگ ختم
جھٹکے دے کر تار توڑے جا رہے ہیں ساز کے
تمہیں یہ غم ہے کہ اب چٹھیاں نہیں آتیں
ہماری سوچو ہمیں ہچکیاں نہیں آتیں
ہچکیاں آتی ہیں پر لیتے نہیں وہ میرا نام
دیکھنا ان کی فراموشی کو میری یاد کو
-
موضوع : فراموشی
خبر دیتی ہے یاد کرتا ہے کوئی
جو باندھا ہے ہچکی نے تار آتے آتے
-
موضوع : یاد