اسی اقبالؔ کی میں جستجو کرتا رہا برسوں
بڑی مدت کے بعد آخر وہ شاہیں زیر دام آیا
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر طویل جستجو اور باطنی بالیدگی کی تمنا کا بیان ہے۔ “اقبال” یہاں عروجِ نصیب اور بلند ہمتی کی علامت بن جاتا ہے، جبکہ “شاہیں” آزاد، بلند پرواز قوتِ ارادہ کی تمثیل ہے۔ “زیرِ دام” آنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسلسل محنت کے بعد وہ مقصد یا کیفیت آخر انسان کی گرفت میں آ جاتی ہے۔ احساسِ شعر میں بے قراری سے اطمینان اور فتح تک کا سفر جھلکتا ہے۔
-
موضوعات : اقبال ڈےاور 1 مزید