Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جلوہ پر اشعار

حسن کے جلوے ہم سب نے

اپنی اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں اور اپنے اپنے حساب سے، لیکن ایک تخلیق کار جلوۂ حسن کو کن کن صورتوں میں دیکھتا ہے اور اس کے بارے میں کیسے کیسے انکشافات کرتا ہے کیا ہم اس سے واقف ہیں ؟ اگر نہیں تو یہ انتخاب آپ ہی کے لئے ہے ۔ اسے پڑھئے اور جلوؤں کی چکاچوند سے لطف اٹھائے ۔

عشق کا ذوق نظارہ مفت میں بدنام ہے

حسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیے

اسرار الحق مجاز

اس پہ قربان کہ جس نے تری آواز سنی

صدقے اس آنکھ کے جس نے ترا جلوہ دیکھا

اوج لکھنوی

کیا کلیم کو ارمان دید نے رسوا

دکھا کے جلوۂ پروردگار تھوڑا سا

شبر جیلانی قمری

پردے میں وہ تو چھپ گئے دکھلا کے اک جھلک

میں پیچ و تاب میں رہا دن بھر تمام رات

نواب سیف علی سیاف

مسلمؔ کو ہے اب ایسے ہی جلوے کی تمنا

وہ جلوہ جو کعبے کو بھی بت خانہ بنا دے

مسلم مالیگانوی

آپ ہوں جلوہ نما رات کو مہتابی پر

ہم بھی تو دیکھیں کہ کیوں کر مہ تاباں نکلے

سورج نرائن مہر

اب بھی کوہ طور پر گویا زبان حال سے

ہے کوئی اور اس کے جلوے کا تمنائی کہ بس

رئیس رامپوری
بولیے