Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خودی پر اشعار

خودی انسان کے اپنے باطن

اور اپنے وجود کو پہچاننے کا ایک ذریعہ ہے ۔ کئی شاعروں نے خودی کے فلسفے کو منظم انداز سے اپنی فکری اور تخلیقی اساس کے طور پر برتا ہے ، اگرچہ اس طرح کے مضامین شاعری میں عام رہے ہیں لیکن اقبال کے یہاں یہ رویہ حاوی ہے ۔ اس شاعری کی قرأت آپ کو اپنی وجودی عظمتوں کا احساس بھی دلائے گی ۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اپنی خودی کو اتنا بلند کر لو کہ تقدیر طے ہونے سے پہلے بھی تم مضبوط کھڑے رہو۔

ایسا مقام ہو کہ خدا خود بندے سے پوچھے: بتاؤ تمہاری رضا کیا ہے؟

اس شعر میں خودی سے مراد باوقار، بیدار اور باارادہ شخصیت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ انسان اپنے باطن کو محنت، یقین اور کردار سے اتنا بلند کرے کہ وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہ رہے۔ “خدا کا پوچھنا” ایک استعارہ ہے جو انسانی اختیار اور ذمہ داری کی عظمت دکھاتا ہے۔ جذباتی مرکز خود اعتمادی اور مقصدیت کی دعوت ہے۔

علامہ اقبال

چھوڑا نہیں خودی کو دوڑے خدا کے پیچھے

آساں کو چھوڑ بندے مشکل کو ڈھونڈتے ہیں

عبد الحمید عدم

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں

خودی ایک ایسا سمندر ہے جس کی کوئی حد نہیں۔

اگر تم اسے چھوٹا سا نالہ سمجھ لو تو پھر اس کا کوئی علاج نہیں۔

علامہ اقبال خودی کو بے کنار بحر کہہ کر اس کی وسعت اور اندرونی قوت کو ظاہر کرتے ہیں۔ دوسرا مصرع تنبیہ ہے کہ اگر آدمی اپنی حقیقت کو کم تر سمجھ لے تو پھر اس کی کمزوری کا سبب بیرونی نہیں بلکہ اپنی غلط فہمی بنتی ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ اپنی قدر پہچانو اور بلند ہدف اختیار کرو۔

علامہ اقبال

بہ قدر پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا

اگر نہ ہو یہ فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا

جمیلؔ مظہری

خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا

خدا بنے تھے یگانہؔ مگر بنا نہ گیا

یگانہ چنگیزی

ہمیں کم بخت احساس خودی اس در پہ لے بیٹھا

ہم اٹھ جاتے تو وہ پردہ بھی اٹھ جاتا جو حائل تھا

ناطق گلاوٹھی

خوب جانتا ہے یہ اک فقیر ہاتھوں میں

کب ہے بے کسی رکھنا کب ہے معجزہ رکھنا

سفر نقوی
بولیے