محشر پر اشعار
محشر ایک مذہبی اصطلاح
ہے یہ تصور اس دن کےلئے استعمال ہوتا ہے جب دنیا فنا ہوجائے گی اور انسانوں سے ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا ۔ مذہبی روایات کے مطابق یہ ایک سخت دن ہوگا ۔ ایک ہنگامہ برپا ہوگا ۔ لوگ ایک دوسرے سے بھاگ رہے ہوں گے سب کو اپنی اپنی پڑی ہوگی ۔ محشر کا شعری استعمال اس کے اس مذہبی سیاق میں بھی ہوا ہے اور ساتھ ہی معشوق کے جلوے سے بپا ہونے والے ہنگامے کیلئے بھی ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔
بڑا مزہ ہو جو محشر میں ہم کریں شکوہ
وہ منتوں سے کہیں چپ رہو خدا کے لیے
Interpretation:
Rekhta AI
داغؔ دہلوی محشر کو ایک آخری عدالت بنا کر عاشق کی فریاد کو مزاحیہ لذت کے ساتھ دکھاتے ہیں۔ لطف اس الٹے پن میں ہے کہ جہاں شکوہ کرنا حق بنتا ہے، وہاں بھی محبوب منتوں سے زبان بند کرانا چاہتا ہے۔ “خدا کے لیے” میں تقدیس بھی ہے اور دباؤ بھی، جو محبوب کی نرمی کو چھیڑ چھاڑ کی صورت دے دیتا ہے۔ یوں شکوہ، محبت اور طنز ایک ساتھ جھلکتے ہیں۔
ہمیں معلوم ہے ہم سے سنو محشر میں کیا ہوگا
سب اس کو دیکھتے ہوں گے وہ ہم کو دیکھتا ہوگا
ابھی طوفاں کا رخ گرچہ مرے پہلو کی جانب ہے
تری آغوش میں برپا کوئی محشر بھی دیکھوں گا
تھی درد کی جب تک دل میں کھٹک ہلتا تھا فلک لرزاں تھی زمیں
ہم آہیں جس دم بھرتے تھے اک محشر برپا ہوتا تھا
-
موضوعات : آہاور 1 مزید
میں ازل سے صبح محشر تک فروزاں ہی رہا
حسن سمجھا تھا چراغ کشتۂ محفل مجھے
-
موضوعات : ازلاور 2 مزید