ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
صرف ظاہری آنکھ سے دنیا کے تماشے کو نہ دیکھو۔
اگر واقعی دیکھنا ہے تو دل کی آنکھ کھولو۔
علامہ اقبال یہاں ظاہر بین نگاہ اور باطنی بصیرت کا فرق بتاتے ہیں۔ ظاہری آنکھ صرف شکل و صورت اور فریبِ منظر دیکھتی ہے، مگر دیدۂ دل حقیقت تک رسائی دیتا ہے۔ شاعر انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اندر کی روشنی بیدار کرے۔ اصل پیغام یہی ہے کہ سچی معرفت دل کے جاگنے سے ملتی ہے۔
-
موضوعات : تصوفاور 1 مزید
سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گی
مجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے
-
موضوع : دیدار