Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نظارہ پر اشعار

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی

صرف ظاہری آنکھ سے دنیا کے تماشے کو نہ دیکھو۔

اگر واقعی دیکھنا ہے تو دل کی آنکھ کھولو۔

علامہ اقبال یہاں ظاہر بین نگاہ اور باطنی بصیرت کا فرق بتاتے ہیں۔ ظاہری آنکھ صرف شکل و صورت اور فریبِ منظر دیکھتی ہے، مگر دیدۂ دل حقیقت تک رسائی دیتا ہے۔ شاعر انسان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اندر کی روشنی بیدار کرے۔ اصل پیغام یہی ہے کہ سچی معرفت دل کے جاگنے سے ملتی ہے۔

علامہ اقبال

سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گی

مجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے

جگر مراد آبادی
بولیے