Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

قید پر اشعار

کہہ رہے ہیں وہ بنا کر زلف کو

مجرمان عشق کی زنجیر دیکھ

ذائق بنگلوری

قفس میں رہ کے نہ روتے اگر یہ جانتے ہم

چمن میں رہ کے بھی رونا ہے بال و پر کے لئے

بسمل سعیدی

مجھ سے قفس کا دروازہ کیا ٹوٹے گا

پاؤں پڑی زنجیر میں کھوئی رہتی ہوں

ریشما زیدی

قید آوارگیٔ جاں ہی بہت ہے مجھ کو

ایک دیوار مری روح کے اندر نہ بنا

مصحف اقبال توصیفی

شجر کی یاد رلاتی ہی تھی مگر اب تو

جو آشیاں کے برابر تھا وہ قفس بھی گیا

شہاب الدین ثاقب

روز زندان کی دیوار پہ لکھتا ہے کوئی

ہائے تنہائی سلاسل سے کہیں بھاری ہے

اظہر سجاد

زندگانی اسیر کرنے کو

گیسوؤں کا یہ جال اچھا ہے

حسان احمد اعوان

گاہ ہو جاتا ہوں میں اپنی انا کا قیدی

میں نہ آؤں تو پھر آ کر مجھے چھڑوائے گا

محمد احمد

چھیڑتی ہے مجھے آ آ کے مری آزادی

گو میں قیدی ہوں مرے پاؤں میں زنجیر بھی ہے

کلیم احمدآبادی

کھینچتے ہو ہر جانب کس لیے لکیریں سی

میں نہ کوئی راون ہوں میں نہ کوئی سیتا ہوں

رمیش تنہا

خط و کاکل و زلف و انداز و ناز

ہوئیں دام رہ صد گرفتاریاں

میر تقی میر
بولیے