Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

رہبر پر اشعار

سفر میں رہبر کا کردار

ہمیشہ مشکوک رہا ہے ۔ قافلے کے لٹنے کے پیچھے رہبر کی دغابازیاں تصور کی گئی ہیں ۔ شاعروں نے اس مضمون کو ایک وسیع تر استعاراتی سطح پر برتا ہے اور نئے نئے پہلو تلاش کئے ہیں ۔ یہ شاعری نئی حیرتوں کے ساتھ نئے حوصلے پیدا کرتی ہے ۔ ایک انتخاب حاضر ہے ۔

نگہ بلند سخن دل نواز جاں پرسوز

یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے

Rekhta AI Explanation

اپنی نظر بلند رکھو، بات دل کو بھانے والی کرو، اور دل میں سچی تپش پیدا کرو۔

قافلے کی رہنمائی کرنے والے کے لیے یہی سفر کا اصل سامان ہے۔

علامہ اقبال

مجھے اے رہنما اب چھوڑ تنہا

میں خود کو آزمانا چاہتا ہوں

حیرت گونڈوی

دل کی راہیں جدا ہیں دنیا سے

کوئی بھی راہبر نہیں ہوتا

فرحت کانپوری
بولیے