یوم جمہوریہ پر اشعار
شاعری میں وطن پرستی
کے جذبات کا اظہار بڑے مختلف ڈھنگ سے ہوا ہے۔ ہم اپنی عام زندگی میں وطن اور اس کی محبت کے حوالے سے جو جذبات رکھتے ہیں وہ بھی، اور کچھ ایسے گوشے بھی جن پر ہماری نظر نہیں ٹھہرتی اس شاعری کا موضوع ہیں۔ وطن پرستی مستحسن جذبہ ہے۔ یوم جمہوریہ، وطن پرستی اور مجاہدان آزادی کے تعلق سے یہ شاعری بھی آپ کے اندر وطن کی محبت پیدا کرے گی۔ یہ اشعار پڑھئے اور اس جذبے کی رنگارنگ دنیا کی سیر کیجئے۔
دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں شاعر وطن سے محبت اور فخر کا اعلان کرتا ہے اور ہندوستاں کو سب سے افضل کہتا ہے۔ بلبل اور گلستاں کا استعارہ بتاتا ہے کہ اہلِ وطن اس زمین کی رونق اور نغمگی ہیں، اور وطن اُن کی پرورش گاہ۔ جذبہ اپنائیت، شکرگزاری اور اجتماعی شناخت کا ہے۔
وطن کی ریت ذرا ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقیں ہے کہ پانی یہیں سے نکلے گا
-
موضوع : وطن پرستی
لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے
اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی
Interpretation:
Rekhta AI
فراق گورکھپوری کے یہاں “رنگ لانا” قربانی کے نتیجے میں حقیقت کے روشن ہو جانے کا استعارہ ہے۔ شہیدوں کے لہو سے آزادی کی قدر اور سچائی نمایاں ہو جاتی ہے، جیسے کسی خیال کو زندگی مل گئی ہو۔ دوسرے مصرعے میں “نامِ آزادی” کو ایسی آواز بنایا گیا ہے جو زمانے میں اچھل رہی ہے۔ شعر میں فخر، احسان مندی اور احترام کی کیفیت یکجا ہے۔
وطن کی خاک سے مر کر بھی ہم کو انس باقی ہے
مزا دامان مادر کا ہے اس مٹی کے دامن میں
-
موضوع : وطن پرستی