Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یوم جمہوریہ پر اشعار

شاعری میں وطن پرستی

کے جذبات کا اظہار بڑے مختلف ڈھنگ سے ہوا ہے۔ ہم اپنی عام زندگی میں وطن اور اس کی محبت کے حوالے سے جو جذبات رکھتے ہیں وہ بھی، اور کچھ ایسے گوشے بھی جن پر ہماری نظر نہیں ٹھہرتی اس شاعری کا موضوع ہیں۔ وطن پرستی مستحسن جذبہ ہے۔ یوم جمہوریہ، وطن پرستی اور مجاہدان آزادی کے تعلق سے یہ شاعری بھی آپ کے اندر وطن کی محبت پیدا کرے گی۔ یہ اشعار پڑھئے اور اس جذبے کی رنگارنگ دنیا کی سیر کیجئے۔

دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت

میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی

لال چند فلک

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا

ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر وطن سے محبت اور فخر کا اعلان کرتا ہے اور ہندوستاں کو سب سے افضل کہتا ہے۔ بلبل اور گلستاں کا استعارہ بتاتا ہے کہ اہلِ وطن اس زمین کی رونق اور نغمگی ہیں، اور وطن اُن کی پرورش گاہ۔ جذبہ اپنائیت، شکرگزاری اور اجتماعی شناخت کا ہے۔

علامہ اقبال

وطن کی ریت ذرا ایڑیاں رگڑنے دے

مجھے یقیں ہے کہ پانی یہیں سے نکلے گا

مظفر وارثی

لہو وطن کے شہیدوں کا رنگ لایا ہے

اچھل رہا ہے زمانے میں نام آزادی

Interpretation: Rekhta AI

فراق گورکھپوری کے یہاں “رنگ لانا” قربانی کے نتیجے میں حقیقت کے روشن ہو جانے کا استعارہ ہے۔ شہیدوں کے لہو سے آزادی کی قدر اور سچائی نمایاں ہو جاتی ہے، جیسے کسی خیال کو زندگی مل گئی ہو۔ دوسرے مصرعے میں “نامِ آزادی” کو ایسی آواز بنایا گیا ہے جو زمانے میں اچھل رہی ہے۔ شعر میں فخر، احسان مندی اور احترام کی کیفیت یکجا ہے۔

فراق گورکھپوری

وطن کی خاک سے مر کر بھی ہم کو انس باقی ہے

مزا دامان مادر کا ہے اس مٹی کے دامن میں

چکبست برج نرائن
بولیے