مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
-
موضوعات : اقبال ڈےاور 2 مزید
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 2 مزید
تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹے
تری رہبری کا سوال ہے ہمیں راہزن سے غرض نہیں
-
موضوع : مشہور اشعار
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
-
موضوعات : آرزواور 5 مزید
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
-
موضوعات : جبراور 5 مزید
نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزا تو تب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
-
موضوع : مذہبی یکجہتی
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے
جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے
-
موضوعات : ترغیبیاور 2 مزید
شام تک صبح کی نظروں سے اتر جاتے ہیں
اتنے سمجھوتوں پہ جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں
-
موضوع : شام
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
-
موضوعات : فلمی اشعاراور 3 مزید
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
تمہارے پاؤں کے نیچے کوئی زمین نہیں
کمال یہ ہے کہ پھر بھی تمہیں یقین نہیں
یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے
ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے
-
موضوعات : ترغیبیاور 1 مزید
چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے
جو دل کا حال ہے وہی دلی کا حال ہے
-
موضوعات : دلاور 1 مزید
سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے
جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں
کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں
تم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو
دوپہر تک بک گیا بازار کا ہر ایک جھوٹ
اور میں اک سچ کو لے کر شام تک بیٹھا رہا
تمہاری فائلوں میں گاؤں کا موسم گلابی ہے
مگر یہ آنکڑے جھوٹھے ہیں یہ دعویٰ کتابی ہے
زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا
پاؤں بخشیں ہیں تو توفیق سفر بھی دینا
یہ کہہ کہہ کے ہم دل کو بہلا رہے ہیں
وہ اب چل چکے ہیں وہ اب آ رہے ہیں