Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حسرت پر اشعار

آرزؤں اور امیدوں کے

ناکام ہونے کے بعد ان کی حسرت ہی بچتی ہے ۔ حسرت دکھ ، مایوسی ،افسوس اور احساس محرومی سے ملی جلی ایک کیفیت ہے اور ہم سب اپنی زندگی کے کسی نہ کسی لمحے میں اس کیفیت سے گزرتے ہیں ۔ کلاسیکی شاعری میں حسرت کی بیشتر صورتیں عشق میں ناکامی سے پیدا ہوئی ہیں ۔ ہمارا یہ انتخاب پڑھئے اور اس حسرت بھرے بیانیے کی اداسی کو محسوس کیجئے ۔

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

مرزا غالب

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

مرزا غالب

ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں

بہادر شاہ ظفر

ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں

اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں

بہادر شاہ ظفر

میں تو غزل سنا کے اکیلا کھڑا رہا

سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں کھو گئے

کرشن بہاری نور

میں تو غزل سنا کے اکیلا کھڑا رہا

سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں کھو گئے

کرشن بہاری نور

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں

دو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد

کیفی اعظمی

انساں کی خواہشوں کی کوئی انتہا نہیں

دو گز زمیں بھی چاہیئے دو گز کفن کے بعد

کیفی اعظمی

آرزو ہے کہ تو یہاں آئے

اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

ناصر کاظمی

آرزو ہے کہ تو یہاں آئے

اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں

ناصر کاظمی

اب دل کی تمنا ہے تو اے کاش یہی ہو

آنسو کی جگہ آنکھ سے حسرت نکل آئے

احمد فراز

اب دل کی تمنا ہے تو اے کاش یہی ہو

آنسو کی جگہ آنکھ سے حسرت نکل آئے

احمد فراز

کچھ نظر آتا نہیں اس کے تصور کے سوا

حسرت دیدار نے آنکھوں کو اندھا کر دیا

حیدر علی آتش

کچھ نظر آتا نہیں اس کے تصور کے سوا

حسرت دیدار نے آنکھوں کو اندھا کر دیا

حیدر علی آتش

سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہے

جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

احمد فراز

سب خواہشیں پوری ہوں فرازؔ ایسا نہیں ہے

جیسے کئی اشعار مکمل نہیں ہوتے

احمد فراز

آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو

اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا

سرور عالم راز

آرزو حسرت اور امید شکایت آنسو

اک ترا ذکر تھا اور بیچ میں کیا کیا نکلا

سرور عالم راز

خواب، امید، تمنائیں، تعلق، رشتے

جان لے لیتے ہیں آخر یہ سہارے سارے

عمران الحق چوہان

خواب، امید، تمنائیں، تعلق، رشتے

جان لے لیتے ہیں آخر یہ سہارے سارے

عمران الحق چوہان

کس کس طرح کی دل میں گزرتی ہیں حسرتیں

ہے وصل سے زیادہ مزا انتظار کا

تاباں عبد الحی

کس کس طرح کی دل میں گزرتی ہیں حسرتیں

ہے وصل سے زیادہ مزا انتظار کا

تاباں عبد الحی

کٹتی ہے آرزو کے سہارے پہ زندگی

کیسے کہوں کسی کی تمنا نہ چاہئے

شاد عارفی

کٹتی ہے آرزو کے سہارے پہ زندگی

کیسے کہوں کسی کی تمنا نہ چاہئے

شاد عارفی

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا

کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا

اختر شیرانی

آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیا

کیا بتاؤں کہ میرے دل میں ہے ارماں کیا کیا

اختر شیرانی

دل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہ

آپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے

جلیل مانک پوری

دل میں وہ بھیڑ ہے کہ ذرا بھی نہیں جگہ

آپ آئیے مگر کوئی ارماں نکال کے

جلیل مانک پوری

ارمان وصل کا مری نظروں سے تاڑ کے

پہلے ہی سے وہ بیٹھ گئے منہ بگاڑ کے

لالہ مادھو رام جوہر

ارمان وصل کا مری نظروں سے تاڑ کے

پہلے ہی سے وہ بیٹھ گئے منہ بگاڑ کے

لالہ مادھو رام جوہر

بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری

میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری

امیر مینائی

بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری

میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری

امیر مینائی

زندگی کی ضرورتوں کا یہاں

حسرتوں میں شمار ہوتا ہے

انور شعور

زندگی کی ضرورتوں کا یہاں

حسرتوں میں شمار ہوتا ہے

انور شعور

حسرتوں کا ہو گیا ہے اس قدر دل میں ہجوم

سانس رستہ ڈھونڈھتی ہے آنے جانے کے لیے

جگر جالندھری

حسرتوں کا ہو گیا ہے اس قدر دل میں ہجوم

سانس رستہ ڈھونڈھتی ہے آنے جانے کے لیے

جگر جالندھری

خواہشوں نے ڈبو دیا دل کو

ورنہ یہ بحر بیکراں ہوتا

اسماعیل میرٹھی

خواہشوں نے ڈبو دیا دل کو

ورنہ یہ بحر بیکراں ہوتا

اسماعیل میرٹھی

ایک بھی خواہش کے ہاتھوں میں نہ مہندی لگ سکی

میرے جذبوں میں نہ دولہا بن سکا اب تک کوئی

اقبال ساجد

ایک بھی خواہش کے ہاتھوں میں نہ مہندی لگ سکی

میرے جذبوں میں نہ دولہا بن سکا اب تک کوئی

اقبال ساجد

یار پہلو میں ہے تنہائی ہے کہہ دو نکلے

آج کیوں دل میں چھپی بیٹھی ہے حسرت میری

امیر مینائی

یار پہلو میں ہے تنہائی ہے کہہ دو نکلے

آج کیوں دل میں چھپی بیٹھی ہے حسرت میری

امیر مینائی

جینے والوں سے کہو کوئی تمنا ڈھونڈیں

ہم تو آسودۂ منزل ہیں ہمارا کیا ہے

محمود ایاز

جینے والوں سے کہو کوئی تمنا ڈھونڈیں

ہم تو آسودۂ منزل ہیں ہمارا کیا ہے

محمود ایاز

دیکھنا حسرت دیدار اسے کہتے ہیں

پھر گیا منہ تری جانب دم مردن اپنا

خواجہ محمد وزیر

دیکھنا حسرت دیدار اسے کہتے ہیں

پھر گیا منہ تری جانب دم مردن اپنا

خواجہ محمد وزیر

میکدے کو جا کے دیکھ آؤں یہ حسرت دل میں ہے

زاہد اس مٹی کی الفت میری آب و گل میں ہے

حبیب موسوی

میکدے کو جا کے دیکھ آؤں یہ حسرت دل میں ہے

زاہد اس مٹی کی الفت میری آب و گل میں ہے

حبیب موسوی

فقط آنکھیں چراغوں کی طرح سے جل رہی ہیں

کسی کی دسترس میں ہے کہاں کوئی ستارہ

ممتاز اطہر

فقط آنکھیں چراغوں کی طرح سے جل رہی ہیں

کسی کی دسترس میں ہے کہاں کوئی ستارہ

ممتاز اطہر
بولیے