شراب پر تصویری شاعری

اگر آپ کو بس یوں ہی

بیٹھے بیٹھے ذرا سا جھومنا ہے تو شراب شاعری پر ہمارا یہ انتخاب پڑھئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ شراب کی لذت اور اس کے سرور کی ذرا سی مقدار اس شاعری میں بھی اتر آئی ہے ۔ یہ شاعری آپ کو مزہ تو دے گی ہی ،ساتھ میں حیران بھی کرے گی کہ شراب جو بظاہر بے خودی اور سرور بخشتی ہے، شاعری میں کس طرح معنی کی ایک لامحدود کائنات کا استعارہ بن گئی ہے ۔

بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدمؔ (ردیف .. ا)

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں

مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا

مان موسم کا کہا چھائی گھٹا جام اٹھا

شکن نہ ڈال جبیں پر شراب دیتے ہوئے (ردیف .. ا)

پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی (ردیف .. ن)

پیتا ہوں جتنی اتنی ہی بڑھتی ہے تشنگی (ردیف .. ن)

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں

اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں

آئے تھے ہنستے کھیلتے مے خانے میں فراقؔ (ردیف .. ے)

بولیے