حسرتؔ کی بھی قبول ہو متھرا میں حاضری
سنتے ہیں عاشقوں پہ تمہارا کرم ہے آج
جہاں دیکھو وہاں موجود میرا کرشن پیارا ہے
اسی کا سب ہے جلوا جو جہاں میں آشکارا ہے
پیغام حیات جاوداں تھا
ہر نغمۂ کرشن بانسری کا
وہ راتوں رات سری کرشنؔ کو اٹھائے ہوئے
بلا کی قید سے بسدیوؔ کا نکل جانا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں رات کی خاموشی میں بسدیوؔ کا سری کرشنؔ کو اٹھا کر قید سے نکل جانا بیان ہوا ہے۔ “بلا کی قید” ظلم، خوف اور بے بسی کی انتہا کا استعارہ ہے، اور “نکل جانا” نجات و امید کی علامت۔ جذبہ یہ ہے کہ ایمان اور محبت کی قوت انسان کو ناممکن راستوں سے بھی گزار دیتی ہے، گویا معجزہ برپا ہو جاتا ہے۔