دواکر راہی کے اشعار
اب تو اتنی بھی میسر نہیں مے خانے میں
جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں
وقت برباد کرنے والوں کو
وقت برباد کر کے چھوڑے گا
اگر موجیں ڈبو دیتیں تو کچھ تسکین ہو جاتی
کناروں نے ڈبویا ہے مجھے اس بات کا غم ہے
غصے میں برہمی میں غضب میں عتاب میں
خود آ گئے ہیں وہ مرے خط کے جواب میں
وقار خون شہیدان کربلا کی قسم
یزید مورچہ جیتا ہے جنگ ہارا ہے
اس سے پہلے کہ لوگ پہچانیں
خود کو پہچان لو تو بہتر ہے
اس دور ترقی کے انداز نرالے ہیں
ذہنوں میں اندھیرے ہیں سڑکوں پہ اجالے ہیں
اس انتظار میں بیٹھے ہیں ان کی محفل میں
کہ وہ نگاہ اٹھائیں تو ہم سلام کریں
اگر اے ناخدا طوفان سے لڑنے کا دم خم ہے
ادھر کشتی نہ لے آنا یہاں پانی بہت کم ہے
وقت کو بس گزار لینا ہی
دوستو کوئی زندگانی ہے
سوال یہ ہے کہ اس پر فریب دنیا میں
خدا کے نام پہ کس کس کا احترام کریں
عبث الزام مت دو مشکلات راہ کو راہیؔ
تمہارے ہی ارادے میں کمی معلوم ہوتی ہے
عین فطرت ہے کہ جس شاخ پہ پھل آئیں گے
انکساری سے وہی شاخ لچک جائے گی
بہت آسان ہے دو گھونٹ پی لینا تو اے راہیؔ
بڑی مشکل سے آتے ہیں مگر آداب مے خانہ
محبت کر کے خود کو اس قدر مجبور پاتا ہوں
کہ ان کو یاد کرتا ہوں تو خود کو بھول جاتا ہوں
ہزار آپ نصیحت کریں مگر ناصح
جسے قبول کرے دل وہی مناسب ہے
اپنا کہہ کر مجھے اک بار پکاریں تو سہی
زندگی بھر کے لئے آپ کا ہو جاؤں گا
مایوس کس لئے ہو پرستار راہ حق
باطل کی فتح ہوتی ہے کچھ دیر کے لئے
غرور حسن کا عالم تو دیکھیے راہیؔ
کسی سے بات بھی کرنا ہے ناگوار انہیں
کتابوں کو پڑھا جائے تو ان کے ساتھ اے راہیؔ
ضروری ہے کتاب زندگی کو بھی پڑھا جائے
اس جرم کی کہ میں نے کسی سے دغا نہ کی
ہے یہ سزا کہ مجھ سے کسی نے وفا نہ کی
خموشی سے اگر کچھ کہنا بہتر ہے تو پھر کہئے
وگرنہ آپ کا یہ فرض ہے خاموش ہی رہئے
گر گئی قرب کی دیوار تو محسوس ہوا
میں ترا جسم نہیں تھا میں ترا سایہ تھا
جا کم سے کم نماز تو پڑھ بت کدے میں شیخ
خوشنودیٔ مزاج برہمن کے واسطے