Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Hafeez Banarasi's Photo'

حفیظ بنارسی

1933 - 2008 | بنارس, انڈیا

اردو کے معروف شاعر، اپنی غزلوں، نظموں اور قومی و ملی شاعری کے منفرد طرزِ اظہار کے سبب پہچانے جاتے ہیں

اردو کے معروف شاعر، اپنی غزلوں، نظموں اور قومی و ملی شاعری کے منفرد طرزِ اظہار کے سبب پہچانے جاتے ہیں

حفیظ بنارسی کے اشعار

11.8K
Favorite

باعتبار

دشمنوں کی جفا کا خوف نہیں

دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں

چلے چلیے کہ چلنا ہی دلیل کامرانی ہے

جو تھک کر بیٹھ جاتے ہیں وہ منزل پا نہیں سکتے

ایک سیتا کی رفاقت ہے تو سب کچھ پاس ہے

زندگی کہتے ہیں جس کو رام کا بن باس ہے

گمشدگی ہی اصل میں یارو راہ نمائی کرتی ہے

راہ دکھانے والے پہلے برسوں راہ بھٹکتے ہیں

سبھی کے دیپ سندر ہیں ہمارے کیا تمہارے کیا

اجالا ہر طرف ہے اس کنارے اس کنارے کیا

کبھی خرد کبھی دیوانگی نے لوٹ لیا

طرح طرح سے ہمیں زندگی نے لوٹ لیا

تدبیر کے دست رنگیں سے تقدیر درخشاں ہوتی ہے

قدرت بھی مدد فرماتی ہے جب کوشش انساں ہوتی ہے

کس منہ سے کریں ان کے تغافل کی شکایت

خود ہم کو محبت کا سبق یاد نہیں ہے

وفا نظر نہیں آتی کہیں زمانے میں

وفا کا ذکر کتابوں میں دیکھ لیتے ہیں

جو پردوں میں خود کو چھپائے ہوئے ہیں

قیامت وہی تو اٹھائے ہوئے ہیں

میں نے آباد کیے کتنے ہی ویرانے حفیظؔ

زندگی میری اک اجڑی ہوئی محفل ہی سہی

ملے فرصت تو سن لینا کسی دن

مرا قصہ نہایت مختصر ہے

یہ کس مقام پہ لائی ہے زندگی ہم کو

ہنسی لبوں پہ ہے سینے میں غم کا دفتر ہے

عشق میں معرکۂ قلب و نظر کیا کہئے

چوٹ لگتی ہے کہیں درد کہیں ہوتا ہے

سمجھ کے آگ لگانا ہمارے گھر میں تم

ہمارے گھر کے برابر تمہارا بھی گھر ہے

اس دشمن وفا کو دعا دے رہا ہوں میں

میرا نہ ہو سکا وہ کسی کا تو ہو گیا

کسی کا گھر جلے اپنا ہی گھر لگے ہے مجھے

وہ حال ہے کہ اجالوں سے ڈر لگے ہے مجھے

ہر حقیقت ہے ایک حسن حفیظؔ

اور ہر حسن اک حقیقت ہے

حصار ذات کے دیوار و در میں قید رہے

تمام عمر ہم اپنے ہی گھر میں قید رہے

کچھ اس کے سنور جانے کی تدبیر نہیں ہے

دنیا ہے تری زلف گرہ گیر نہیں ہے

آسان نہیں مرحلۂ ترک وفا بھی

مدت ہوئی ہم اس کو بھلانے میں لگے ہیں

اس سے بڑھ کر کیا ملے گا اور انعام جنوں

اب تو وہ بھی کہہ رہے ہیں اپنا دیوانہ مجھے

وہ بات حفیظؔ اب نہیں ملتی کسی شے میں

جلووں میں کمی ہے کہ نگاہوں میں کمی ہے

اک حسن تصور ہے جو زیست کا ساتھی ہے

وہ کوئی بھی منزل ہو ہم لوگ نہیں تنہا

پھول افسردہ بلبلیں خاموش

فصل گل آئی ہے خزاں بر دوش

Recitation

بولیے