Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Muztar Khairabadi's Photo'

مضطر خیرآبادی

1865 - 1927 | گوالیار, انڈیا

معروف فلم نغمہ نگار جاوید اختر کے دادا

معروف فلم نغمہ نگار جاوید اختر کے دادا

مضطر خیرآبادی کے اشعار

32.5K
Favorite

باعتبار

ایک ہم ہیں کہ جہاں جائیں برے کہلائیں

ایک وہ ہیں کہ جہاں جائیں وہیں اچھے ہیں

جفا سے انہوں نے دیا دل پہ داغ

مکمل وفا کی سند ہو گئی

کچھ نہ پوچھو کہ کیوں گیا کعبے

ان بتوں کو سلام کرنا تھا

پڑ گئے زلفوں کے پھندے اور بھی

اب تو یہ الجھن ہے چندے اور بھی

دم دے دیا ہے کس رخ روشن کی یاد میں

مرنے کے بعد بھی مرے چہرے پہ نور تھا

نگاہ یار مل جاتی تو ہم شاگرد ہو جاتے

ذرا یہ سیکھ لیتے دل کے لے لینے کا ڈھب کیا ہے

بازو پہ رکھ کے سر جو وہ کل رات سو گیا

آرام یہ ملا کہ مرا ہات سو گیا

تڑپ ہی تڑپ رہ گئی صرف باقی

یہ کیا لے لیا میرے پہلو سے تو نے

صبح تک کون جئے گا شب تنہائی میں

دل ناداں تجھے امید سحر ہے بھی تو کیا

بت کدہ میں تو تجھے دیکھ لیا کرتا تھا

خاص کعبے میں تو صورت بھی دکھائی نہ گئی

زلف کا حال تک کبھی نہ سنا

کیوں پریشاں مرا دماغ ہوا

وہ مذاق عشق ہی کیا کہ جو ایک ہی طرف ہو

مری جاں مزا تو جب ہے کہ تجھے بھی کل نہ آئے

میرا رنگ روپ بگڑ گیا مرا یار مجھ سے بچھڑ گیا

جو چمن خزاں سے اجڑ گیا میں اسی کی فصل بہار ہوں

کچھ تمہیں تو ایک دنیا میں نہیں

اور بھی ہیں سیکڑوں اس نام کے

وہ کریں گے وصل کا وعدہ وفا

رنگ گہرے ہیں ہماری شام کے

تیری رحمت کا نام سن سن کر

مبتلا ہو گیا گناہوں میں

حسینوں پر نہیں مرتا میں اس حسرت میں مرتا ہوں

کہ ایسے ایسے لوگوں کے لیے ظالم قضا کیوں ہے

اک ہم ہیں کہ ہم نے تمہیں معشوق بنایا

اک تم ہو کہ تم نے ہمیں رکھا نہ کہیں کا

پہلے ہم میں تھے اور اب ہم سے جدا رہتے ہیں

آپ کاہے کو غریبوں سے خفا رہتے ہیں

مرے ان کے تعلق پر کوئی اب کچھ نہیں کہتا

خدا کا شکر سب کے منہ میں تالے پڑتے جاتے ہیں

طریق یاد ہے پہلے سے دل لگانے کا

اسی کا میں بھی ہوں مجنوں تھا جس گھرانے کا

خدا بھی جب نہ ہو معلوم تب جانو مٹی ہستی

فنا کا کیا مزا جب تک خدا معلوم ہوتا ہے

اک ہم کہ ہم کو صبح سے ہے شام کی خوشی

اک تم کہ تم کو شام کا دھڑکا سحر سے ہے

اس سے کہہ دو کہ وہ جفا نہ کرے

کہیں مجھ سا اسے خدا نہ کرے

جگانے چٹکیاں لینے ستانے کون آتا ہے

یہ چھپ کر خواب میں اللہ جانے کون آتا ہے

اک صدمۂ محبت اک صدمۂ جدائی

گنتی کے دو ہیں لیکن لاکھوں کی جان پر ہیں

یوں کہیں ڈوب کے مر جاؤں تو اچھا ہے مگر

آپ کی چاہ کا پانی نہیں بھرنا مجھ کو

وقت دو مجھ پر کٹھن گزرے ہیں ساری عمر میں

اک ترے آنے سے پہلے اک ترے جانے کے بعد

تشریح

یہ شعر اردو کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ اس شعر کا بنیادی مضمون انتظار اور ہجر ہے۔ اگرچہ ایک عام انسان پر زندگی میں کئی بار اور کئی شکلوں میں مشکل وقت آن پڑتا ہے مگر اس شعر میں ایک عاشق کی نفسیات کو مدِ نظر رکھ کر شاعر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایک عاشق پر ساری عمر میں دو وقت بہت کٹھن ہوتے ہیں۔ ایک وقت وہ جب عاشق اپنے محبوب کے آنے کا انتظار کرتا ہے اور دوسرا وہ وقت جب اس کا محبوب اس سے دور چلا جاتا ہے۔ اسی لئے کہا ہے کہ میری زندگی میں اے میرے محبوب دو کٹھن زمانے گزرے ہیں۔ ایک وہ جب میں تمہارا انتظار کرتا ہے اور دوسرا وہ جب تم مجھے فراق کی حالت میں چھوڑ کے چلے جاتے ہو۔ ظاہر ہے کہ دونوں عالم عذاب دہ ہیں۔ انتظار کا عالم ہو یا جدائی کا دونوں میں عاشق کی جان تڑپتی ہے۔

شفق سوپوری

وہ گلے سے لپٹ کے سوتے ہیں

آج کل گرمیاں ہیں جاڑوں میں

کیا اثر خاک تھا مجنوں کے پھٹے کپڑوں میں

ایک ٹکڑا بھی تو لیلیٰ کا گریباں نہ ہوا

ان میں جلوہ خدا کا دیکھا ہے

رات دن کیوں صنم صنم نہ کریں

بن جائیں میری طرز فنا کی کہانیاں

ایسا مٹا کہ صاحب‌ نام و نشاں رہوں

صدمہ بت کافر کی محبت کا نہ پوچھو

یہ چوٹ تو کعبے ہی کے پتھر سے لگی ہے

نہ رو اتنا پرائے واسطے اے دیدۂ گریاں

کسی کا کچھ نہیں جاتا تری بینائی جاتی ہے

حال اس نے ہمارا پوچھا ہے

پوچھنا اب ہمارے حال کا کیا

ساقی تری نظر تو قیامت سی ڈھا گئی

ٹھوکر لگی تو شیشۂ توبہ بھی چور تھا

وقت آرام کا نہیں ملتا

کام بھی کام کا نہیں ملتا

ان کو آتی تھی نیند اور مجھ کو

اپنا قصہ تمام کرنا تھا

ہمارے میکدے میں خیر سے ہر چیز رہتی ہے

مگر اک تیس دن کے واسطے روزے نہیں رہتے

حسرتوں کو کوئی کہاں رکھے

دل کے اندر قیام ہے تیرا

اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے

کہاں گیا مرا بچپن خراب کر کے مجھے

حسرت دید کی دنیا میں گنا جاتا ہے

میرا ٹوٹا ہوا دل بھی ترے سامانوں میں

پھونکے دیتا ہے کسی کا سوز پنہانی مجھے

اب تو میری آنکھ بھی دیتی نہیں پانی مجھے

نہ وہ پوچھے نہ دوا دے نہ وہ دیکھے نہ وہ آئے

درد دل ہے بھی تو کیا درد جگر ہے بھی تو کیا

وہ کہتے ہیں یہ ساری بے وفائی ہے محبت کی

نہ مضطرؔ بے وفا میں ہوں نہ مضطرؔ بے وفا تم ہو

مسیحا جا رہا ہے دوڑ کر آواز دو مضطرؔ

کہ دل کو دیکھتا جا جس میں چھالے پڑتے جاتے ہیں

تیرے گھر آئیں تو ایمان کو کس پر چھوڑیں

ہم تو کعبے ہی میں اے دشمن دیں اچھے ہیں

اے چشم یار موت کا پہلو بچا کے تو

ایسی نگاہ ڈال کہ میں نیم جاں رہوں

آئنہ دیکھ کر غرور فضول

بات وہ کر جو دوسرا نہ کرے

تیری الجھی ہوئی باتوں سے مرا دل الجھا

تیرے بکھرے ہوئے بالوں نے پریشان کیا

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے