aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ناظر وحید کے اشعار

رنگ درکار تھے ہم کو تری خاموشی کے

ایک آواز کی تصویر بنانی تھی ہمیں

مجھ سے زیادہ کون تماشہ دیکھ سکے گا

گاندھی جی کے تینوں بندر میرے اندر

پڑھنے والا بھی تو کرتا ہے کسی سے منسوب

سبھی کردار کہانی کے نہیں ہوتے ہیں

دیکھنے والے تجھے دیکھتے ہوں گے لیکن

دیکھنے والوں کو حیرت بھی تو ہوتی ہوگی

لکھتے لکھتے ہی لڑی آنکھ جو رانی سے مری

پھر تو راجا کو نکلنا تھا کہانی سے مری

شعر کی طرح جو ہوتے ہیں مکمل کچھ لوگ

وہ بنا مصرع ثانی کے نہیں ہوتے ہیں

اک نئے غم سے کنارا بھی تو ہو سکتا ہے

عشق پھر ہم کو دوبارا بھی تو ہو سکتا ہے

حوصلے درد بیانی کے نہیں ہوتے ہیں

اب یہاں لفظ معانی کے نہیں ہوتے ہیں

اس کے ہونٹوں پہ شکایت بھی تو ہوتی ہوگی

دل لگانے کی یہ صورت بھی تو ہوتی ہوگی

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے