اب جان جسم خاکی سے تنگ آ گئی بہت
کب تک اس ایک ٹوکری مٹی کو ڈھویئے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر جان اور جسم کے تضاد کو دکھاتا ہے: جسمِ خاکی ایک بوجھ بن گیا ہے اور جان اس کی قید سے تنگ ہے۔ “ٹوکری مٹی” کہہ کر بدن کو محض مٹی کا ڈھیر بتایا گیا ہے، جو آخرکار خاک میں مل جانا ہے۔ اس میں تھکن، بےزاری اور رہائی کی خواہش کی گہری کیفیت ہے۔
-
موضوعات : بے ثباتیاور 1 مزید
مرے اشعار ہیں وہ آسمانی خواب جن کو
مری مٹی کے ہونٹھوں پر اتارا جا رہا ہے
-
موضوعات : خواباور 1 مزید
اک آیت وجود ہوں مٹی کے ڈھیر میں
میرے نزول کی تو کوئی شان ہی نہیں