Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نشہ پر اشعار

نشہ پر شاعری موضوعاتی

طور پر بہت متنوع ہے ۔ اس میں نشہ کی حالت کے تجربات اور کیفیتوں کا بیان بھی ہے اور نشہ کو لے کر زاہد وناصح سے روایتی چھیڑ چھاڑ بھی ۔ اس شاعری میں مے کشوں کے لئے بھی کئی دلچسپ پہلو ہیں ۔ ہمارے اس انتخاب کو پڑھئے اور لطف اٹھائیے ۔

چلے تو پاؤں کے نیچے کچل گئی کوئی شے

نشے کی جھونک میں دیکھا نہیں کہ دنیا ہے

شہاب جعفری

اتنی پی جائے کہ مٹ جائے میں اور تو کی تمیز

یعنی یہ ہوش کی دیوار گرا دی جائے

فرحت شہزاد

نہ تم ہوش میں ہو نہ ہم ہوش میں ہیں

چلو مے کدہ میں وہیں بات ہوگی

بشیر بدر

ترک مے ہی سمجھ اسے ناصح

اتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتی

شکیل بدایونی

ہم انتظار کریں ہم کو اتنی تاب نہیں

پلا دو تم ہمیں پانی اگر شراب نہیں

نوح ناروی

لوگ کہتے ہیں رات بیت چکی

مجھ کو سمجھاؤ! میں شرابی ہوں

ساغر صدیقی

خشک باتوں میں کہاں ہے شیخ کیف زندگی

وہ تو پی کر ہی ملے گا جو مزا پینے میں ہے

عرش ملسیانی

اے گردشو تمہیں ذرا تاخیر ہو گئی

اب میرا انتظار کرو میں نشے میں ہوں

گنیش بہاری طرز

مے خانۂ یورپ کے دستور نرالے ہیں

لاتے ہیں سرور اول دیتے ہیں شراب آخر

یورپ کے مے خانے کے طریقے بہت انوکھے ہیں۔

وہ پہلے سرور دے دیتے ہیں، پھر آخر میں شراب تھماتے ہیں۔

علامہ اقبال نے مے خانہ کو یورپی تہذیب و معاشرے کی علامت بنایا ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ وہاں ظاہری چمک اور فوری لذت پہلے دکھائی جاتی ہے، مگر اصل سبب اور اس کی قیمت بعد میں سامنے آتی ہے۔ یعنی اثر پہلے، علت بعد میں—یہی اس “دستور” کی نرالی چال ہے۔ شعر میں فریبِ ظاہر اور تہذیبی تنقید کی کاٹ محسوس ہوتی ہے۔

علامہ اقبال

عالم سے بے خبر بھی ہوں عالم میں بھی ہوں میں

ساقی نے اس مقام کو آساں بنا دیا

اصغر گونڈوی

مری شراب کی توبہ پہ جا نہ اے واعظ

نشے کی بات نہیں اعتبار کے قابل

حفیظ جونپوری

ناصح خطا معاف سنیں کیا بہار میں

ہم اختیار میں ہیں نہ دل اختیار میں

منشی امیر اللہ تسلیم

یہ واقعہ مری آنکھوں کے سامنے کا ہے

شراب ناچ رہی تھی گلاس بیٹھے رہے

سعید قیس

یہاں کوئی نہ جی سکا نہ جی سکے گا ہوش میں

مٹا دے نام ہوش کا شراب لا شراب لا

مدن پال

نشہ تھا زندگی کا شرابوں سے تیز تر

ہم گر پڑے تو موت اٹھا لے گئی ہمیں

عرفان احمد

اتنی پی ہے کہ بعد توبہ بھی

بے پیے بے خودی سی رہتی ہے

ریاضؔ خیرآبادی

آنکھوں کو دیکھتے ہی بولے

بن پئے کوئی مدہوش آیا

مینا کماری ناز

اب میں حدود ہوش و خرد سے گزر گیا

ٹھکراؤ چاہے پیار کرو میں نشے میں ہوں

گنیش بہاری طرز

یہ واعظ کیسی بہکی بہکی باتیں ہم سے کرتے ہیں

کہیں چڑھ کر شراب عشق کے نشے اترتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

تا مرگ مجھ سے ترک نہ ہوگی کبھی نماز

پر نشۂ شراب نے مجبور کر دیا

آغا اکبرآبادی

نشہ ٹوٹا نہیں ہے مار کھا کر

کہ ہم نے پی ہے کم کھائی بہت ہے

عزیز احمد

مے کدے میں نشہ کی عینک دکھاتی ہے مجھے

آسماں مست و زمیں مست و در و دیوار مست

حیدر علی آتش

نشے میں سوجھتی ہے مجھے دور دور کی

ندی وہ سامنے ہے شراب طہور کی

نظم طبا طبائی

توبہ بھی کر لی تھی یہ بھی نشہ کی تھی اک ترنگ

آپ سمجھے تھے کہ بیخودؔ پارسا ہو جائے گا

بیخود دہلوی

مست ہیں نشۂ جوانی سے

کیا خبر آپ کو کسی دل کی

محشر لکھنوی
بولیے