Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Akhtar Hoshiyarpuri's Photo'

اختر ہوشیارپوری

1918 - 2007 | راول پنڈی, پاکستان

معروف شاعر،اپنے نعتیہ کلام کے لیے بھی جانے جاتے ہیں، حکومت پاکستان کے اعزاز’ تمغۂ امتیاز ‘سے سرفراز

معروف شاعر،اپنے نعتیہ کلام کے لیے بھی جانے جاتے ہیں، حکومت پاکستان کے اعزاز’ تمغۂ امتیاز ‘سے سرفراز

اختر ہوشیارپوری کے اشعار

8.1K
Favorite

باعتبار

کچے مکان جتنے تھے بارش میں بہہ گئے

ورنہ جو میرا دکھ تھا وہ دکھ عمر بھر کا تھا

لوگ نظروں کو بھی پڑھ لیتے ہیں

اپنی آنکھوں کو جھکائے رکھنا

نہ جانے لوگ ٹھہرتے ہیں وقت شام کہاں

ہمیں تو گھر میں بھی رکنے کا حوصلا نہ ہوا

اخترؔ گزرتے لمحوں کی آہٹ پہ یوں نہ چونک

اس ماتمی جلوس میں اک زندگی بھی ہے

چمن کے رنگ و بو نے اس قدر دھوکا دیا مجھ کو

کہ میں نے شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی

وہ پیڑ تو نہیں تھا کہ اپنی جگہ رہے

ہم شاخ تو نہیں تھے مگر پھر بھی کٹ گئے

کب دھوپ چلی شام ڈھلی کس کو خبر ہے

اک عمر سے میں اپنے ہی سائے میں کھڑا ہوں

میں نے جو خواب ابھی دیکھا نہیں ہے اخترؔ

میرا ہر خواب اسی خواب کی تعبیر بھی ہے

وہ کم سخن تھا مگر ایسا کم سخن بھی نہ تھا

کہ سچ ہی بولتا تھا جب بھی بولتا تھا بہت

تھی تتلیوں کے تعاقب میں زندگی میری

وہ شہر کیا ہوا جس کی تھی ہر گلی میری

میلے کپڑوں کا اپنا رنگ بھی تھا

پھر بھی قسمت میں جگ ہنسائی تھی

گزرتے وقت نے کیا کیا نہ چارہ سازی کی

وگرنہ زخم جو اس نے دیا تھا کاری تھا

وہ شاید کوئی سچی بات کہہ دے

اسے پھر بد گماں کرنا پڑا ہے

روح کی گہرائی میں پاتا ہوں پیشانی کے زخم

صرف چاہا ہی نہیں میں نے اسے پوجا بھی ہے

کیا لوگ ہیں کہ دل کی گرہ کھولتے نہیں

آنکھوں سے دیکھتے ہیں مگر بولتے نہیں

اے جلتی رتو گواہ رہنا

ہم ننگے پاؤں چل رہے ہیں

الماری میں تصویریں رکھتا ہوں

اب بچپن اور بڑھاپا ایک ہوئے

دھوپ کی گرمی سے اینٹیں پک گئیں پھل پک گئے

اک ہمارا جسم تھا اختر جو کچا رہ گیا

ہمیں خبر ہے کوئی ہم سفر نہ تھا پھر بھی

یقیں کی منزلیں طے کیں گماں کے ہوتے ہوئے

کچھ اتنے ہو گئے مانوس سناٹوں سے ہم اخترؔ

گزرتی ہے گراں اپنی صدا بھی اب تو کانوں پر

مری گلی کے مکیں یہ مرے رفیق سفر

یہ لوگ وہ ہیں جو چہرے بدلتے رہتے ہیں

یہی دن میں ڈھلے گی رات اخترؔ

یہی دن کا اجالا رات ہوگا

ہوا میں خوشبوئیں میری پہچان بن گئی تھیں

میں اپنی مٹی سے پھول بن کر ابھر رہا تھا

زلزلہ آیا تو دیواروں میں دب جاؤں گا

لوگ بھی کہتے ہیں یہ گھر بھی ڈراتا ہے مجھے

کسے خبر کہ گہر کیسے ہاتھ آتے ہیں

سمندروں سے بھی گہری ہے خامشی میری

یہ سرگزشت زمانہ یہ داستان حیات

ادھوری بات میں بھی رہ گئی کمی میری

سیلاب امنڈ کے شہر کی گلیوں میں آ گئے

لیکن غریب شہر کا دامن نہ تر ہوا

جس قدر نیچے اترتا ہوں میں

جھیل بھی گہری ہوئی جاتی ہے

کسی سے مجھ کو گلہ کیا کہ کچھ کہوں اخترؔ

کہ میری ذات ہی خود راستے کا پتھر ہے

میں اپنی ذات کی تشریح کرتا پھرتا تھا

نہ جانے پھر کہاں آواز کھو گئی میری

پرانے خوابوں سے ریزہ ریزہ بدن ہوا ہے

یہ چاہتا ہوں کہ اب نیا کوئی خواب دیکھوں

تمام حرف مرے لب پہ آ کے جم سے گئے

نہ جانے میں کہا کیا اور اس نے سمجھا کیا

سر پہ طوفان بھی ہے سامنے گرداب بھی ہے

میری ہمت کہ وہی کچا گھڑا ہے دیکھو

دیکھا ہے یہ پرچھائیں کی دنیا میں کہ اکثر

اپنے قد و قامت سے بھی کچھ لوگ بڑے ہیں

خواہشیں خون میں اتری ہیں صحیفوں کی طرح

ان کتابوں میں ترے ہاتھ کی تحریر بھی ہے

شاید اپنا ہی تعاقب ہے مجھے صدیوں سے

شاید اپنا ہی تصور لئے جاتا ہے مجھے

یہ کیا کہ مجھ کو چھپایا ہے میری نظروں سے

کبھی تو مجھ کو مرے سامنے بھی لائے وہ

میں اب بھی رات گئے اس کی گونج سنتا ہوں

وہ حرف کم تھا بہت کم مگر صدا تھا بہت

وہی مٹی ہے سب کے چہروں پر

آئنہ سب سے با خبر ہے یہاں

ٹکرا کے سر کو اپنا لہو آپ چاٹتے

اچھا ہوا کہ دشت میں دیوار و در نہ تھے

بارہا ٹھٹھکا ہوں خود بھی اپنا سایہ دیکھ کر

لوگ بھی کترائے کیا کیا مجھ کو تنہا دیکھ کر

کچھ مجھے بھی یہاں قرار نہیں

کچھ ترا غم بھی در بہ در ہے یہاں

زندگی مرگ طلب ترک طلب اخترؔ نہ تھی

پھر بھی اپنے تانے بانے میں مجھے الجھا گئی

زمانہ اپنی عریانی پہ خوں روئے گا کب تک

ہمیں دیکھو کہ اپنے آپ کو اوڑھے ہوئے ہیں

وہ بھی سچ کہتے ہیں اخترؔ لوگ بیگانے ہوئے

ہم بھی سچے ہیں کہ دنیا کا چلن ایسا نہ تھا

یہ کہیں عمر گزشتہ تو نہیں تم تو نہیں

کوئی پھرتا ہے سر شہر وفا آوارہ

نکل کر آ گئے ہیں جنگلوں میں

مکاں کو لا مکاں کرنا پڑا ہے

Recitation

بولیے