aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Imdad Imam Asar's Photo'

امداد امام اثر

1849 - 1933 | پٹنہ, انڈیا

اپنی رجحان ساز تنقیدی کتاب "کاشف الحقائق" کے لیے مشہور

اپنی رجحان ساز تنقیدی کتاب "کاشف الحقائق" کے لیے مشہور

امداد امام اثر کے اشعار

2.2K
Favorite

باعتبار

افسوس عمر کٹ گئی رنج و ملال میں

دیکھا نہ خواب میں بھی جو کچھ تھا خیال میں

آئنہ دیکھ کے فرماتے ہیں

کس غضب کی ہے جوانی میری

دوستی کی تم نے دشمن سے عجب تم دوست ہو

میں تمہاری دوستی میں مہرباں مارا گیا

مشکل کا سامنا ہو تو ہمت نہ ہاریے

ہمت ہے شرط صاحب ہمت سے کیا نہ ہو

تڑپ تڑپ کے تمنا میں کروٹیں بدلیں

نہ پایا دل نے ہمارے قرار ساری رات

جب نہیں کچھ اعتبار زندگی

اس جہاں کا شاد کیا ناشاد کیا

تمہارے عاشقوں میں بے قراری کیا ہی پھیلی ہے

جدھر دیکھو جگر تھامے ہوئے دو چار بیٹھے ہیں

کچھ سمجھ کر اس مۂ خوبی سے کی تھی دوستی

یہ نہ سمجھے تھے کہ دشمن آسماں ہو جائے گا

عبادت خدا کی بہ امید حور

مگر تجھ کو زاہد حیا کچھ نہیں

اس طرف اٹھتے نہیں ہاتھ جدھر سب کچھ ہے

اس طرف دوڑتے ہیں پاؤں جدھر کچھ بھی نہیں

دل سے کیا پوچھتا ہے زلف گرہ گیر سے پوچھ

اپنے دیوانے کا احوال تو زنجیر سے پوچھ

دل نہ دیتے اسے تو کیا کرتے

اے اثرؔ دکھ ہمیں اٹھانا تھا

ساتھ دنیا کا نہیں طالب دنیا دیتے

اپنے کتوں کو یہ مردار لیے پھرتی ہے

دل کی حالت سے خبر دیتی ہے

اثرؔ آشفتہ بیانی میری

خوب و زشت جہاں کا فرق نہ پوچھ

موت جب آئی سب برابر تھا

پا رہا ہے دل مصیبت کے مزے

آئے لب پر شکوۂ بیداد کیا

کیسا آنا کیسا جانا میرے گھر کیا آؤ گے

غیروں کے گھر جانے سے تم فرصت کس دن پاتے ہو

اب جہاں پر ہے شیخ کی مسجد

پہلے اس جا شراب خانہ تھا

مر ہی کر اٹھیں گے تیرے در سے ہم

آ کے جب بیٹھے تو پھر اٹھ جائیں کیا

خدا جانے اثرؔ کو کیا ہوا ہے

رہا کرتا ہے چپ دو دو پہر تک

گلشن میں کون بلبل نالاں کو دے پناہ

گلچیں و باغباں بھی ہیں صیاد کی طرف

کرتا ہے اے اثرؔ دل خوں گشتہ کا گلہ

عاشق وہ کیا کہ خستۂ تیغ جفا نہ ہو

حسینوں کی جفائیں بھی تلون سے نہیں خالی

ستم کے بعد کرتے ہیں کرم ایسا بھی ہوتا ہے

الٹی کیوں پڑتی ہے تدبیر یہ ہم کیا جانیں

کون الٹ دیتا ہے اس راز کو تدبیر سے پوچھ

بناتے ہیں ہزاروں زخم خنداں خنجر غم سے

دل ناشاد کو ہم اس طرح پر شاد کرتے ہیں

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے