Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Saud Usmani's Photo'

سعود عثمانی

1958 | کراچی, پاکستان

منفرد انداز کے لیے مشہور اور معروف شاعر

منفرد انداز کے لیے مشہور اور معروف شاعر

سعود عثمانی کے اشعار

2.8K
Favorite

باعتبار

حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو

کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو

پکا رستہ کچی سڑک اور پھر پگڈنڈی

جیسے کوئی چلتے چلتے تھک جاتا ہے

جان ہے تو جہان ہے دل ہے تو آرزو بھی ہے

عشق بھی ہو رہے گا پھر جان ابھی بچایئے

یہ جو میں اتنی سہولت سے تجھے چاہتا ہوں

دوست اک عمر میں ملتی ہے یہ آسانی بھی

مجھے یہ سارے مسیحا عزیز ہیں لیکن

یہ کہہ رہے ہیں کہ میں تم سے فاصلہ رکھوں

میں چاہتا ہوں اسے اور چاہنے کے سوا

مرے لیے تو کوئی اور راستا بھی نہیں

سورج کے افق ہوتے ہیں منزل نہیں ہوتی

سو ڈھلتا رہا جلتا رہا چلتا رہا میں

تیری شکست اصل میں میری شکست ہے

تو مجھ سے ایک بار بھی ہارا تو میں گیا

خواہش ہے کہ خود کو بھی کبھی دور سے دیکھوں

منظر کا نظارہ کروں منظر سے نکل کر

ہر ایک جسم میں موجود ہشت پا کی طرح

وبا کا خوف ہے خود بھی کسی وبا کی طرح

تمام عمر یہاں کس کا انتظار ہوا ہے

تمام عمر مرا کون انتظار کرے گا

اتنی سیاہ رات میں اتنی سی روشنی

یہ چاند وہ نہیں مرا مہتاب اور ہے

بہت دنوں میں مرے گھر کی خامشی ٹوٹی

خود اپنے آپ سے اک دن کلام میں نے کیا

ان سے بھی میری دوستی ان سے بھی رنجشیں

سینے میں ایک حلقۂ احباب اور ہے

یہ میری کاغذی کشتی ہے اور یہ میں ہوں

خبر نہیں کہ سمندر کا فیصلہ کیا ہے

سمجھ لیا تھا تجھے دوست ہم نے دھوکے میں

سو آج سے تجھے بار دگر سمجھتے ہیں

یہ تو دنیا بھی نہیں ہے کہ کنارا کر لے

تو کہاں جائے گا اے دل کے ستائے ہوئے شخص

کسی الاؤ کا شعلہ بھڑک کے بولتا ہے

سفر کٹھن ہے مگر ایک بار آخری بار

وہ چاہتا تھا کہ دیکھے مجھے بکھرتے ہوئے

سو اس کا جشن بصد اہتمام میں نے کیا

ہر اک افق پہ مسلسل طلوع ہوتا ہوا

میں آفتاب کے مانند رہ گزار میں تھا

ہر شے سے پلٹ رہی ہیں نظریں

منظر کوئی جم نہیں رہا ہے

نظر تو اپنے مناظر کے رمز جانتی ہے

کہ آنکھ کہہ نہیں سکتی سنی سنائی ہوئی

آخر اک روز اترنی ہے لبادوں کی طرح

تن ملبوس! یہ پہنی ہوئی عریانی بھی

کچھ اور بھی درکار تھا سب کچھ کے علاوہ

کیا ہوگا جسے ڈھونڈتا تھا تیرے سوا میں

مزاج درد کو سب لفظ بھی قبول نہ تھے

کسی کسی کو ترے غم کا استعارہ کیا

ایسا ہے کہ سکوں کی طرح ملک سخن میں

جاری کوئی اک یاد پرانی کریں ہم بھی

یکجائی سے پل بھر کی خود آرائی بھلی تھی

شعلے سے نکل آئے شرارے کی طرح ہم

برون خاک فقط چند ٹھیکرے ہیں مگر

یہاں سے شہر ملیں گے اگر کھدائی ہوئی

کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

Recitation

بولیے