بڑھاپا پر اشعار
بڑھاپا کئی وجہوں سےزندگی
کا ایک سخت ترین مرحلہ ہے۔ ایک وجہ تو یہی ہے کہ آدمی طبعی زندگی کے آخری ایام میں ہوتا ہے اورموت سےبہت قریب ہوجاتا ہے، دوسری وجہ تیزی کے ساتھ جسمانی قوت کا جاتے رہنا ہے لیکن ایک بات اورجوانسان کو ذہنی سطح پرپریشان رکھتی ہے وہ ماضی کا اپنے کل وجود کے ساتھ عود کرآنا ہے۔ یہ ناسٹلجیائی کیفیت زندگی کے اس مرحلےمیں اورزیادہ شدید ہوجاتی ہے۔ شاعری میں بڑھاپے کی ان کربناک کیفیتوں کا الگ الگ طرح سے اظہار ہوا ہے۔ بڑھاپےکوموضوع بنانے والی شاعری کےاوربھی کئی پہلوہیں۔ اس کا خالص عشقیہ اورجنسی سیاق بھی بہت دلچسپ ہے ۔
کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں
جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا
-
موضوعات : جوانیاور 2 مزید
سفر پیچھے کی جانب ہے قدم آگے ہے میرا
میں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں جواں ہونے کی خاطر
میں تو منیرؔ آئینے میں خود کو تک کر حیران ہوا
یہ چہرہ کچھ اور طرح تھا پہلے کسی زمانے میں
-
موضوعات : آئینہاور 1 مزید
دل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اس کو لیکن
عمر بھر کون جواں کون حسیں رہتا ہے
اب جو اک حسرت جوانی ہے
عمر رفتہ کی یہ نشانی ہے
Interpretation:
Rekhta AI
میر تقی میر نے جوانی کی حسرت کو بڑھاپے کی دلیل بنا دیا ہے۔ جب جوانی ہاتھ سے نکل جائے تو اس کی کمی حسرت بن کر سامنے آتی ہے، اور یہی حسرت گزری ہوئی عمر کی نشانی ٹھہرتی ہے۔ شعر میں یادِ ماضی، افسوس اور وقت کے بےرحم گزرنے کا درد نہایت سادگی سے ابھرتا ہے۔
-
موضوع : جوانی
گداز عشق نہیں کم جو میں جواں نہ رہا
وہی ہے آگ مگر آگ میں دھواں نہ رہا
وقت پیری شباب کی باتیں
ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ جب انسان بوڑھا ہو جاتا ہے تو اسے اپنی جوانی کا زمانہ ایک واہمہ سا لگتا ہے۔ جوانی کی رنگینیاں اور طاقت بڑھاپے کی کمزوری کے سامنے اتنی ناقابلِ یقین لگتی ہیں کہ انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ حقیقت نہیں بلکہ کوئی دیکھا ہوا خواب تھا۔
-
موضوعات : جوانیاور 1 مزید
پیری میں ولولے وہ کہاں ہیں شباب کے
اک دھوپ تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے
تلاطم آرزو میں ہے نہ طوفاں جستجو میں ہے
جوانی کا گزر جانا ہے دریا کا اتر جانا
-
موضوعات : آرزواور 3 مزید
خاموش ہو گئیں جو امنگیں شباب کی
پھر جرأت گناہ نہ کی ہم بھی چپ رہے
-
موضوعات : جوانیاور 1 مزید
رخصت ہوا شباب تو اب آپ آئے ہیں
اب آپ ہی بتائیے سرکار کیا کریں
اب وہ پیری میں کہاں عہد جوانی کی امنگ
رنگ موجوں کا بدل جاتا ہے ساحل کے قریب
پیری میں شوق حوصلہ فرسا نہیں رہا
وہ دل نہیں رہا وہ زمانہ نہیں رہا