مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
مجھے معمولی یا آسانی سے سمجھنے والا نہ جانو؛ فلک برسوں گردش کرتا رہتا ہے۔
اسی کے بعد مٹی کے پردے کے پیچھے سے انسان ظاہر ہوتے ہیں۔
میر اس شعر میں انسان کی قدر و قیمت کا احساس دلاتے ہیں کہ کسی کو ہلکا نہ سمجھو۔ فلک کی برسوں کی گردش وقت اور تقدیر کی طویل کاوش کی علامت ہے، اور خاک کا پردہ ہماری حقیر مادی اصل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ حقیقی انسانیت اور کمال ایک دم نہیں بنتا؛ زمانہ اسے گھڑتا ہے۔ لہجہ خودداری کے ساتھ ایک گہری فروتنی بھی رکھتا ہے۔
-
موضوعات : خراجاور 1 مزید
ادھر فلک کو ہے ضد بجلیاں گرانے کی
ادھر ہمیں بھی ہے دھن آشیاں بنانے کی
گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے
وہ چار چاند فلک کو لگا چلا ہوں قمرؔ
کہ میرے بعد ستارے کہیں گے افسانے
فلک پر اڑتے جاتے بادلوں کو دیکھتا ہوں میں
ہوا کہتی ہے مجھ سے یہ تماشا کیسا لگتا ہے
-
موضوعات : ابر شاعریاور 2 مزید
دولت کا فلک توڑ کے عالم کی جبیں پر
مزدور کی قسمت کے ستارے نکل آئے
-
موضوع : مزدور
اجالوں میں چھپی تھی ایک لڑکی
فلک کا رنگ روغن کر گئی ہے
-
موضوع : رنگ
آنسو فلک کی آنکھ سے ٹپکے تمام رات
اور صبح تک زمین کا آنچل بھگو گئے
فلک کی خبر کب ہے نا شاعروں کو
یوں ہی گھر میں بیٹھے ہوا باندھتے ہیں
تھی درد کی جب تک دل میں کھٹک ہلتا تھا فلک لرزاں تھی زمیں
ہم آہیں جس دم بھرتے تھے اک محشر برپا ہوتا تھا
-
موضوعات : آہاور 1 مزید
کبھی اس کی موجوں میں افلاک بہتے ملے ہیں
کبھی اس کو کشتی چلاتے ہوئے دیکھتا ہوں
-
موضوع : کشتی