Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

فلک پر اشعار

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں

تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

مجھے معمولی یا آسانی سے سمجھنے والا نہ جانو؛ فلک برسوں گردش کرتا رہتا ہے۔

اسی کے بعد مٹی کے پردے کے پیچھے سے انسان ظاہر ہوتے ہیں۔

میر اس شعر میں انسان کی قدر و قیمت کا احساس دلاتے ہیں کہ کسی کو ہلکا نہ سمجھو۔ فلک کی برسوں کی گردش وقت اور تقدیر کی طویل کاوش کی علامت ہے، اور خاک کا پردہ ہماری حقیر مادی اصل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ حقیقی انسانیت اور کمال ایک دم نہیں بنتا؛ زمانہ اسے گھڑتا ہے۔ لہجہ خودداری کے ساتھ ایک گہری فروتنی بھی رکھتا ہے۔

میر تقی میر

ادھر فلک کو ہے ضد بجلیاں گرانے کی

ادھر ہمیں بھی ہے دھن آشیاں بنانے کی

نامعلوم

گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں

کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

قتیل شفائی

وہ چار چاند فلک کو لگا چلا ہوں قمرؔ

کہ میرے بعد ستارے کہیں گے افسانے

قمر جلالوی

فلک پر اڑتے جاتے بادلوں کو دیکھتا ہوں میں

ہوا کہتی ہے مجھ سے یہ تماشا کیسا لگتا ہے

عبد الحمید

دولت کا فلک توڑ کے عالم کی جبیں پر

مزدور کی قسمت کے ستارے نکل آئے

نشور واحدی

اجالوں میں چھپی تھی ایک لڑکی

فلک کا رنگ روغن کر گئی ہے

سوپنل تیواری

آنسو فلک کی آنکھ سے ٹپکے تمام رات

اور صبح تک زمین کا آنچل بھگو گئے

ظہیر احمد ظہیر

فلک کی خبر کب ہے نا شاعروں کو

یوں ہی گھر میں بیٹھے ہوا باندھتے ہیں

مصحفی غلام ہمدانی

تھی درد کی جب تک دل میں کھٹک ہلتا تھا فلک لرزاں تھی زمیں

ہم آہیں جس دم بھرتے تھے اک محشر برپا ہوتا تھا

نواب سیف علی سیاف

کبھی اس کی موجوں میں افلاک بہتے ملے ہیں

کبھی اس کو کشتی چلاتے ہوئے دیکھتا ہوں

ممتاز اطہر
بولیے