Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

امرد پرستی پر اشعار

میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

میر کتنے سادے ہیں کہ جس کے باعث بیمار ہوئے، اسی کو سبب سمجھتے ہیں۔

پھر بھی علاج کے لیے اسی عطار کے لڑکے سے دوا لے لیتے ہیں۔

یہ شعر عشق کو بیماری اور محبوب کو دوا کے استعارے میں پیش کرتا ہے۔ میر اپنی سادگی پر طنز کرتے ہیں کہ جس طرف سے زخم ملا، اسی در سے مرہم کی امید بھی باندھ لی۔ “عطار کا لڑکا” محبوب یا اس کے آس پاس کے کسی وسیلے کی طرف اشارہ ہے جو دکھ بھی دیتا ہے اور سہارا بھی وہیں ڈھونڈا جاتا ہے۔ اندرونی کیفیت بے بسی، وابستگی اور خودفریبی کی ہے۔

میر تقی میر

جو لونڈا چھوڑ کر رنڈی کو چاہے

وہ کوئی عاشق نہیں ہے بوالہوس ہے

آبرو شاہ مبارک

کیا اس آتش باز کے لونڈے کا اتنا شوق میر

بہہ چلی ہے دیکھ کر اس کو تمہاری رال کچھ

میر، کیا تمہیں اس آتش باز کے لونڈے سے واقعی اتنی شدید رغبت ہے؟

اسے دیکھتے ہی تمہاری کچھ رال بہنے لگی ہے کیا؟

اس شعر میں بات طنزیہ انداز میں کی گئی ہے کہ خواہش اتنی بے قابو ہو گئی ہے کہ جسمانی علامت، یعنی رال، ظاہر ہو رہی ہے۔ آتش باز کے لونڈے کا ذکر محبوب کو عام اور گلی کوچے کی دنیا سے جوڑ کر مزید حقارت آمیز چوٹ پیدا کرتا ہے۔ یوں چھپی ہوئی رغبت کھل کر رسوائی بن جاتی ہے۔ جذبہ بنیادی طور پر شیفتگی، شہوانیت اور شرمندگی کا ملا جلا تاثر ہے۔

میر تقی میر

حسن تھا تیرا بہت عالم فریب

خط کے آنے پر بھی اک عالم رہا

تمہارا حُسن ایسا دل لُبھانے والا تھا کہ ساری دنیا کو بہکا دے۔

لیکن تمہارا خط آ جانے کے بعد بھی جدائی کی ایک کیفیت باقی رہی۔

میر کے یہاں “عالم” دنیا بھی ہے اور دل کی کیفیت بھی۔ محبوب کا حسن ایسا فریب دیتا ہے کہ جیسے ایک پوری دنیا بنا دے، مگر خط کی آمد کے باوجود دوری کا احساس ختم نہیں ہوتا۔ رابطہ ملتا ہے، پھر بھی تشنگی اور محرومی کا عالم قائم رہتا ہے۔

میر تقی میر

کیفیتیں عطار کے لونڈے میں بہت تھیں

اس نسخے کی کوئی نہ رہی حیف دوا یاد

عطار کے دکان کے لڑکے میں طرح طرح کی ادا اور رنگ بہت تھے۔

مگر افسوس، اس نسخے کی اصل دوا کسی کو یاد نہ رہی۔

یہ شعر دکھاوے اور حقیقت کے تضاد پر طنز ہے۔ عطار کے لونڈے کی “کیفیتیں” یعنی ادا، باتوں کے قرینے اور رنگینی تو نمایاں ہیں، مگر نسخے کی “دوا” یعنی اصل علاج نظر سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ شاعر کو اس بات کا افسوس ہے کہ لوگ شکل و نمود یاد رکھتے ہیں، شفا دینے والی بات بھول جاتے ہیں۔

میر تقی میر

باہم ہوا کریں ہیں دن رات نیچے اوپر

یہ نرم شانے لونڈے ہیں مخمل دو خوابا

ہم دن رات ایک ساتھ رہتے ہیں اور مسلسل نیچے اوپر ہوتے رہتے ہیں۔

یہ نرم کندھوں والے لونڈے دو آدمیوں کے بستر میں مخمل جیسے محسوس ہوتے ہیں۔

یہ شعر جسمانی قربت کو بےتکلف انداز میں بیان کرتا ہے۔ “نیچے اوپر” کی ترکیب مسلسل لَوٹ پلٹ اور وصل کی حرکت کا اشارہ دیتی ہے، جبکہ “مخمل” محبوب کی نرمی، لطافت اور لذّت کو مجسم کر دیتا ہے۔ دن رات کی تکرار سے خواہش کی شدت اور بےقراری نمایاں ہوتی ہے۔ مجموعی فضا سراسر حسّی اور شہوانی ہے۔

میر تقی میر

گر ٹھہرے ملک آگے انھوں کے تو عجب ہے

پھرتے ہیں پڑے دلی کے لونڈے جو پری سے

اگر فرشتے بھی اُن کے سامنے ٹھہر جائیں تو اس میں کوئی بڑی بات نہیں۔

کیونکہ دلی کے لڑکے یوں پھرتے ہیں جیسے وہ خود پری ہوں۔

میر تقی میر نے حُسن اور ناز کو مبالغے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ میں باندھا ہے۔ محبوب یا دلی کے نوجوانوں کی ادا ایسی بتائی گئی ہے کہ فرشتے بھی رک جائیں تو تعجب نہیں۔ دوسری مصرع میں “پری” کہہ کر ان کی بناوٹ، نزاکت اور شوخی پر طنزیہ داد بھی ہے۔ جذبہ حیرت اور شوخی کا ملا جلا رنگ ہے۔

میر تقی میر

دھولا چکے تھے مل کر کل لونڈے میکدے کے

پر سرگراں ہو واعظ جاتا رہا سٹک کر

کل میکدے کے لونڈے مل کر کسی کو خوب مار پیٹ چکے تھے۔

مگر واعظ بےپروا اور مشغول سا بن کر چپکے سے کھسکتا چلا گیا۔

شعر میں طنزیہ انداز سے ریاکاری دکھائی گئی ہے: میکدے کے لوگ کھلے عام زیادتی کر رہے ہیں اور واعظ، جو نصیحت کا دعوے دار ہے، ذمہ داری سے بچنے کو چپکے سے نکل جاتا ہے۔ “سرگراں” کا مطلب ہے جیسے وہ کسی اور دھن میں ہو، تاکہ نظر نہ آئے کہ وہ کچھ دیکھ بھی رہا ہے۔ یوں شاعر مذہبی دعووں اور عملی کمزوری کے تضاد پر چوٹ کرتا ہے۔

میر تقی میر

میر اس قاضی کے لونڈے کے لیے آخر موا

سب کو قضیہ اس کے جینے کا تھا بارے چک گیا

میر کہتا ہے: آخرکار میں اس قاضی کے لونڈے کے سبب مر گیا۔

سب لوگوں کا جھگڑا بس اتنا تھا کہ وہ جیتا کیوں ہے؛ مر گیا تو قضیہ ختم ہو گیا۔

شعر میں تلخ طنز ہے کہ کسی کی زندگی ہی لوگوں کے لیے “مقدمہ” بن جاتی ہے، جیسے اس کے جینے پر ہی اعتراض ہو۔ جونہی موت آتی ہے، وہی شور و غوغا خود بخود دب جاتا ہے اور گویا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ میر نے سماجی سخت دلی اور موت کے ذریعے آنے والی بےرحم آسودگی کو نمایاں کیا ہے۔

میر تقی میر

امرد پرست ہے تو گلستاں کی سیر کر

ہر نونہال رشک ہے یاں خورد سال کا

حیدر علی آتش

یاں تلک خوش ہوں امارد سے کہ اے رب کریم

کاش دے حور کے بدلے بھی تو غلماں مجھ کو

قائم چاندپوری

لیا میں بوسہ بہ زور اس سپاہی زادے کا

عزیزو اب بھی مری کچھ دلاوری دیکھی

مصحفی غلام ہمدانی

ہاتھ چڑھ جائیو اے شیخ کسو کے نہ کبھو

لونڈے سب تیرے خریدار ہیں میخانے کے

اے شیخ، کبھی کسی کے قابو میں نہ آنا اور نہ اپنے آپ کو پکڑوا دینا۔

میخانے کے لونڈے سب تیرے خریدار ہیں، تجھے آسانی سے خرید/پھسلا لیں گے۔

اس شعر میں میر تقی میر نے شیخ کی ظاہر داری پر طنز کیا ہے۔ “ہاتھ چڑھ جانا” یعنی پکڑے جانا یا کسی کے قابو میں آ جانا—یہاں راز کھلنے اور کمزوری سامنے آنے کا اشارہ ہے۔ “میخانے کے لونڈے” اور “خریدار” بتاتے ہیں کہ شیخ کی خواہشات اسے قابلِ خرید بنا دیتی ہیں۔ مرکزی جذبہ یہ ہے کہ وعظ کی سختی اندر کی لغزش کے سامنے بے بس ہو جاتی ہے۔

میر تقی میر
بولیے