تلخیاں خون جگر کی شاعری میں گھول کر
چند مصرعے لائیں ہیں ہم بھی سنانے کے لئے
ڈھونڈ افلاک نئے اور زمینیں بھی نئی
ہو غزل کا تری ہر شعر نیا حرف بہ حرف
مجھ کو تنہا چھوڑنے والے تو نہ کہیں تنہا رہ جائے
جس پر تجھ کو ناز ہے اتنا اس کا نام زمانہ ہے
-
موضوعات : تنہائیاور 1 مزید
جب بھی دیکھا ہے فقط داغ نظر آئے مجھے
کتنی حسرت تھی ترا چاند سا چہرہ دیکھوں
-
موضوعات : چانداور 3 مزید
کربلا تو آج بھی ملتا ہے ہر ہر گام پر
شہر میں لیکن حسین با وفا کوئی نہیں
-
موضوعات : ریختہاور 1 مزید