قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
میرے سینے سے ذرا کان لگا کر دیکھو
سانس چلتی ہے کہ زنجیر زنی ہوتی ہے
ہوائے ظلم سوچتی ہے کس بھنور میں آ گئی
وہ اک دیا بجھا تو سینکڑوں دئیے جلا گیا
بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی
-
موضوع : دعا
پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون
دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون
سانس لیتا ہوں تو روتا ہے کوئی سینے میں
دل دھڑکتا ہے تو ماتم کی صدا آتی ہے
عشرت قتل گہہ اہل تمنا مت پوچھ
عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا
عاشقوں کو اپنے مقتل (قتل ہونے کی جگہ) میں جو خوشی ملتی ہے، اس کا حال مت پوچھو۔
محبوب کی تلوار کا بے نیام ہونا ان کی آنکھوں کے لیے عید کے چاند دیکھنے جیسا ہے۔
مرزا غالب فرماتے ہیں کہ عاشق کے لیے محبوب کے ہاتھوں قتل ہونا انتہا درجے کی خوشی کا مقام ہے۔ جس طرح لوگ عید کے چاند کا نظارہ کرنے کے لیے بے چین ہوتے ہیں، اسی طرح عاشق اس تلوار کو دیکھنے کا مشتاق ہے جو اس کی گردن اڑائے گی۔ یہاں موت خوف نہیں بلکہ جشن کا سماں ہے۔
تا قیامت ذکر سے روشن رہے گی یہ زمیں
ظلمتوں کی شام میں اک روشنی ہے کربلا
ہوائے کوفۂ نا مہرباں کو حیرت ہے
کہ لوگ خیمۂ صبر و رضا میں زندہ ہیں
ساحل تمام اشک ندامت سے اٹ گیا
دریا سے کوئی شخص تو پیاسا پلٹ گیا
-
موضوعات : تشنگیاور 1 مزید
دل ہے پیاسا حسین کے مانند
یہ بدن کربلا کا میداں ہے
کل جہاں ظلم نے کاٹی تھیں سروں کی فصلیں
نم ہوئی ہے تو اسی خاک سے لشکر نکلا
تنہا کھڑا ہوں میں بھی سر کربلائے عصر
اور سوچتا ہوں میرے طرفدار کیا ہوئے
تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش
رہتا ہے سدا چاک گریبان سحر بھی
-
موضوع : شام
تم جو کچھ چاہو وہ تاریخ میں تحریر کرو
یہ تو نیزہ ہی سمجھتا ہے کہ سر میں کیا تھا
ہم سے طے ہوگا زمانے میں بلندی کا وقار
نوک نیزہ سے بھی ہم نیچے نہیں دیکھیں گے
زوال عصر ہے کوفے میں اور گداگر ہیں
کھلا نہیں کوئی در باب التجا کے سوا
مصحفیؔ کرب و بلا کا سفر آسان نہیں
سینکڑوں بصرہ و بغداد میں مر جاتے ہیں
سینہ کوبی سے زمیں ساری ہلا کے اٹھے
کیا علم دھوم سے تیرے شہدا کے اٹھے
ہم نے ماتم میں سینہ کوبی کی تو یوں لگا جیسے ساری زمین لرز اٹھی۔
کیا شان دار دھوم تھی کہ تمہارے شہدا کے علم بلند ہو گئے۔
شعر میں ماتم کی شدت کو مبالغے کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ سینہ کوبی سے زمین ہلتی محسوس ہوتی ہے۔ دوسرے مصرع میں اسی غم کے اندر چھپی عظمت سامنے آتی ہے: شہدا کے علم دھوم سے اٹھتے ہیں، یعنی سوگ بھی ہے اور احترام و سربلندی بھی۔ یوں غم ایک اجتماعی اعلانِ عقیدت بن جاتا ہے۔
کھینچ لائی جانب دریا ہمیں بھی تشنگی
اب گلوئے خشک کا خنجر پہ رم ہونے کو ہے
-
موضوع : تشنگی
میں اسی کوہ صفت خون کی اک بوند ہوں جو
ریگ زار نجف و خاک خراساں سے ملا
شعور تشنگی اک روز میں پختہ نہیں ہوتا
مرے ہونٹوں نے صدیوں کربلا کی خاک چومی ہے
کوئی دریا کی طرف جانے کو تیار نہیں
ہاتھ سب کے ہیں مگر کوئی علم دار نہیں