Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Abdul Hamid Adam's Photo'

عبد الحمید عدم

1909 - 1981 | پاکستان

مقبول عام شاعر، زندگی اور محبت پر مبنی رومانی شاعری کے لیے معروف

مقبول عام شاعر، زندگی اور محبت پر مبنی رومانی شاعری کے لیے معروف

عبد الحمید عدم کے اشعار

69.1K
Favorite

باعتبار

صرف اک قدم اٹھا تھا غلط راہ شوق میں

منزل تمام عمر مجھے ڈھونڈھتی رہی

دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں

دوستوں کی مہربانی چاہئے

دل خوش ہوا ہے مسجد ویراں کو دیکھ کر

میری طرح خدا کا بھی خانہ خراب ہے

تشریح

اس شعر میں شاعر نے خدا سے چھیڑ کی ہے جو اردو غزل کی روایت میں شامل ہے۔ شاعر اللہ پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمہارے بندوں نے تمہاری بندگی چھوڑ دی ہے جس کی وجہ سے مسجد ویران ہوگئی ہے۔ چونکہ تم نے میری تقدیر میں خانہ خرابی لکھی تھی تو اب تمہارا خانہ خراب دیکھ کر میرا دل خوش ہوا ہے۔

شفق سوپوری

بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدمؔ

بارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا

کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں

جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا

جن سے انساں کو پہنچتی ہے ہمیشہ تکلیف

ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اصل خدا والے ہیں

اے غم زندگی نہ ہو ناراض

مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی

شاید مجھے نکال کے پچھتا رہے ہوں آپ

محفل میں اس خیال سے پھر آ گیا ہوں میں

ساقی مجھے شراب کی تہمت نہیں پسند

مجھ کو تری نگاہ کا الزام چاہیئے

میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا

ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا

بڑھ کے طوفان کو آغوش میں لے لے اپنی

ڈوبنے والے ترے ہاتھ سے ساحل تو گیا

اک حسیں آنکھ کے اشارے پر

قافلے راہ بھول جاتے ہیں

مسکراہٹ ہے حسن کا زیور

مسکرانا نہ بھول جایا کرو

تکلیف مٹ گئی مگر احساس رہ گیا

خوش ہوں کہ کچھ نہ کچھ تو مرے پاس رہ گیا

حسن اک دل ربا حکومت ہے

عشق اک قدرتی غلامی ہے

اجازت ہو تو میں تصدیق کر لوں تیری زلفوں سے

سنا ہے زندگی اک خوبصورت دام ہے ساقی

تھوڑی سی عقل لائے تھے ہم بھی مگر عدمؔ

دنیا کے حادثات نے دیوانہ کر دیا

شکن نہ ڈال جبیں پر شراب دیتے ہوئے

یہ مسکراتی ہوئی چیز مسکرا کے پلا

تشریح

جبیں یعنی ماتھا۔ جبیں پر شکن ڈالنے کے کئی معنی ہیں۔ جیسے غصہ کرنا، کسی سے روکھائی سے پیش آنا وغیرہ۔ شاعر اپنے ساقی یعنی محبوب سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ شراب ایک مسکراتی ہوئی چیز ہے اور اسے کسی کو دیتے ہوئے ماتھے پر شکن لانا اچھی بات نہیں کیونکہ اگر ساقی ماتھے پر شکن لاکر کسی کو شراب پلاتا ہے تو پھر اس کا اصلی مزہ جاتا رہتا ہے۔ اس لئے ساقی پر لازم ہے کہ وہ دستورِ مے نے نوشی کا لحاظ کرتے ہوئے پلانے والے کو شراب مسکرا کر پلائے۔

شفق سوپوری

میں عمر بھر جواب نہیں دے سکا عدمؔ

وہ اک نظر میں اتنے سوالات کر گئے

وہ ملے بھی تو اک جھجھک سی رہی

کاش تھوڑی سی ہم پئے ہوتے

ذرا اک تبسم کی تکلیف کرنا

کہ گلزار میں پھول مرجھا رہے ہیں

یہ الگ بات ہے ساقی کہ مجھے ہوش نہیں

ہوش اتنا ہے کہ میں تجھ سے فراموش نہیں

جب ترے نین مسکراتے ہیں

زیست کے رنج بھول جاتے ہیں

کون انگڑائی لے رہا ہے عدمؔ

دو جہاں لڑکھڑائے جاتے ہیں

میں بد نصیب ہوں مجھ کو نہ دے خوشی اتنی

کہ میں خوشی کو بھی لے کر خراب کر دوں گا

جن کو دولت حقیر لگتی ہے

اف وہ کتنے امیر ہوتے ہیں

چھوڑا نہیں خودی کو دوڑے خدا کے پیچھے

آساں کو چھوڑ بندے مشکل کو ڈھونڈتے ہیں

ہم نے تمہارے بعد نہ رکھی کسی سے آس

اک تجربہ بہت تھا بڑے کام آ گیا

سوال کر کے میں خود ہی بہت پشیماں ہوں

جواب دے کے مجھے اور شرمسار نہ کر

لوگ کہتے ہیں کہ تم سے ہی محبت ہے مجھے

تم جو کہتے ہو کہ وحشت ہے تو وحشت ہوگی

ہم کو شاہوں کی عدالت سے توقع تو نہیں

آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

ساقی ذرا نگاہ ملا کر تو دیکھنا

کمبخت ہوش میں تو نہیں آ گیا ہوں میں

مرنے والے تو خیر ہیں بے بس

جینے والے کمال کرتے ہیں

مے کدہ ہے یہاں سکوں سے بیٹھ

کوئی آفت ادھر نہیں آتی

حد سے بڑھ کر حسین لگتے ہو

جھوٹی قسمیں ضرور کھایا کرو

پہلے بڑی رغبت تھی ترے نام سے مجھ کو

اب سن کے ترا نام میں کچھ سوچ رہا ہوں

بعض اوقات کسی اور کے ملنے سے عدمؔ

اپنی ہستی سے ملاقات بھی ہو جاتی ہے

تخلیق کائنات کے دلچسپ جرم پر

ہنستا تو ہوگا آپ بھی یزداں کبھی کبھی

شوقیہ کوئی نہیں ہوتا غلط

اس میں کچھ تیری رضا موجود ہے

کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ

ہم بھی نہ ڈوب جائیں کہیں نا خدا کے ساتھ

یہ کیا کہ تم نے جفا سے بھی ہاتھ کھینچ لیا

مری وفاؤں کا کچھ تو صلہ دیا ہوتا

کبھی تو دیر و حرم سے تو آئے گا واپس

میں مے کدے میں ترا انتظار کر لوں گا

سب کو پہنچا کے ان کی منزل پر

آپ رستے میں رہ گیا ہوں میں

پھر آج عدمؔ شام سے غمگیں ہے طبیعت

پھر آج سر شام میں کچھ سوچ رہا ہوں

دیکھا ہے کس نگاہ سے تو نے ستم ظریف

محسوس ہو رہا ہے میں غرق شراب ہوں

چھپ چھپ کے جو آتا ہے ابھی میری گلی میں

اک روز مرے ساتھ سر عام چلے گا

ہر دل فریب چیز نظر کا غبار ہے

آنکھیں حسین ہوں تو خزاں بھی بہار ہے

محشر میں اک سوال کیا تھا کریم نے

مجھ سے وہاں بھی آپ کی تعریف ہو گئی

بولے کوئی ہنس کر تو چھڑک دیتے ہیں جاں بھی

لیکن کوئی روٹھے تو منایا نہیں جاتا

زندگی ہے اک کرائے کی خوشی

سوکھتے تالاب کا پانی ہوں میں

Recitation

بولیے