Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mohammad Rafi Sauda's Photo'

محمد رفیع سودا

1713 - 1781 | دلی, انڈیا

اٹھارہویں صدی کے عظیم شاعروں میں شامل، میر تقی میر کے ہم عصر

اٹھارہویں صدی کے عظیم شاعروں میں شامل، میر تقی میر کے ہم عصر

محمد رفیع سودا کے اشعار

14.6K
Favorite

باعتبار

جب یار نے اٹھا کر زلفوں کے بال باندھے

تب میں نے اپنے دل میں لاکھوں خیال باندھے

فکر معاش عشق بتاں یاد رفتگاں

اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کیا کرے

نہ کر سوداؔ تو شکوہ ہم سے دل کی بے قراری کا

محبت کس کو دیتی ہے میاں آرام دنیا میں

کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سوداؔ

ساغر کو مرے ہاتھ سے لیجو کہ چلا میں

ساقی گئی بہار رہی دل میں یہ ہوس

تو منتوں سے جام دے اور میں کہوں کہ بس

سوداؔ جو بے خبر ہے وہی یاں کرے ہے عیش

مشکل بہت ہے ان کو جو رکھتے ہیں آگہی

سوداؔ تو اس غزل کو غزل در غزل ہی کہہ

ہونا ہے تجھ کو میرؔ سے استاد کی طرف

سوداؔ جو ترا حال ہے اتنا تو نہیں وہ

کیا جانیے تو نے اسے کس آن میں دیکھا

تشریح

سوداؔ کے اس شعر میں لفظ ’جو‘ اتنا تو نہیں وہ ’’اسے‘‘ اور کس آن ہم ہیں۔ ’’وہ‘‘ اور ’’اسے‘‘ اشارہ محبوب کی طرف ہے۔ شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہیں کہ سودا جو ترا حال ہے اتنا وہ یعنی تیرا محبوب نہیں ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ تونے اسے کس وقت دیکھا ہے۔

لیکن جب دور کے معنی پر غور کرتے ہیں تو خیال کی ایک صورت حال ابھرتی ہے ۔ اس صورت حال کے دو کردار ہیں ایک سودا دوسرا متکلم یعنی سوداؔ سے بات کرنے والاا۔ یہ سودا کا کوئی دوست بھی ہو سکتا ہے یا خد سوداؔ بھی۔

بہر حال جو بھی ہے وہ سوداؔ سے یہ کہتا ہے کہ اے سوداؔ تونے جس معشوق کے غم میں اپنا یہ حال بنا دیا ہے یعنی اپنی حالت بگاڑ دی ہے، میں نے اسے دیکھا اور وہ ہرگز اس قدر خوبصورت نہیں کہ اس کے پیچھے کوئی اپنی جان کھپائے۔ معلوم نہیں تم نے اسے کس آن میں دیکھا ہے کہ وہ تیرے دل کو بھا گیا۔ آن کے دو معنی ہیں ایک ہے وقت اور دوسرا معشوقانہ چھپ، شان و شوکت۔ وضع اور ڈھنگ۔ اور شعر میں آن کو دوسرے معنی یعنی معشوقانہ چھپ، وضع، ڈھنگ میں لیا گیا ہے۔ یعنی پتہ نہیں اے سوداؔ تونے اسے یعنی اپنے محبوب کو کس معشوقانہ چھپ، وضع یا ڈھنگ میں دیکھا ہے کہ اس کے عشق میں جان کھپا بیٹھا ہے۔ میں نے اسے دیکھا وہ اس قدر بھی خوبصورت نہیں کہ کوئی اپنی حالت اس کے عشق میں بگاڑ دے۔

شفق سوپوری

گلہ لکھوں میں اگر تیری بے وفائی کا

لہو میں غرق سفینہ ہو آشنائی کا

سوداؔ کی جو بالیں پہ گیا شور قیامت

خدام ادب بولے ابھی آنکھ لگی ہے

جس روز کسی اور پہ بیداد کرو گے

یہ یاد رہے ہم کو بہت یاد کرو گے

کون کسی کا غم کھاتا ہے

کہنے کو غم خوار ہے دنیا

میں نے تم کو دل دیا اور تم نے مجھے رسوا کیا

میں نے تم سے کیا کیا اور تم نے مجھ سے کیا کیا

سوداؔ خدا کے واسطے کر قصہ مختصر

اپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میں

ترا خط آنے سے دل کو میرے آرام کیا ہوگا

خدا جانے کہ اس آغاز کا انجام کیا ہوگا

سمجھے تھے ہم جو دوست تجھے اے میاں غلط

تیرا نہیں ہے جرم ہمارا گماں غلط

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا

موسیٰ نہیں جو سیر کروں کوہ طور کا

دل کے ٹکڑوں کو بغل گیر لئے پھرتا ہوں

کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں

یہ تو نہیں کہتا ہوں کہ سچ مچ کرو انصاف

جھوٹی بھی تسلی ہو تو جیتا ہی رہوں میں

نہ جیا تیری چشم کا مارا

نہ تری زلف کا بندھا چھوٹا

کہیو صبا سلام ہمارا بہار سے

ہم تو چمن کو چھوڑ کے سوئے قفس چلے

عشق سے تو نہیں ہوں میں واقف

دل کو شعلہ سا کچھ لپٹتا ہے

گر ہو شراب و خلوت و محبوب خوب رو

زاہد قسم ہے تجھ کو جو تو ہو تو کیا کرے

عمامے کو اتار کے پڑھیو نماز شیخ

سجدے سے ورنہ سر کو اٹھایا نہ جائے گا

گر تجھ میں ہے وفا تو جفاکار کون ہے

دل دار تو ہوا تو دل آزار کون ہے

سوداؔ ہوئے جب عاشق کیا پاس آبرو کا

سنتا ہے اے دوانے جب دل دیا تو پھر کیا

دکھاؤں گا تجھے زاہد اس آفت دیں کو

خلل دماغ میں تیرے ہے پارسائی کا

اکیلا ہو رہ دنیا میں گر چاہے بہت جینا

ہوئی ہے فیض تنہائی سے عمر خضر طولانی

سوداؔ جہاں میں آ کے کوئی کچھ نہ لے گیا

جاتا ہوں ایک میں دل پر آرزو لیے

کس منہ سے پھر تو آپ کو کہتا ہے عشق باز

اے رو سیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا

زاہد سبھی ہیں نعمت حق جو ہے اکل و شرب

لیکن عجب مزہ ہے شراب و کباب کا

بدلا ترے ستم کا کوئی تجھ سے کیا کرے

اپنا ہی تو فریفتہ ہووے خدا کرے

کیا ضد ہے مرے ساتھ خدا جانے وگرنہ

کافی ہے تسلی کو مری ایک نظر بھی

تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش

رہتا ہے سدا چاک گریبان سحر بھی

غرض کفر سے کچھ نہ دیں سے ہے مطلب

تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں

دل مت ٹپک نظر سے کہ پایا نہ جائے گا

جوں اشک پھر زمیں سے اٹھایا نہ جائے گا

یارو وہ شرم سے جو نہ بولا تو کیا ہوا

آنکھوں میں سو طرح کی حکایات ہو گئی

ہے مدتوں سے خانۂ زنجیر بے صدا

معلوم ہی نہیں کہ دوانے کدھر گئے

یہ رنجش میں ہم کو ہے بے اختیاری

تجھے تیری کھا کر قسم دیکھتے ہیں

فراق خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تک

الٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جدا

تم کان دھر سنو نہ سنو اس کے حرف کو

سوداؔ کو ہے گی اپنی ہی گفتار سے غرض

عبث تو گھر بساتا ہے مری آنکھوں میں اے پیارے

کسی نے آج تک دیکھا بھی ہے پانی پہ گھر ٹھہرا

سوداؔ تری فریاد سے آنکھوں میں کٹی رات

آئی ہے سحر ہونے کو تک تو کہیں مر بھی

مت پوچھ یہ کہ رات کٹی کیونکے تجھ بغیر

اس گفتگو سے فائدہ پیارے گزر گئی

کیا کروں گا لے کے واعظ ہاتھ سے حوروں کے جام

ہوں میں ساغر کش کسی کے ساغر مخمور کا

بادشاہت دو جہاں کی بھی جو ہووے مجھ کو

تیرے کوچے کی گدائی سے نہ کھو دے مجھ کو

ہر آن آ مجھی کو ستاتے ہو ناصحو

سمجھا کے تم اسے بھی تو یک بار کچھ کہو

بے ثباتی زمانے کی ناچار

کرنی مجھ کو بیان پڑتی ہے

Recitation

بولیے