مصحفی غلام ہمدانی کے اشعار
مصحفیؔ ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا
تشریح
یہ مصحفیؔ کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ خیال نازک ہے اس لئے لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔ اس شعر میں دو کردار ہیں ایک ہے مصحفیؔ سے گفتگو کرنے والا اور دوسرا خود مصحفی۔
ہم تو یہ سمجھتے تھے میں تعجب بھی اور اظہار افسوس بھی ’’ہو کوئی زخم‘‘ یعنی کوئی ایک آدھ عام سا زخم ہوگا جو خودبخود بھر جائے گا۔ رفو کرنے کے معنی ہیں پھٹے ہوئے کپڑے کو دھاگے سے مرمت کرنا۔ پھٹی ہوئی جگہ کو بھرنا۔ اردو شاعری میں ’’رفو‘‘ کا لفظ بہت استعمال ہوا ہے۔ اور اس سے مراد عاشق کے دل کے زخموں کی مرمت یعنی ٹانکے لگانا ہے۔
شاعر سے متکلم یعنی اس سے بات کرنے والا کہتا ہے اے مصحفیؔ! تم نے تو یہ جانا تھا کہ تمہارے دل میں کوئی زخم ہوگا جو خودبخود بھرجائے گا مگر جب میں نے اس میں جھانک کر دیکھا تومیں نے یہ پایا کہ تمہارے دل میں بہت سے زخم موجود ہیں جنہیں مرمت کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ زخم عشق کے ہیں۔ کوئی اصلی زخم نہیں ہیں کہ جن پر ٹانکے لگائے جائیں جن پر مرہم رکھا جائے۔ اس لئے یہاں رفو سے مطلب یہ کہ ان زخموں کی مرمت تب ہی ہوگی جب شاعر کا محبوب اس کی طرف توجہ دے گا۔
اس طرح سے شعر کا مفہوم یہ نکلتا ہے اے مصحفی بظاہر تمہارے دل میں لگتا تھا کہ کوئی ایک آدھ زخم ہوگا جو خود بخود بھر جائے گا مگر دیکھنے پر معلوم ہواکہ دراصل تم نے عشق میں دل پر بہت زخم کھائے ہیں اور ان زخموں کی مرمت کرنا کوئی آسان کام نہیں البتہ تمہارا محبوب اگر تمہاری طرف لطف کی نگاہوں سے دیکھے گا تو یہ زخم بھر سکتے ہیں۔
شفق سوپوری
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
لوگ کہتے ہیں محبت میں اثر ہوتا ہے
کون سے شہر میں ہوتا ہے کدھر ہوتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ترے کوچے ہر بہانے مجھے دن سے رات کرنا
کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا
بال اپنے بڑھاتے ہیں کس واسطے دیوانے
کیا شہر محبت میں حجام نہیں ہوتا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
عید اب کے بھی گئی یوں ہی کسی نے نہ کہا
کہ ترے یار کو ہم تجھ سے ملا دیتے ہیں
وعدوں ہی پہ ہر روز مری جان نہ ٹالو
ہے عید کا دن اب تو گلے ہم کو لگا لو
-
موضوع : عید
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
چھیڑ مت ہر دم نہ آئینہ دکھا
اپنی صورت سے خفا بیٹھے ہیں ہم
اے مصحفیؔ تو ان سے محبت نہ کیجیو
ظالم غضب ہی ہوتی ہیں یہ دلی والیاں
دیکھ کر ہم کو نہ پردے میں تو چھپ جایا کر
ہم تو اپنے ہیں میاں غیر سے شرمایا کر
جو ملا اس نے بے وفائی کی
کچھ عجب رنگ ہے زمانے کا
حیراں ہوں اس قدر کہ شب وصل بھی مجھے
تو سامنے ہے اور ترا انتظار ہے
عید تو آ کے مرے جی کو جلاوے افسوس
جس کے آنے کی خوشی ہو وہ نہ آوے افسوس
ہے عید کا دن آج تو لگ جاؤ گلے سے
جاتے ہو کہاں جان مری آ کے مقابل
ابھی آغاز محبت ہے کچھ اس کا انجام
تجھ کو معلوم ہے اے دیدۂ نم کیا ہوگا
حسرت پہ اس مسافر بے کس کی روئیے
جو تھک گیا ہو بیٹھ کے منزل کے سامنے
آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوں
یا عشق کی پکڑ کر گردن مروڑ ڈالوں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
موسیٰ نے کوہ طور پہ دیکھا جو کچھ وہی
آتا ہے عارفوں کو نظر سنگ و خشت میں
اب مری بات جو مانے تو نہ لے عشق کا نام
تو نے دکھ اے دل ناکام بہت سا پایا
دلی میں اپنا تھا جو کچھ اسباب رہ گیا
اک دل کو لے کے آئے ہیں اس سرزمیں سے ہم
موسم ہولی ہے دن آئے ہیں رنگ اور راگ کے
ہم سے تم کچھ مانگنے آؤ بہانے پھاگ کے
کر کے زخمی تو مجھے سونپ گیا غیروں کو
کون رکھے گا مرے زخم پہ مرہم تجھ بن
آساں نہیں دریائے محبت سے گزرنا
یاں نوح کی کشتی کو بھی طوفان کا ڈر ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
آستیں اس نے جو کہنی تک چڑھائی وقت صبح
آ رہی سارے بدن کی بے حجابی ہاتھ میں
اب خدا مغفرت کرے اس کی
میرؔ مرحوم تھا عجب کوئی
-
موضوع : میر تقی میر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اک درد محبت ہے کہ جاتا نہیں ورنہ
جس درد کی ڈھونڈے کوئی دنیا میں دوا ہے
لاکھ ہم شعر کہیں لاکھ عبارت لکھیں
بات وہ ہے جو ترے دل میں جگہ پاتی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اللہ رے تیرے سلسلۂ زلف کی کشش
جاتا ہے جی ادھر ہی کھنچا کائنات کا
چمن کو آگ لگاوے ہے باغباں ہر روز
نیا بناؤں ہوں میں اپنا آشیاں ہر روز
کسی کے ہاتھ تو لگتا نہیں ہے اک عیار
کہاں تلک ترے پیچھے کوئی خراب پھرے
چراغ حسن یوسف جب ہو روشن
رہے پھر کس طرح زنداں اندھیرا
مزے میں اب تلک بیٹھا میں اپنے ہونٹھ چاٹوں ہوں
لیا تھا خواب میں بوسہ جو یک شب سیب غبغب کا
چاہوں گا میں تم کو جو مجھے چاہو گے تم بھی
ہوتی ہے محبت تو محبت سے زیادہ
غبغب سے بچا دل تو زنخدان میں ڈوبا
گرداب میں کشتی گئی طوفاں سے نکل کر
مصحفیؔ کیونکے چھپے ان سے مرا درد نہاں
یار تو بات کے انداز سے پا جاتے ہیں
دلی ہوئی ہے ویراں سونے کھنڈر پڑے ہیں
ویران ہیں محلے سنسان گھر پڑے ہیں
-
موضوع : دہلی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں جن کو بات کرنا اے مصحفیؔ سکھایا
ہر بات میں وہ میری اب بات کاٹتے ہیں
اول تو تھوڑی تھوڑی چاہت تھی درمیاں میں
پھر بات کہتے لکنت آنے لگی زباں میں
سادگی دیکھ کہ بوسے کی طمع رکھتا ہوں
جن لبوں سے کہ میسر نہیں دشنام مجھے
میں عجب یہ رسم دیکھی مجھے روز عید قرباں
وہی ذبح بھی کرے اور وہی لے ثواب الٹا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہوش اڑ جائیں گے اے زلف پریشاں تیرے
گر میں احوال لکھا اپنی پریشانی کا
قاتل تری گلی بھی بدایوں سے کم نہیں
جس کے قدم قدم پہ مزار شہید ہے
اک دن تو لپٹ جائے تصور ہی سے تیرے
یہ بھی دل نامرد کو جرأت نہیں ملتی
آسماں کو نشانہ کرتے ہیں
تیر رکھتے ہیں جب کمان میں ہم
ملحد ہوں اگر میں تو بھلا اس سے تمہیں کیا
منہ سے یہ سخن گبر و مسلماں نہ نکالو
شوخیٔ حسن کے نظارے کی طاقت ہے کہاں
طفل ناداں ہوں میں بجلی سے دہل جاتا ہوں
جمنا میں کل نہا کر جب اس نے بال باندھے
ہم نے بھی اپنے دل میں کیا کیا خیال باندھے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کہوں تو کس سے کہوں اپنا درد دل میں غریب
نہ آشنا نہ مصاحب نہ ہم نشیں کوئی
کہئے جو جھوٹ تو ہم ہوتے ہیں کہہ کے رسوا
سچ کہئے تو زمانہ یارو نہیں ہے سچ کا
اے کاش کوئی شمع کے لے جا کے مجھے پاس
یہ بات کہے اس سے کہ پروانہ ہے یہ بھی