نریش کمار شاد کے اشعار
اتنا بھی ناامید دل کم نظر نہ ہو
ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو
زندگی سے تو خیر شکوہ تھا
مدتوں موت نے بھی ترسایا
اللہ رے بے خودی کہ ترے پاس بیٹھ کر
تیرا ہی انتظار کیا ہے کبھی کبھی
گناہوں سے ہمیں رغبت نہ تھی مگر یا رب
تری نگاہ کرم کو بھی منہ دکھانا تھا
ترا ہجر میرا نصیب ہے ترا غم ہی میری حیات ہے
مجھے تیری دوری کا غم ہو کیوں تو کہیں بھی ہو مرے پاس ہے
زندگی نام ہے جدائی کا
آپ آئے تو مجھ کو یاد آیا
-
موضوع : جدائی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
خدا سے لوگ بھی خائف کبھی تھے
مگر لوگوں سے اب خائف خدا ہے
محسوس بھی ہو جائے تو ہوتا نہیں بیاں
نازک سا ہے جو فرق گناہ و ثواب میں
کسی کے جور و ستم کا تو اک بہانا تھا
ہمارے دل کو بہرحال ٹوٹ جانا تھا
طوفان غم کی تند ہواؤں کے باوجود
اک شمع آرزو ہے جو اب تک بجھی نہیں
یہ سوچ کر بھی ہنس نہ سکے ہم شکستہ دل
یاران غم گسار کا دل ٹوٹ جائے گا
تو مرے غم میں نہ ہنستی ہوئی آنکھوں کو رلا
میں تو مر مر کے بھی جی سکتا ہوں میرا کیا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کسی سے رسم و رہ دوستی تو کیا کرتے
ہمارا خود سے تعارف بھی غائبانہ تھا