Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Zafar Iqbal's Photo'

ظفر اقبال

1933 | لاہور, پاکستان

ممتاز ترین جدید شاعروں میں معروف ۔ رجحان سازشاعر

ممتاز ترین جدید شاعروں میں معروف ۔ رجحان سازشاعر

ظفر اقبال کے اشعار

54.1K
Favorite

باعتبار

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ

آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے

تجھ کو میری نہ مجھے تیری خبر جائے گی

عید اب کے بھی دبے پاؤں گزر جائے گی

یہاں کسی کو بھی کچھ حسب آرزو نہ ملا

کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا

تھکنا بھی لازمی تھا کچھ کام کرتے کرتے

کچھ اور تھک گیا ہوں آرام کرتے کرتے

خامشی اچھی نہیں انکار ہونا چاہئے

یہ تماشا اب سر بازار ہونا چاہئے

مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفرؔ

صاف پہچان لیا جاتا ہوں رویا ہوا میں

اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی بات

جو کبھی کہتے تھے بس دیدار ہونا چاہئے

اس کو بھی یاد کرنے کی فرصت نہ تھی مجھے

مصروف تھا میں کچھ بھی نہ کرنے کے باوجود

اب کے اس بزم میں کچھ اپنا پتہ بھی دینا

پاؤں پر پاؤں جو رکھنا تو دبا بھی دینا

ٹکٹکی باندھ کے میں دیکھ رہا ہوں جس کو

یہ بھی ہو سکتا ہے وہ سامنے بیٹھا ہی نہ ہو

سفر پیچھے کی جانب ہے قدم آگے ہے میرا

میں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں جواں ہونے کی خاطر

راستے ہیں کھلے ہوئے سارے

پھر بھی یہ زندگی رکی ہوئی ہے

یوں محبت سے نہ دے میری محبت کا جواب

یہ سزا سخت ہے تھوڑی سی رعایت کر دے

خدا کو مان کہ تجھ لب کے چومنے کے سوا

کوئی علاج نہیں آج کی اداسی کا

جیسی اب ہے ایسی حالت میں نہیں رہ سکتا

میں ہمیشہ تو محبت میں نہیں رہ سکتا

خوشی ملی تو یہ عالم تھا بدحواسی کا

کہ دھیان ہی نہ رہا غم کی بے لباسی کا

بس ایک بار کسی نے گلے لگایا تھا

پھر اس کے بعد نہ میں تھا نہ میرا سایا تھا

مجھ سے چھڑوائے مرے سارے اصول اس نے ظفرؔ

کتنا چالاک تھا مارا مجھے تنہا کر کے

بدن کا سارا لہو کھنچ کے آ گیا رخ پر

وہ ایک بوسہ ہمیں دے کے سرخ رو ہے بہت

اس کو آنا تھا کہ وہ مجھ کو بلاتا تھا کہیں

رات بھر بارش تھی اس کا رات بھر پیغام تھا

گھر نیا برتن نئے کپڑے نئے

ان پرانے کاغذوں کا کیا کریں

وہاں مقام تو رونے کا تھا مگر اے دوست

ترے فراق میں ہم کو ہنسی بہت آئی

میں کسی اور زمانے کے لیے ہوں شاید

اس زمانے میں ہے مشکل مرا ظاہر ہونا

خرابی ہو رہی ہے تو فقط مجھ میں ہی ساری

مرے چاروں طرف تو خوب اچھا ہو رہا ہے

چہرے سے جھاڑ پچھلے برس کی کدورتیں

دیوار سے پرانا کلینڈر اتار دے

یوں بھی ہوتا ہے کہ یک دم کوئی اچھا لگ جائے

بات کچھ بھی نہ ہو اور دل میں تماشا لگ جائے

تم ہی بتلاؤ کہ اس کی قدر کیا ہوگی تمہیں

جو محبت مفت میں مل جائے آسانی کے ساتھ

مجھ میں ہیں گہری اداسی کے جراثیم اس قدر

میں تجھے بھی اس مرض میں مبتلا کر جاؤں گا

میں بکھر جاؤں گا زنجیر کی کڑیوں کی طرح

اور رہ جائے گی اس دشت میں جھنکار مری

مرا معیار میری بھی سمجھ میں کچھ نہیں آتا

نئے لمحوں میں تصویریں پرانی مانگ لیتا ہوں

عشق اداسی کے پیغام تو لاتا رہتا ہے دن رات

لیکن ہم کو خوش رہنے کی عادت بہت زیادہ ہے

موت کے ساتھ ہوئی ہے مری شادی سو ظفرؔ

عمر کے آخری لمحات میں دولہا ہوا میں

بھری رہے ابھی آنکھوں میں اس کے نام کی نیند

وہ خواب ہے تو یونہی دیکھنے سے گزرے گا

جب نظارے تھے تو آنکھوں کو نہیں تھی پروا

اب انہی آنکھوں نے چاہا تو نظارے نہیں تھے

وہ بہت چالاک ہے لیکن اگر ہمت کریں

پہلا پہلا جھوٹ ہے اس کو یقیں آ جائے گا

وہ صورت دیکھ لی ہم نے تو پھر کچھ بھی نہ دیکھا

ابھی ورنہ پڑی تھی ایک دنیا دیکھنے کو

باہر سے چٹان کی طرح ہوں

اندر کی فضا میں تھرتھری ہے

جس کا انکار ہتھیلی پہ لیے پھرتا ہوں

جانتا ہی نہیں انکار کا مطلب کیا ہے

ابھی میری اپنی سمجھ میں بھی نہیں آ رہی

میں جبھی تو بات کو مختصر نہیں کر رہا

کیا خبر جس کا یہاں اتنا اڑاتے ہیں مذاق

خود ہمیں بھی کبھی اس رنگ میں ڈھلنا پڑ جائے

وہ چہرہ ہاتھ میں لے کر کتاب کی صورت

ہر ایک لفظ ہر اک نقش کی ادا دیکھوں

روبرو کر کے کبھی اپنے مہکتے سرخ ہونٹ

ایک دو پل کے لیے گلدان کر دے گا مجھے

اپنے ہی سامنے دیوار بنا بیٹھا ہوں

ہے یہ انجام اسے رستے سے ہٹا دینے کا

پوری آواز سے اک روز پکاروں تجھ کو

اور پھر میری زباں پر ترا تالا لگ جائے

حسن اس کا اسی مقام پہ ہے

یہ مسافر سفر نہیں کرتا

سنا ہے وہ مرے بارے میں سوچتا ہے بہت

خبر تو ہے ہی مگر معتبر زیادہ نہیں

اب اس کی دید محبت نہیں ضرورت ہے

کہ اس سے مل کے بچھڑنے کی آرزو ہے بہت

کرتا ہوں نیند میں ہی سفر سارے شہر کا

فارغ تو بیٹھتا نہیں سونے کے باوجود

کب وہ ظاہر ہوگا اور حیران کر دے گا مجھے

جتنی بھی مشکل میں ہوں آسان کر دے گا مجھے

مجھے خراب کیا اس نے ہاں کیا ہوگا

اسی سے پوچھیے مجھ کو خبر زیادہ نہیں

Recitation

بولیے