یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی
وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے
-
موضوعات : آنکھاور 1 مزید
آپ ساگر ہیں تو سیراب کریں پیاسے کو
آپ بادل ہیں تو مجھ دشت پہ سایا کیجئے
-
موضوعات : تشنگیاور 2 مزید
دشت پھر کیوں نہیں رہے آباد
ابر آزاد ہے ہوا محفوظ
-
موضوع : ابر شاعری
گزر کر دشت سے سالمؔ جنوں کے
سفر کی آبرو ہو جاؤں گا میں
-
موضوع : سفر
یک قلم کاغذ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت
نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز
دشت کا پورا صفحہ ایسا لگتا ہے جیسے کاغذ ایک ہی جھٹکے میں آگ سے جھلس گیا ہو۔
قدموں کے نشانوں میں بھی اس تیز چلنے کی گرمی ابھی تک موجود ہے۔
غالب نے دشت کو “صفحہ” بنا کر دکھایا ہے اور رفتاری جذبے کو آگ کی طرح، جو گزرتے ہی سب کچھ جلا دیتی ہے۔ جلتا ہوا کاغذ ویرانی اور سخت تجربے کی علامت ہے۔ مگر نقشِ پا میں باقی حرارت بتاتی ہے کہ گزر جانے کے بعد بھی اس جذبے کا اثر ختم نہیں ہوا۔ یوں شعر میں ویرانی کے اندر بھی بےقراری کی تپش قائم رہتی ہے۔