Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دشت پر اشعار

یہ میرے دل کی ہوس دشت بے کراں جیسی

وہ تیری آنکھ کے تیور سمندروں والے

محسن نقوی

آپ ساگر ہیں تو سیراب کریں پیاسے کو

آپ بادل ہیں تو مجھ دشت پہ سایا کیجئے

عبد الرحیم نشتر

دشت پھر کیوں نہیں رہے آباد

ابر آزاد ہے ہوا محفوظ

یحیٰ خان یوسف زئی

گزر کر دشت سے سالمؔ جنوں کے

سفر کی آبرو ہو جاؤں گا میں

فرحان سالم

یک قلم کاغذ آتش زدہ ہے صفحۂ دشت

نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز

دشت کا پورا صفحہ ایسا لگتا ہے جیسے کاغذ ایک ہی جھٹکے میں آگ سے جھلس گیا ہو۔

قدموں کے نشانوں میں بھی اس تیز چلنے کی گرمی ابھی تک موجود ہے۔

غالب نے دشت کو “صفحہ” بنا کر دکھایا ہے اور رفتاری جذبے کو آگ کی طرح، جو گزرتے ہی سب کچھ جلا دیتی ہے۔ جلتا ہوا کاغذ ویرانی اور سخت تجربے کی علامت ہے۔ مگر نقشِ پا میں باقی حرارت بتاتی ہے کہ گزر جانے کے بعد بھی اس جذبے کا اثر ختم نہیں ہوا۔ یوں شعر میں ویرانی کے اندر بھی بےقراری کی تپش قائم رہتی ہے۔

مرزا غالب
بولیے