Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جنت پر اشعار

مذہب اسلام کے مطابق

جنت اورجہنم دوٹھکانے ہیں جومرنے کے بعد کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ روایتوں میں ہے کہ انسانی ذہن آسائشوں اورنعمتوں کاجوتصور کرسکتا ہے جنت میں وہ سب اس سے کہیں زیادہ بڑھ کرہیں ۔ جنت کےاس تصور کوشاعروں نے ایک دوسری ہی سطح پراخذ کیاہے ۔ عشق اورمحبوب کے تصورکی مرکزیت کی بنا پرجنت کو کوچۂ یار کے استعارے کے طور پر بھی برتا گیا ہے اور بعض جگہوں پرواعظ سے جوجنت کی طرف بلانے والا ہے جھگڑے بھی ہوئے ہیں ۔ یہ جھگڑے جنت کی حقیقت کو لیکربھی ہیں ، کوچۂ یاراور جنت کے مقابلے میں بھی ۔

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

Interpretation: Rekhta AI

مرزا غالب اس شعر میں مذہبی عقائد پر ہلکا سا طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنت کی حقیقت جو بھی ہو، انسان کو جینے کے لیے کسی امید کی ضرورت ہوتی ہے۔ شاعر کے نزدیک جنت کا وعدہ ایک ایسا خوش کن ’خیال‘ ہے جس سے انسان کو دنیا کے دکھ سہنے کا حوصلہ ملتا ہے اور دل مطمئن رہتا ہے۔

مرزا غالب

یہ جنت مبارک رہے زاہدوں کو

کہ میں آپ کا سامنا چاہتا ہوں

Interpretation: Rekhta AI

اس شعر میں شاعر جنت کو محض انعام سمجھنے والی عبادت پر طنز کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ سودا زاہدوں کو مبارک۔ اس کی طلب انعام نہیں بلکہ خدا کی قربت اور دیدار ہے۔ یہاں جرات مندانہ محبت اور خودی کی شان جھلکتی ہے جو ہدیوں کے بجائے ذاتِ حق کا سامنا چاہتی ہے۔

علامہ اقبال

جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں

ایسی جنت کو کیا کرے کوئی

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی یہاں جنت کی مروجہ لذتوں—حوروں اور دائمی آسائش—کو بے معنی قرار دیتے ہیں۔ مصرعِ ثانی استفہامِ انکاری ہے: جب دل کی اصل طلب (محبوب/حقیقی سکون) نہ ملے تو جنت بھی کچھ نہیں۔ یہ شعر عشق کی شدت اور ظاہری نعمتوں سے بےنیازی کو نمایاں کرتا ہے۔

داغؔ دہلوی

میں سمجھتا ہوں کہ ہے جنت و دوزخ کیا چیز

ایک ہے وصل ترا ایک ہے فرقت تیری

جلیل مانک پوری

جنت ملی جھوٹوں کو اگر جھوٹ کے بدلے

سچوں کو سزا میں ہے جہنم بھی گوارا

احمد ندیم قاسمی

گناہ گار کے دل سے نہ بچ کے چل زاہد

یہیں کہیں تری جنت بھی پائی جاتی ہے

جگر مراد آبادی

اپنی جنت مجھے دکھلا نہ سکا تو واعظ

کوچۂ یار میں چل دیکھ لے جنت میری

فانی بدایونی

کہتے ہیں جس کو جنت وہ اک جھلک ہے تیری

سب واعظوں کی باقی رنگیں بیانیاں ہیں

الطاف حسین حالی

گزرے جو اپنے یاروں کی صحبت میں چار دن

ایسا لگا بسر ہوئے جنت میں چار دن

اے جی جوش

میری جنت تری نگاہ کرم

مجھ سے پھر جائے یہ خدا نہ کرے

عیش میرٹھی

واعظ نا سمجھ پئیں شربت

ہم کہاں خلد سے بہلتے ہیں

شجاع

اپنی گردن جھکا کے بات کرو

تم نکالے گئے ہو جنت سے

ندیم بھابھہ
بولیے