ہزار داستان عشق پر اشعار
منتخب اشعار از ہزار
داستان عشق - سنجیو صراف کا مرتبہ مترجمہ خوبصورت اردو اشعار کا مجموعہ سلیس انگریزی ترجمے کے ساتھ
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
-
موضوعات : دلاور 1 مزید
اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے
سو بار بند عشق سے آزاد ہم ہوئے
پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
نا کامئ عشق یا کامیابی
دونوں کا حاصل خانہ خرابی
باتیں ناصح کی سنیں یار کے نظارے کیے
آنکھیں جنت میں رہیں کان جہنم میں رہے
کعبے سے غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب
عاشق جو ترا ہے نہ ادھر کا نہ ادھر کا
تا فلک لے گئی بیتابیٔ دل تب بولے
حضرت عشق کہ پہلا ہے یہ زینا اپنا
خواہ دل سے مجھے نہ چاہے وہ
ظاہری وضع تو نباہے وہ
تا فلک لے گئی بیتابیٔ دل تب بولے
حضرت عشق کہ پہلا ہے یہ زینا اپنا
سو بار بند عشق سے آزاد ہم ہوئے
پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا
اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا
کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے
کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
خواہ دل سے مجھے نہ چاہے وہ
ظاہری وضع تو نباہے وہ
تڑپتی دیکھتا ہوں جب کوئی شے
اٹھا لیتا ہوں اپنا دل سمجھ کر
عشق معشوق عشق عاشق ہے
یعنی اپنا ہی مبتلا ہے عشق
-
موضوعات : عشقاور 1 مزید
نا کامئ عشق یا کامیابی
دونوں کا حاصل خانہ خرابی
پرستش کی یاں تک کہ اے بت تجھے
نظر میں سبھوں کی خدا کر چلے
عشق میں موت کا نام ہے زندگی
جس کو جینا ہو مرنا گوارا کرے
کعبے سے غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب
عاشق جو ترا ہے نہ ادھر کا نہ ادھر کا
بس محبت بس محبت بس محبت جان من
باقی سب جذبات کا اظہار کم کر دیجیے
-
موضوع : واٹس ایپ
عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ
کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے
-
موضوعات : عشقاور 3 مزید
گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا ہارے بھی تو بازی مات نہیں
-
موضوع : عشق
کیوں نہیں لیتا ہماری تو خبر اے بے خبر
کیا ترے عاشق ہوئے تھے درد و غم کھانے کو ہم
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
-
موضوعات : دلاور 1 مزید
ہو گیا زرد پڑی جس پہ حسینوں کی نظر
یہ عجب گل ہیں کہ تاثیر خزاں رکھتے ہیں
باتیں ناصح کی سنیں یار کے نظارے کیے
آنکھیں جنت میں رہیں کان جہنم میں رہے
تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو
تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں