ریختہ پر اشعار
’ریختہ‘ اردو زبان کے
پرانے ناموں میں سے ایک نام ہے ۔ ریختہ کے لغوی معنی ملی جلی چیز کے ہوتے ہیں ۔ اردو زبان چونکہ مختلف بولیوں اور زبانوں سے مل کر بنی تھی اس لئے ایک زمانے میں اس زبان کو ریختہ کہا گیا ۔ یہاں آپ ایسے اشعار پڑھیں گے جن میں اردو کو اس کے اسی پرانے نام سے پکارا گیا ہے ۔
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
Interpretation:
Rekhta AI
اس شعر میں غالبؔ نے اپنی شاعرانہ عظمت کے باوجود میر تقی میرؔ کا اعترافِ عظمت کیا ہے۔ وہ عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فنِ شاعری صرف مجھ پر ختم نہیں ہوتا بلکہ مجھ سے پہلے میرؔ جیسا باکمال استاد بھی موجود تھا۔ یہ مقطع میرؔ کے لیے غالبؔ کی طرف سے ایک خوبصورت خراجِ تحسین ہے۔
-
موضوع : میر تقی میر
گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر
یہ ہماری زبان ہے پیارے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر مخاطَب کو تنبیہ کرتا ہے کہ ریختہ/اردو کو یوں بےتکلفی یا دعوے کے ساتھ نہ برتو۔ “ہماری زبان” کہہ کر وہ زبان کو اپنی شناخت اور اپنے دل کے قریب چیز ثابت کرتا ہے۔ “پیارے” کی نرمی ڈانٹ میں محبت بھی گھول دیتی ہے۔ یوں یہ شعر زبان کے ساتھ وابستگی اور فخر کا اظہار بن جاتا ہے۔
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگ
مدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کو یقین ہے کہ اس کی شاعری اس کی زندگی کے بعد بھی زندہ رہے گی۔ “گلیوں میں پڑھتے پھرنا” اس بات کی علامت ہے کہ کلام عوامی زندگی کا حصہ بن جائے گا۔ ریختہ یہاں اردو شاعری کے معنی میں ہے، جو زبانِ خلق پر چڑھے گی۔ اس میں فنا کے مقابلے میں نام و کلام کی بقا کا احساس ہے۔
اب نہ غالبؔ سے شکایت ہے نہ شکوہ میرؔ کا
بن گیا میں بھی نشانہ ریختہ کے تیر کا
جو یہ کہے کہ ریختہ کیونکے ہو رشک فارسی
گفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
Interpretation:
Rekhta AI
یہ شعر شاعرانہ تعلی کی ایک عمدہ مثال ہے جس میں غالبؔ اپنے فن پر مکمل بھروسہ ظاہر کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کا کلام اردو کو اس مقام پر لے آیا ہے کہ فارسی بھی اس پر رشک کرے۔ وہ دلیل دینے کے بجائے اپنے فن کا عملی مظاہرہ پیش کرتے ہیں کہ میرا کلام ہی میری دلیل ہے۔
جا پڑے چپ ہو کے جب شہر خموشاں میں نظیرؔ
یہ غزل یہ ریختہ یہ شعر خوانی پھر کہاں
یار کے آگے پڑھا یہ ریختہ جا کر نظیرؔ
سن کے بولا واہ واہ اچھا کہا اچھا کہا
ریختہ گوئی کی بنیاد ولیؔ نے ڈالی
بعد ازاں خلق کو مرزاؔ سے ہے اور میرؔ سے فیض
یہ نظم آئیں یہ طرز بندش سخنوری ہے فسوں گری ہے
کہ ریختہ میں بھی تیرے شبلیؔ مزہ ہے طرز علی حزیںؔ کا
قائمؔ جو کہیں ہیں فارسی یار
اس سے تو یہ ریختہ ہے بہتر
کیا ریختہ کم ہے مصحفیؔ کا
بو آتی ہے اس میں فارسی کی
قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ
اک بات لچر سی بزبان دکنی تھی
اے مصحفیؔ استاد فن ریختہ گوئی
تجھ سا کوئی عالم کو میں چھانا نہیں ملتا
موئے نے منہ کی کھائی پھر بھی یہ زور زوری
یہ ریختی ہے بھائی تم ریختہ تو جانو
آنکھیں نہ چرا مصحفیٔؔ ریختہ گو سے
اک عمر سے تیرا ہے ثنا خوان ادھر دیکھ
اک بات کہیں گے انشاؔ جی تمہیں ریختہ کہتے عمر ہوئی
تم ایک جہاں کا علم پڑھے کوئی میرؔ سا شعر کہا تم نے
-
موضوع : میر تقی میر
قائمؔ میں ریختہ کو دیا خلعت قبول
ورنہ یہ پیش اہل ہنر کیا کمال تھا
پیچ دے دے لفظ و معنی کو بناتے ہیں کلفت
اور وہ پھر اس پہ رکھتے ہیں گمان ریختہ
جب سے معنی بندی کا چرچا ہوا اے مصحفیؔ
خلطے میں جاتا رہا حسن زبان ریختہ
کیوں نہ آ کر اس کے سننے کو کریں سب یار بھیڑ
آبروؔ یہ ریختہ تو نیں کہا ہے دھوم کا
مصحفیؔ گرچہ یہ سب کہتے ہیں ہم سے بہتر
اپنی پر ریختہ گوئی کی زباں اور ہی ہے
طبع کہہ اور غزل، ہے یہ نظیریؔ کا جواب
ریختہ یہ جو پڑھا قابل اظہار نہ تھا