استقبال پر شعر

شاعری ایسی کیفیتوں کو

زبان دیتی جن سے ہم روز گزرتے تو ہیں لیکن ان کا اظہار بھی نہیں کرسکتے اورنہ ہی ان پر ٹھہر کر سوچ سکتے ہیں ۔ استقبال پر ہم نے ایسے ہی شعروں کو اکھٹا کیا ہے جو استقبال کرنے اور استقبال کئے جانے والے شخص کی نازک ترین کیفیتوں کا اظہاریہ ہیں ۔ یہ انتخاب استقبال کی اور بھی بہت سی جہتوں پر مشتمل ہے۔

وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے

کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

مرزا غالب

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

تشریح

اس شعر کا مزاج غزل کے رویتی مزاج سے ملتا ہے۔ چونکہ فیض نے ترقی پسند فکر کی ترجمانی میں بھی اردو شعریات کی روایت کا پورا لحاظ رکھا لہٰذا ان کی تخلیقات میں اگرچہ علامتی سطح پر ترقی پسند سوچ کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے تاہم ان کی شعری دنیا میں اور بھی امکانات موجود ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال یہ مشہور شعر ہے۔ بادِ نو بہار کے معنی نئی بہار کی ہواہے۔ پہلے اس شعر کی تشریح ترقی پسند فکر کو مدِ نظر کرتے ہیں۔ فیض کی شکایت یہ رہی ہے کہ انقلاب رونما ہونے کے باوجود استحصال کی چکی میں پسنے والوں کی تقدیر نہیں بدلتی ۔ اس شعر میں اگر بادِ نو بہار کو انقلاب کی علامت مان لیا جائے تو شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ گلشن (ملک، زمانہ وغیرہ) کا کاروبار تب تک نہیں چل سکتا جب تک کہ انقلاب اپنے صحیح معنوں میں نہیں آتا۔ اسی لئے وہ انقلاب یا بدلاؤ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ جب تم رونما ہوجاؤ گے تب پھولوں میں نئی بہار کی ہوا تازگی لائی گی۔ اور اس طرح سے چمن کا کاروبار چلے گا۔ دوسرے معنوں میں وہ اپنے محبوب سے کہتے ہیں کہ تم اب آ بھی جاؤ تاکہ گلوں میں نئی بہار کی ہوا رنگ بھرے اور چمن کھل اٹھے۔

شفق سوپوری

فیض احمد فیض

تم آ گئے ہو، تو کچھ چاندنی سی باتیں ہوں

زمیں پہ چاند کہاں روز روز اترتا ہے

وسیم بریلوی

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے

پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

میر تقی میر

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی

تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی

جاں نثاراختر

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے

عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

فرحت احساس

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو

آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو

عندلیب شادانی

تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے

تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا

بشیر بدر

مل کر تپاک سے نہ ہمیں کیجیے اداس

خاطر نہ کیجیے کبھی ہم بھی یہاں کے تھے

جون ایلیا

اس نے وعدہ کیا ہے آنے کا

رنگ دیکھو غریب خانے کا

جوش ملیح آبادی

ہر گلی اچھی لگی ہر ایک گھر اچھا لگا

وہ جو آیا شہر میں تو شہر بھر اچھا لگا

نامعلوم

جس بزم میں ساغر ہو نہ صہبا ہو نہ خم ہو

رندوں کو تسلی ہے کہ اس بزم میں تم ہو

نامعلوم

آپ آئے ہیں سو اب گھر میں اجالا ہے بہت

کہیے جلتی رہے یا شمع بجھا دی جائے

صبا اکبرآبادی

شکریہ تیرا ترے آنے سے رونق تو بڑھی

ورنہ یہ محفل جذبات ادھوری رہتی

نامعلوم

آپ آئے تو بہاروں نے لٹائی خوشبو

پھول تو پھول تھے کانٹوں سے بھی آئی خوشبو

نامعلوم

یہ کس زہرہ جبیں کی انجمن میں آمد آمد ہے

بچھایا ہے قمر نے چاندنی کا فرش محفل میں

سید یوسف علی خاں ناظم

ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود

آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا

احمد فراز

بجائے سینے کے آنکھوں میں دل دھڑکتا ہے

یہ انتظار کے لمحے عجیب ہوتے ہیں

نامعلوم

اتنے دن کے بعد تو آیا ہے آج

سوچتا ہوں کس طرح تجھ سے ملوں

اطہر نفیس

محفل میں چار چاند لگانے کے باوجود

جب تک نہ آپ آئے اجالا نہ ہو سکا

نامعلوم

تم آ گئے ہو خدا کا ثبوت ہے یہ بھی

قسم خدا کی ابھی میں نے تم کو سوچا تھا

قیصر الجعفری

رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو

سوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیں

فیض احمد فیض

بجھتے ہوئے چراغ فروزاں کریں گے ہم

تم آؤگے تو جشن چراغاں کریں گے ہم

واصف دہلوی

خوش آمدید وہ آیا ہماری چوکھٹ پر

بہار جس کے قدم کا طواف کرتی ہے

نامعلوم

تم آ گئے ہو تو اب آئینہ بھی دیکھیں گے

ابھی ابھی تو نگاہوں میں روشنی ہوئی ہے

عرفان ستار

یہ انتظار کی گھڑیاں یہ شب کا سناٹا

اس ایک شب میں بھرے ہیں ہزار سال کے دن

قمر صدیقی

سنتا ہوں میں کہ آج وہ تشریف لائیں گے

اللہ سچ کرے کہیں جھوٹی خبر نہ ہو

لالہ مادھو رام جوہر

فریب جلوہ کہاں تک بروئے کار رہے

نقاب اٹھاؤ کہ کچھ دن ذرا بہار رہے

اختر علی اختر

رونق بزم نہیں تھا کوئی تجھ سے پہلے

رونق بزم ترے بعد نہیں ہے کوئی

سرفراز خالد

مدتوں بعد کبھی اے نظر آنے والے

عید کا چاند نہ دیکھا تری صورت دیکھی

منظر لکھنوی

آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں

اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا

پروین شاکر

میں نے آواز تمہیں دی ہے بڑے ناز کے ساتھ

تم بھی آواز ملا دو مری آواز کے ساتھ

نامعلوم

صحن چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا

وہ آ گئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے

جگر مراد آبادی

ابھی تو اس کا کوئی تذکرہ ہوا بھی نہیں

ابھی سے بزم میں خوشبو کا رقص جاری ہے

افضل الہ آبادی

تم آ گئے تو چمکنے لگی ہیں دیواریں

ابھی ابھی تو یہاں پر بڑا اندھیرا تھا

انور مسعود

بھرے ہیں تجھ میں وہ لاکھوں ہنر اے مجمع خوبی

ملاقاتی ترا گویا بھری محفل سے ملتا ہے

داغؔ دہلوی

یہ اور بات کہ رستے بھی ہو گئے روشن

دئے تو ہم نے ترے واسطے جلائے تھے

نثار راہی

منتظر چشم بھی ہے قلب بھی ہے جان بھی ہے

آپ کے آنے کی حسرت بھی ہے ارمان بھی ہے

نامعلوم

ساقی شراب جام و سبو مطرب و بہار

سب آ گئے بس آپ کے آنے کی دیر ہے

نامعلوم

فضائے دل پہ کہیں چھا نہ جائے یاس کا رنگ

کہاں ہو تم کہ بدلنے لگا ہے گھاس کا رنگ

احمد مشتاق

تم جو آئے ہو تو شکل در و دیوار ہے اور

کتنی رنگین مری شام ہوئی جاتی ہے

نہال سیوہاروی

داغ اک آدمی ہے گرما گرم

خوش بہت ہوں گے جب ملیں گے آپ

داغؔ دہلوی

ہم نے بصد خلوص پکارا ہے آپ کو

اب دیکھنا ہے کتنی کشش ہے خلوص میں

نامعلوم

یہ زلف بردوش کون آیا یہ کس کی آہٹ سے گل کھلے ہیں

مہک رہی ہے فضائے ہستی تمام عالم بہار سا ہے

نامعلوم

شجر نے لہلہا کر اور ہوا نے چوم کر مجھ کو

تری آمد کے افسانے سنائے جھوم کر مجھ کو

شاہد میر

یوں ہی ہر شام اگر آپ کو ہم یاد رہیں

صحبتیں گرم رہیں محفلیں آباد رہیں

نامعلوم

آپ اگر یوں ہی چراغوں کو جلاتے ہوئے آئیں

ہم بھی ہر شام نئی بزم سجاتے ہوئے آئیں

نامعلوم

نگاہ شوق کی حیرانیوں کو کیا کہیے

انہیں بلا بھی لیا اعتبار بھی نہ کیا

نامعلوم

ہماری زندگی و موت کی ہو تم رونق

چراغ بزم بھی ہو اور چراغ فن بھی ہو

رشید لکھنوی

کون ہو سکتا ہے آنے والا

ایک آواز سی آئی تھی ابھی

کرار نوری