حفیظ جونپوری کے اشعار
بوسۂ رخسار پر تکرار رہنے دیجیے
لیجیے یا دیجیے انکار رہنے دیجیے
بیٹھ جاتا ہوں جہاں چھاؤں گھنی ہوتی ہے
ہائے کیا چیز غریب الوطنی ہوتی ہے
-
موضوع : مشہور اشعار
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تندرستی سے تو بہتر تھی مری بیماری
وہ کبھی پوچھ تو لیتے تھے کہ حال اچھا ہے
حسینوں سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی
نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
آدمی کا آدمی ہر حال میں ہمدرد ہو
اک توجہ چاہئے انساں کو انساں کی طرف
اب مجھے مانیں نہ مانیں اے حفیظؔ
مانتے ہیں سب مرے استاد کو
-
موضوع : استاد
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہمیں یاد رکھنا ہمیں یاد کرنا
اگر کوئی تازہ ستم یاد آئے
گیا جو ہاتھ سے وہ وقت پھر نہیں آتا
کہاں امید کہ پھر دن پھریں ہمارے اب
-
موضوع : وقت
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مری شراب کی توبہ پہ جا نہ اے واعظ
نشے کی بات نہیں اعتبار کے قابل
بہت دور تو کچھ نہیں گھر مرا
چلے آؤ اک دن ٹہلتے ہوئے
پی کر دو گھونٹ دیکھ زاہد
کیا تجھ سے کہوں شراب کیا ہے
زاہد کو رٹ لگی ہے شراب طہور کی
آیا ہے میکدے میں تو سوجھی ہے دور کی
برا ہی کیا ہے برتنا پرانی رسموں کا
کبھی شراب کا پینا بھی کیا حلال نہ تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
یاد آئیں اس کو دیکھ کے اپنی مصیبتیں
روئے ہم آج خوب لپٹ کر رقیب سے
سچ ہے اس ایک پردے میں چھپتے ہیں لاکھ عیب
یعنی جناب شیخ کی داڑھی دراز ہے
عاشق کی بے کسی کا تو عالم نہ پوچھیے
مجنوں پہ کیا گزر گئی صحرا گواہ ہے
اخیر وقت ہے کس منہ سے جاؤں مسجد کو
تمام عمر تو گزری شراب خانے میں
آپ ہی سے نہ جب رہا مطلب
پھر رقیبوں سے مجھ کو کیا مطلب
-
موضوع : رقیب
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کافر عشق کو کیا دیر و حرم سے مطلب
جس طرف تو ہے ادھر ہی ہمیں سجدا کرنا
اس کو سمجھو نہ خط نفس حفیظؔ
اور ہی کچھ ہے شاعری سے غرض
زاہد شراب ناب ہو یا بادۂ طہور
پینے ہی پر جب آئے حرام و حلال کیا
شب وصال لگایا جو ان کو سینے سے
تو ہنس کے بولے الگ بیٹھیے قرینے سے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ہم نہ اٹھتے ہیں نہ وہ دیتے ہیں
ہاتھ میں پان ہے کیا مشکل ہے
-
موضوع : پان
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جب نہ تھا ضبط تو کیوں آئے عیادت کے لیے
تم نے کاہے کو مرا حال پریشاں دیکھا
پری تھی کوئی چھلاوا تھی یا جوانی تھی
کہاں یہ ہو گئی چمپت جھلک دکھا کے مجھے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
حال میرا بھی جائے عبرت ہے
اب سفارش رقیب کرتے ہیں
پی لو دو گھونٹ کہ ساقی کی رہے بات حفیظؔ
صاف انکار سے خاطر شکنی ہوتی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ان کی یکتائی کا دعویٰ مٹ گیا
آئنے نے دوسرا پیدا کیا
جب ملا کوئی حسیں جان پر آفت آئی
سو جگہ عہد جوانی میں طبیعت آئی
تھے چور میکدے کے مسجد کے رہنے والے
مے سے بھرا ہوا ہے جو ظرف ہے وضو کا
ان کی یہ ضد کہ مرے گھر میں نہ آئے کوئی
اپنی ہی ہٹ کہ مجھے خود ہی بلائے کوئی
قسم نباہ کی کھائی تھی عمر بھر کے لیے
ابھی سے آنکھ چراتے ہو اک نظر کے لیے
جاؤ بھی جگر کیا ہے جو بیداد کرو گے
نالے مرے سن لو گے تو فریاد کرو گے
لٹ گیا وہ ترے کوچے میں دھرا جس نے قدم
اس طرح کی بھی کہیں راہزنی ہوتی ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
کبھی مسجد میں جو واعظ کا بیاں سنتا ہوں
یاد آتی ہے مجھے پیر خرابات کی بات
او آنکھ بدل کے جانے والے
کچھ دھیان کسی کی عاجزی کا
-
موضوع : عاجزی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہ منائے گا جس سے روٹھے ہو
ہم کو منت سے عاجزی سے غرض
-
موضوع : عاجزی
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
جو کعبے سے نکلے جگہ دیر میں کی
ملے ان بتوں کو مکاں کیسے کیسے
مرے بت خانے سے ہو کر چلا جا کعبے کو زاہد
بظاہر فرق ہے باطن میں دونوں ایک رستے ہیں
جو دیوانوں نے پیمائش کی ہے میدان قیامت کی
فقط دو گز زمیں ٹھہری وہ میرے دشت وحشت کی