Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Momin Khan Momin's Photo'

مومن خاں مومن

1800 - 1852 | دلی, انڈیا

غالب اور ذوق کے ہم عصر۔ وہ حکیم ، ماہر نجوم اور شطرنج کے کھلاڑی بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب نے ان کے شعر ’ تم مرے پاس ہوتے ہو گویا/ جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘ پر اپنا پورا دیوان دینے کی بات کہی تھی

غالب اور ذوق کے ہم عصر۔ وہ حکیم ، ماہر نجوم اور شطرنج کے کھلاڑی بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ مرزا غالب نے ان کے شعر ’ تم مرے پاس ہوتے ہو گویا/ جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا‘ پر اپنا پورا دیوان دینے کی بات کہی تھی

مومن خاں مومن کے اشعار

42.9K
Favorite

باعتبار

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

مجھے ایسا لگتا ہے جیسے تم میرے بالکل قریب ہو۔

یہ احساس تب ہوتا ہے جب میرے پاس اور کوئی نہیں ہوتا۔

اس شعر میں محبوب کی موجودگی کو تنہائی کے لمحے سے باندھا گیا ہے۔ “گویا” بتاتا ہے کہ یہ قرب حقیقی بھی ہو سکتا ہے اور یاد و خیال کا پیدا کردہ بھی۔ جب دنیا ساتھ نہیں دیتی تو محبوب ہی دل کا سہارا بن جاتا ہے، مگر اسی میں تنہائی کی شدت بھی جھلکتی ہے۔

عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ

آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

مومنؔ کہتا ہے میری پوری عمر بتوں کی محبت اور خواہش میں گزر گئی۔

پھر آخری گھڑی میں میں کیا واقعی مسلمان کہلاؤں گا؟

یہ شعر اپنی زندگی پر سخت خود ملامتی اور انجام کے خوف کا اعتراف ہے۔ “عشقِ بتاں” سے مراد وہ دلبستگیاں ہیں جو انسان کو ایمان سے ہٹا دیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ساری عمر غلط سمت میں گزری تو موت کے وقت کی ظاہری نیکی کیا معنی رکھتی ہے۔ مرکزی کیفیت پچھتاوا اور اپنے آپ پر طنز ہے۔

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے

ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

تم چاہے جتنا بھی ہوا، کسی صورت میرے نہ بن سکے۔

ورنہ اس دنیا میں کون سی بات ہے جو نہیں ہو جاتی؟

شاعر کو شکوہ ہے کہ بہت کچھ ممکن ہونے کے باوجود محبوب کی وابستگی نصیب نہ ہوئی۔ دوسری مصرعے کا استفہام اس بات پر زور دیتا ہے کہ دنیا میں سب کچھ ہو جاتا ہے، مگر یہی ایک خواہش پوری نہ ہو سکی۔ یہ تقدیر کے سامنے بے بسی اور یکطرفہ محبت کی کسک کو نمایاں کرتا ہے۔

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

ہم دونوں کے بیچ جو باہمی ٹھہراؤ اور طے شدہ بات تھی، کیا تمہیں یاد ہے یا نہیں؟

یعنی وفا سے وعدہ پورا کرنے کی بات، کیا وہی وعدہ تمہیں یاد ہے یا نہیں؟

شاعر محبوب سے پوچھتا ہے کہ جو رشتہ اور باہمی قرار کبھی تھا، کیا اس کی یاد اب بھی باقی ہے۔ “قرار” میں تعلق کی پختگی اور باہمی رضا شامل ہے، اور “وعدہ نباہ” وفاداری کی قسم ہے۔ “یاد ہو کہ نہ یاد ہو” کی تکرار شکایت بھی ہے اور بےبسی بھی، جیسے بھول جانا ہی بےوفائی بن گیا ہو۔ اس طرح شعر یاد اور وفا کو محبت کی کسوٹی بنا دیتا ہے۔

تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب

وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب

وصال کے عالم میں بھی ساری رات جدائی کا کھٹکا لگا رہا۔

وہ آ بھی گئے، پھر بھی ساری رات نیند نہ آ سکی۔

شعر میں یہ کیفیت ہے کہ محبوب کا پاس ہونا بھی دل کو مطمئن نہیں کرتا، کیونکہ جدائی کا خوف ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔ عاشق لمحۂ وصل میں بھی جدائی کو پہلے سے محسوس کرتا ہے۔ اسی اضطراب کی شدت سے رات بھر بے خوابی چھائی رہتی ہے۔

کیا جانے کیا لکھا تھا اسے اضطراب میں

قاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میں

پتہ نہیں میں نے بےچینی کی حالت میں اسے کیا کیا لکھ بھیجا تھا۔

میرے خط کے جواب میں جواب نہیں آیا، صرف قاصد کی لاش آئی۔

اس شعر میں خط و کتابت کا منظر اچانک المیے میں بدل جاتا ہے: عاشق کی گھبراہٹ میں لکھی باتیں بھی نامعلوم رہتی ہیں اور جواب بھی موت کی صورت آتا ہے۔ قاصد کی لاش تقدیر کی سفّاکی اور رابطے کے ٹوٹ جانے کی علامت ہے۔ کیفیت خوف، بےبسی اور دائمی جدائی کی ہے۔

میں بھی کچھ خوش نہیں وفا کر کے

تم نے اچھا کیا نباہ نہ کی

وفا کرنے کے بعد بھی مجھے کوئی خاص خوشی نہیں ملی۔

تم نے رشتہ نباہا نہیں، شاید یہی بہتر کیا۔

شاعر کہتا ہے کہ وفاداری بھی دل کو سکون نہیں دے سکی، اس میں بھی ایک تلخی رہ گئی۔ اسی لیے وہ طنزیہ انداز میں محبوب سے کہتا ہے کہ نباہ نہ کرنا اچھا ہوا، کیونکہ چلتی ہوئی محبت مزید اذیت بڑھا دیتی۔ یہ شعر شکوے کے ساتھ خود فہمی اور بےرخی کی حقیقت کو بھی مان لیتا ہے۔

شب جو مسجد میں جا پھنسے مومنؔ

رات کاٹی خدا خدا کر کے

جب مومنؔ رات کے وقت مسجد میں جا کر پھنس گیا،

تو اس نے پوری رات بس خدا کو پکارتے پکارتے گزار دی۔

اس شعر میں ہلکا سا طنز بھی ہے اور بےچینی بھی: مسجد جیسے مقدس مقام پر “خدا خدا” کہنا عبادت بھی بن جاتا ہے اور گھبراہٹ کا اظہار بھی۔ رات کاٹنے کا مطلب یہ ہے کہ وقت مشکل سے گزرا۔ یوں دعا اور خوف ایک ہی جملے میں گھل مل جاتے ہیں۔

مانگا کریں گے اب سے دعا ہجر یار کی

آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ

اب سے ہم محبوب کے ہجر کی دعا مانگا کریں گے۔

آخرکار دعا کی قبولیت اور ہماری چاہت میں گویا دشمنی ہے۔

شاعر ایک تلخ طنز کے ساتھ کہتا ہے کہ جب دعا کا اثر اکثر الٹا نکلتا ہے تو بہتر ہے ہجر ہی مانگ لیا جائے۔ یہاں “دشمنی” سے مراد یہ احساس ہے کہ تقدیر/قبولیت انسان کی مراد کے خلاف جا کھڑی ہوتی ہے۔ مرکزی کیفیت بے بسی اور دل شکستگی ہے جسے شاعر الٹی دعا کی صورت میں بیان کرتا ہے۔

چل دئیے سوئے حرم کوئے بتاں سے مومنؔ

جب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا

مومنؔ بتوں کی گلی چھوڑ کر حرم کی طرف چل پڑے۔

جب بتوں نے دکھ دیا تو خدا یاد آ گیا۔

یہ شعر عشقِ مجازی کے “بتوں” اور عشقِ حقیقی کے “حرم” کے بیچ کا تضاد دکھاتا ہے۔ محبوبوں سے رنج پہنچا تو دل میں خدا کی طرف رجوع پیدا ہوا اور آدمی نے پناہ ڈھونڈی۔ “کوئے بتاں” دنیاوی دلبستگی کی علامت ہے اور “سوئے حرم” توبہ و ایمان کی۔ مرکزی کیفیت ندامت اور دل شکستگی کے بعد کی روحانی بیداری ہے۔

رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح

اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح

آپ بھی اسی طرح گھنٹوں روتے رہیں گے۔

اگر آپ کا دل بھی کہیں میری طرح اٹک جائے۔

شاعر محبوب کو جتاتا ہے کہ جس اذیت میں وہ مبتلا ہے، کبھی آپ پر بھی وہی گزر سکتی ہے۔ “دل کا اٹک جانا” ایسی وابستگی کا استعارہ ہے جو چھوٹتی نہیں اور آدمی کو آگے بڑھنے نہیں دیتی، اسی لیے رونا دراز ہو جاتا ہے۔ اس میں تنبیہ بھی ہے اور ہلکا سا طنز بھی کہ سمجھ تب آئے گی جب درد اپنا ہو۔ بنیادی جذبہ جدائی کی تڑپ اور انصافِ وقت کی کاٹ ہے۔

الجھا ہے پانوں یار کا زلف دراز میں

لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

یار کا پاؤں اس کی لمبی زلفوں میں الجھ گیا ہے۔

دیکھئے، صیاد خود اپنے ہی دام میں آ پھنس گیا۔

شعر میں الٹ پھیر کی لطیف شوخی ہے: زلفِ دراز کو دام بنایا گیا ہے اور صیاد کی علامت والا عاشق/قابو رکھنے والا خود گرفتار ہو جاتا ہے۔ محبوب کی کشش ایسی ہے کہ جو پکڑنے چلا تھا وہی پکڑا گیا۔ اس میں محبت کی بے بسی اور غرور کے ٹوٹنے کا احساس جھلکتا ہے۔

وہ آئے ہیں پشیماں لاش پر اب

تجھے اے زندگی لاؤں کہاں سے

اب وہ پچھتاوے کے ساتھ میری لاش کے پاس آئے ہیں۔

اے زندگی، میں تجھے واپس لانے کے لیے کہاں سے لاؤں؟

یہ شعر دیر سے آنے والی پشیمانی کی بے معنویت دکھاتا ہے کہ جب محبوب/لوگ لاش پر شرمندہ ہو کر پہنچتے ہیں تو کچھ بدل نہیں سکتا۔ شاعر زندگی کو مخاطب کر کے اسے گویا واپس لانے کی کوشش کرتا ہے، مگر موت کی حتمیت سامنے آ جاتی ہے۔ لاش پر پشیماں آنا وقت کے ضائع ہونے اور ندامت کے کھوکھلے پن کی علامت ہے۔ اندرونی لہجہ شکوہ، دکھ اور بے بسی کا ہے۔

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک

شعلہ سا لپک جائے ہے آواز تو دیکھو

اس ناہید جیسی باوقار گانے والی کی ہر تان ایسی ہے جیسے دیپک راگ ہو جو آگ بھڑکا دے۔

ذرا اس کی آواز تو دیکھو، آواز اٹھتے ہی شعلہ سا لپک پڑتا ہے۔

شاعر گلوکارہ کی تاثیر کو اس مبالغے سے بیان کرتا ہے کہ اس کی ہر تان “دیپک” بن جاتی ہے، یعنی سُننے والے کے دل و فضا میں حرارت بھر دیتی ہے۔ “غیرتِ ناہید” سے حسن اور رفعت کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ اصل کیفیت حیرت اور سرشاری ہے کہ آواز محض آواز نہیں، شعلہ بن کر اُبھرتی ہے۔

کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی

کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

ایک زمانہ تھا کہ ہم دونوں کے دل میں ایک دوسرے کی چاہت تھی اور ملنے جلنے کا راستہ بھی تھا۔

ایک وقت ایسا بھی تھا کہ ہم تم ایک دوسرے سے بہت مانوس تھے، تمہیں یاد ہو یا نہ ہو۔

مومن خاں مومن اس شعر میں گزری ہوئی قربت کو یاد کر کے موجودہ دوری کا دکھ بیان کرتے ہیں۔ “چاہ” دل کی محبت ہے اور “راہ” ملنے کی صورت، یعنی تعلق کی آمد و رفت۔ آخری مصرع میں ہلکی سی شکایت بھی ہے کہ یاد شاید صرف شاعر کے پاس رہ گئی ہے۔ اصل کرب اس بات کا ہے کہ کبھی کی آشنائی اب محض یاد بن چکی ہے۔

آپ کی کون سی بڑھی عزت

میں اگر بزم میں ذلیل ہوا

اس سے آپ کی عزت میں کون سا اضافہ ہو گیا؟

اگر میں محفل میں رسوا ہوا تو آپ کو کیا فائدہ ہوا؟

شاعر محبوب سے شکوہ کرتا ہے کہ میری سرِبزم ذلت سے آپ کی شان کہاں بڑھ گئی۔ یہ طنزیہ سوال دراصل اس غرور کی نفی ہے جو کسی کی رسوائی پر کھڑا ہو۔ جذبے میں شکستہ دلی بھی ہے اور اپنی انا کی تلخی بھی کہ میرا دکھ بڑھا، آپ کی عزت نہیں۔

کس پہ مرتے ہو آپ پوچھتے ہیں

مجھ کو فکر جواب نے مارا

آپ پوچھتے ہیں کہ تم کس پر جان نچھاور کرتے ہو؟

مجھے تو جواب سوچنے کی فکر ہی کھا گئی۔

محبوب کے اچانک سوال سے عاشق گھبرا جاتا ہے۔ وہ نام لے کر اقرار بھی نہیں کر پاتا اور نہ انکار کر سکتا ہے، اس لیے اصل اذیت “فکرِ جواب” بن جاتی ہے۔ “مارا” یہاں جسمانی موت نہیں بلکہ ذہنی دباؤ اور شرمندگی کی شدت کا استعارہ ہے۔ شعر میں عشق کے ساتھ ظرافت اور نازک نفسی بھی ہے۔

کسی کا ہوا آج کل تھا کسی کا

نہ ہے تو کسی کا نہ ہوگا کسی کا

آج کل وہ کسی اور کے ہو گئے ہیں، حالانکہ پہلے کسی اور کے تھے۔

تم حقیقت میں نہ کسی کے ہو نہ آئندہ کسی کے ہو سکو گے۔

مومن خاں مومن اس شعر میں رشتوں کی ناپائیداری اور محبت کی بدلتی نسبت کو دکھاتے ہیں۔ “کسی کا” کی تکرار ملکیت کے وہم پر ضرب ہے کہ انسان کو باندھ کر رکھنا ممکن نہیں۔ شاعر کا لہجہ شکوہ آمیز بھی ہے اور حقیقت پسند بھی، جیسے دل نے انجام سمجھ کر خود کو سنبھال لیا ہو۔ مرکزی احساس بےوفائی اور مایوسی کے ساتھ ایک تلخ بصیرت ہے۔

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

پر کیا کریں کہ ہو گئے ناچار جی سے ہم

میں نے دل میں پکا ارادہ کر لیا تھا کہ اب کسی سے نہیں ملوں گا۔

مگر کیا کروں، میری اپنی زندگی نے مجھے مجبور اور بے بس کر دیا۔

اس شعر میں ارادے اور مجبوری کی کشمکش ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس نے دل میں تنہائی اختیار کرنے کی ٹھان لی تھی، مگر “جی” یعنی زندگی/دل کی ضرورتوں نے اسے ناچار کر دیا۔ چاہے رنج ہو یا انا، انسان پھر بھی تعلق سے بچ نہیں پاتا۔ جذباتی مرکز بے بسی اور اندرونی کھنچاؤ ہے۔

اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل

میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

اس کے نقشِ پا کو سجدہ کرنے نے مجھے طرح طرح سے رسوا کر دیا۔

میں اس قدر بے بس ہوا کہ رقیب کے کوچے میں بھی سر جھکا کر جا پڑا۔

یہاں نقشِ پا محبوب کی علامت ہے اور سجدہ حد سے بڑھی ہوئی عقیدت کا استعارہ۔ شاعر کہتا ہے کہ اسی پرستش نے اسے بار بار ذلیل کیا، یہاں تک کہ غیرت کی حد بھی ٹوٹ گئی۔ رقیب کے کوچے میں سر کے بل جانا اس بات کی انتہا ہے کہ عشق نے انا اور وقار سب چھین لیا۔ جذبے کی تہہ میں بے بسی اور اپنی رسوائی کا تیز شعور ہے۔

ہے کچھ تو بات مومنؔ جو چھا گئی خموشی

کس بت کو دے دیا دل کیوں بت سے بن گئے ہو

مومنؔ، ضرور کوئی وجہ ہے کہ تم پر ایسی خاموشی چھا گئی ہے۔

تم نے دل کس بُت کو دے دیا، اور خود بُت جیسے کیوں ہو گئے ہو؟

اس شعر میں خاموشی کو دل کے اندر کے طوفان کی علامت بنایا گیا ہے۔ “بُت” محبوب کے بےحس اور سنگ دل حسن کا استعارہ ہے، جس کے آگے دل ہار دیا جاتا ہے۔ شاعر تعجب سے پوچھتا ہے کہ کس کے سپردگی نے تمہیں اتنا ساکت کر دیا کہ تم خود بھی پتھر کے سے، بےآواز ہو گئے۔

حال دل یار کو لکھوں کیوں کر

ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا

میں اپنے دل کا حال محبوب کو کیسے لکھوں؟

میرا ہاتھ دل سے الگ ہی نہیں ہو پاتا کہ لکھنا شروع کروں۔

شاعر محبوب تک دل کی کیفیت پہنچانا چاہتا ہے مگر شدتِ جذبات اسے قلم اٹھانے نہیں دیتی۔ یہاں ہاتھ عمل اور لکھنے کی قوت کی علامت ہے اور دل غم و محبت کی گرفت کا استعارہ۔ کیفیت یہ ہے کہ دل کی گرفت اتنی مضبوط ہے کہ اظہار کا ذریعہ بھی مفلوج ہو جاتا ہے۔ اس طرح بے بسی اور عشق کی تڑپ ایک ساتھ نمایاں ہوتی ہے۔

ناوک انداز جدھر دیدۂ جاناں ہوں گے

نیم بسمل کئی ہوں گے کئی بے جاں ہوں گے

محبوب کی نگاہ جدھر اٹھے گی، وہیں تیر چلانے والی ادا ہوگی۔

اس طرف کئی لوگ ادھ مُوئے ہوں گے اور کئی بالکل بے جان پڑے ہوں گے۔

یہاں دیدۂ جاناں کو تیر اور محبوب کو ناوک انداز کہا گیا ہے: اس کی ایک نظر کئی دلوں کو زخمی کر دیتی ہے۔ کچھ عاشق نیم بسمل کی طرح تڑپتے رہ جاتے ہیں اور کچھ مکمل طور پر فنا ہو جاتے ہیں۔ شعر کا مرکزی جذبہ عاشق کی بے بسی اور محبوب کی بے نیازی کی کاٹ ہے۔

ہنس ہنس کے وہ مجھ سے ہی مرے قتل کی باتیں

اس طرح سے کرتے ہیں کہ گویا نہ کریں گے

وہ ہنستے ہنستے مجھ ہی سے میری جان لینے جیسی باتیں کرتے ہیں۔

وہ انداز ایسا رکھتے ہیں جیسے یہ کام کرنے والے ہی نہیں۔

شاعر محبوب کی بےرحمی کو دکھاتا ہے کہ وہ قتل کو استعارہ بنا کر اذیت کی بات بھی ہنسی میں کہہ دیتا/دیتی ہے۔ باتوں میں دھمکی بھی ہے مگر لہجہ اتنا بےپروا اور شوخ ہے کہ جیسے کچھ ہونے والا نہیں۔ یہی تضاد اور طنزیہ انداز عاشق کے دل پر گہرا زخم چھوڑ دیتا ہے۔

نہ کرو اب نباہ کی باتیں

تم کو اے مہربان دیکھ لیا

اب رشتہ نبھانے کی باتیں مت کرو۔

اے مہربان، میں تمہیں جیسا تم ہو ویسا پہچان چکا ہوں۔

شاعر کہتا ہے کہ اب نباہ کی بات بے معنی ہے، کیونکہ محبوب کی حقیقت سامنے آ چکی ہے۔ 'مہربان' کا لفظ یہاں طنزیہ ہو جاتا ہے: جسے مہربان کہا جا رہا ہے اسی سے دل آزاری ہوئی۔ اس شعر میں ادراک کے بعد پیدا ہونے والی دل شکستگی اور لاتعلقی کا کرب نمایاں ہے۔

تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے

ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے

تم کہاں جاؤ گی؟ کوئی اپنا ٹھکانہ بنا لو، کہیں ٹک جاؤ۔

میں تو کل عدم کے خواب میں صرف ہجر کی رات بن کر رہ جاؤں گا۔

شاعر محبوبہ کو تنبیہ کرتا ہے کہ اپنے لیے کوئی ٹھکانہ اور سہارا بنا لے، کیونکہ جدائی نزدیک ہے۔ وہ اپنی حالت کو یوں بیان کرتا ہے کہ کل وہ خوابِ عدم میں اتر جائے گا، یعنی جیسے وجود ہی مٹ جائے۔ “شبِ ہجراں” بن جانا اس درد کی شدت ہے کہ اس کی شناخت ہی جدائی اور خلا رہ جائے۔ اس میں محبت بھی ہے اور الوداع کا کرب بھی۔

چارۂ دل سوائے صبر نہیں

سو تمہارے سوا نہیں ہوتا

میرے دل کے درد کا علاج صبر کے سوا کچھ نہیں۔

اس لیے تمہارے بغیر کچھ بھی نہیں ہو پاتا۔

شاعر کہتا ہے کہ دل کی بے قراری کا واحد سہارا صبر ہے، مگر یہ صبر بھی محبوب کی نسبت سے معنی پاتا ہے۔ محبوب کے بغیر نہ دل کو قرار آتا ہے نہ جینے کی کوئی صورت بنتی ہے۔ یوں عشق کی بے بسی اور انتظار کی کیفیت ایک ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔

ڈرتا ہوں آسمان سے بجلی نہ گر پڑے

صیاد کی نگاہ سوئے آشیاں نہیں

مجھے ڈر ہے کہ آسمان سے کہیں بجلی آ کر گر نہ جائے۔

حالانکہ صیاد کی نظر میرے آشیانے کی طرف ہے ہی نہیں۔

اس شعر میں شاعر بے وجہ یا غلط سمت کے خوف کو دکھاتا ہے: ایک طرف آسمانی بجلی جیسا غیر یقینی عذاب، دوسری طرف وہ صیاد جس سے خطرہ سمجھا جاتا تھا مگر اس کی نگاہ آشیانے پر نہیں۔ بجلی تقدیر کی اچانک مار کی علامت ہے اور آشیانہ نازک پناہ گاہ کا استعارہ۔ جذبہ یہ ہے کہ آدمی کبھی حقیقی خطرے سے نہیں، اپنے اندیشوں سے زیادہ لرزتا ہے۔

مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ

بدنامی عشاق کا اعزاز تو دیکھو

محفل میں جیسے ہی میرا نام لیا گیا، وہ فوراً اٹھ کر چلے گئے۔

ذرا دیکھو، عاشقوں کی بدنامی کو بھی کیسا اعزاز بنا کر دکھایا جا رہا ہے۔

شعر میں محبوب کا یوں اٹھ جانا اس بات کی علامت ہے کہ عاشق کا ذکر محفل میں رسوائی سمجھا جاتا ہے۔ شاعر تلخی اور طنز کے ساتھ کہتا ہے کہ عاشقوں کے حصے میں عزت نہیں، بدنامی آتی ہے—اور اسی بدنامی کو وہ الٹا “اعزاز” کہہ کر دکھاتا ہے۔ یہ سماجی دباؤ اور عشق کی سزا کا کرب بھی ہے۔

معشوق سے بھی ہم نے نبھائی برابری

واں لطف کم ہوا تو یہاں پیار کم ہوا

ہم نے معشوق کے سامنے بھی اپنے آپ کو برابر رکھا، جھک کر یک طرفہ محبت نہیں کی۔

اُس طرف لطف میں کمی آئی تو اِس طرف ہمارے پیار میں بھی کمی ہو گئی۔

شعر میں محبت کو باہمی ترازو پر رکھا گیا ہے: دینے اور پانے میں برابری۔ شاعر اپنی خودداری ظاہر کرتا ہے کہ معشوق کی طرف سے اگر لطف و التفات کم ہو تو وہ بھی پیار کم کر دیتا ہے۔ “واں” اور “یہاں” دو طرفوں کی نسبت سے ایک ناپ تول پیدا کرتے ہیں۔ جذبہ یہی ہے کہ محبت یک طرفہ نہیں، متناسب اور دوطرفہ ہے۔

مومنؔ خدا کے واسطے ایسا مکاں نہ چھوڑ

دوزخ میں ڈال خلد کو کوئے بتاں نہ چھوڑ

مومنؔ، خدا کے لیے ایسا قیمتی ٹھکانا مت چھوڑو۔

اگر جنت کو دوزخ میں بھی ڈالنا پڑے تو بھی کوئےِ بتاں مت چھوڑو۔

اس شعر میں عاشق ایک پُراثر التجا کرتا ہے کہ محبوبوں کی گلی—یعنی عشق کی دنیا—سے الگ نہ ہو۔ مبالغے کے ساتھ کہا گیا ہے کہ جنت بھی اگر رکاوٹ بنے تو اسے دوزخ میں ڈال دو مگر قربِ محبوب نہ چھوڑو۔ جنت و دوزخ کی علامتیں دنیاوی نجات کے تصور کے مقابل عشق کی ترجیح دکھاتی ہیں۔ جذباتی مرکز وفاداری اور شدید وابستگی ہے۔

بہر عیادت آئے وہ لیکن قضا کے ساتھ

دم ہی نکل گیا مرا آواز پا کے ساتھ

وہ میری عیادت کے لیے تو آئے، مگر اُن کے ساتھ موت بھی آ پہنچی۔

اُن کے قدموں کی آہٹ سن کر ہی میری سانس ٹوٹ گئی۔

اس شعر میں محبوب کی عیادت ایک خوشی کے بجائے تقدیر کی کڑوی چال بن جاتی ہے، جیسے وہ اپنے ساتھ قضا کو لے آیا ہو۔ آوازِ پا محبوب کی آمد کی علامت ہے، مگر یہی علامت جان نکلنے کا سبب بن جاتی ہے۔ یوں محبت، انتظار اور فنا ایک ہی لمحے میں گڈمڈ ہو جاتے ہیں اور طنزیہ المیہ پیدا ہوتا ہے۔

کیا ملا عرض مدعا کر کے

بات بھی کھوئی التجا کر کے

مدعا عرض کر کے بھی مجھے آخر کیا حاصل ہوا؟

التجا کر کے میں نے اپنی بات اور اپنی توقیر بھی گنوا دی۔

شاعر ندامت کے ساتھ کہتا ہے کہ خواہش و مدعا پیش کرنے سے کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ الٹا منت سماجت نے اس کی ’بات‘ یعنی وقار اور وزن کم کر دیا۔ ردِّعمل کی اذیت کے ساتھ خودداری کے ٹوٹنے کا احساس پورے شعر میں جھلکتا ہے۔

کل تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے

کھوئے گئے ہم ایسے کہ اغیار پا گئے

کل غیر لوگوں کی محفل میں تم نے جان بوجھ کر میری طرف دیکھنے سے گریز کیا۔

میں اس طرح ٹوٹ کر گم ہو گیا کہ بیگانے بھی مجھے ڈھونڈ کر پا گئے۔

شاعر محبوب کی آنکھیں چرانے کو بےاعتنائی اور بیگانگی کی علامت بناتا ہے، خاص طور پر “بزمِ غیر” میں جہاں یہ سردمہری سب کے سامنے ہو جاتی ہے۔ اس اشارے سے عاشق ایسی شکست و زوال میں جاتا ہے کہ اپنی سنبھال کھو بیٹھتا ہے۔ درد یہ ہے کہ اس کی کمزوری اور رسوائی پر اغیار کی نظر پڑ جاتی ہے اور وہ اسے اپنے دائرے میں لے لیتے ہیں۔ یوں غیرت، ذلت اور دل شکستگی ایک ہی منظر میں سمٹ آتی ہیں۔

نہ مانوں گا نصیحت پر نہ سنتا میں تو کیا کرتا

کہ ہر ہر بات میں ناصح تمہارا نام لیتا تھا

میں نصیحت ماننے کو تیار نہیں تھا؛ اور اگر سن بھی لیتا تو آخر کیا کر پاتا؟

کیونکہ ناصح ہر بات میں تمہارا ہی نام لے کر سمجھاتا تھا۔

شاعر طنزیہ انداز میں کہتا ہے کہ ایسی نصیحت سننا بھی بےکار تھا، کیونکہ واعظ کی ہر بات تمہارے نام سے جڑی ہوئی تھی۔ یوں سمجھانا کم اور چوٹ کرنا زیادہ بن جاتا ہے، اور دل ضد پر آ جاتا ہے۔ اس شعر میں محبت کی سرکشی اور ناصح کی جانبداری کا شکوہ نمایاں ہے۔

غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا

میری طرف بھی غمزۂ غماز دیکھنا

خیال رکھنا کہ ہمارا راز کہیں غیروں پر ظاہر نہ ہو جائے۔

مگر اسی کے ساتھ میری طرف بھی وہ بھید کھول دینے والا ناز بھرا اشارۂ چشم دیکھنا۔

شاعر محبوب کو تنبیہ کرتا ہے کہ محبت کی باتیں غیروں پر نہ کھلیں، کیونکہ ذرا سی لغزش بدنامی کا سبب بن سکتی ہے۔ “غمزۂ غمّاز” ایسی نگاہ ہے جو ناز بھی ہے اور راز فاش بھی کر دیتی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ محبوب اسے دیکھے، مگر ڈر ہے کہ یہی نگاہ سب کچھ ظاہر نہ کر دے۔ اس میں خواہش اور احتیاط کی کشمکش ہے۔

ہو گیا راز عشق بے پردہ

اس نے پردہ سے جو نکالا منہ

عشق کا راز چھپا نہ رہا، سب پر ظاہر ہو گیا۔

کیونکہ اس نے پردے کے پیچھے سے اپنا چہرہ ذرا نکال دیا۔

یہ شعر پردے کو صرف کپڑے کے پردے کے طور پر نہیں بلکہ راز داری کی علامت کے طور پر بھی برتتا ہے۔ محبوبہ کا پردے سے منہ نکالنا ایسا اشارہ بن جاتا ہے کہ عاشق کی چھپی ہوئی کیفیت سب پر کھل جاتی ہے۔ معمولی سی جھلک ہی عشق کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ جذبے کی شدت اور بے بسی اس میں نمایاں ہے۔

ہم سمجھتے ہیں آزمانے کو

عذر کچھ چاہیے ستانے کو

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تم ہمیں بس پرکھ رہے ہو۔

ہمیں ستانے کے لیے تمہیں کوئی نہ کوئی بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔

شاعر محبوب کے ستم کو حقیقی ناراضی نہیں بلکہ آزمائش قرار دیتا ہے۔ “عذر” سے اشارہ ملتا ہے کہ محبوب ستانے کے لیے وجہ تراشتا ہے اور اسی میں ناز و ادا ہے۔ اس میں شکوہ بھی ہے اور یہ مان لینا بھی کہ عشق میں یہ تلخی ایک طرح کی رسمِ امتحان ہے۔

ہو گئے نام بتاں سنتے ہی مومنؔ بے قرار

ہم نہ کہتے تھے کہ حضرت پارسا کہنے کو ہیں

بتوں جیسے حسینوں کا نام سنتے ہی مومنؔ بے چین ہو گیا۔

میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ حضرت صرف کہنے کو پارسا ہیں۔

اس شعر میں بناوٹی پارسائی پر طنز ہے۔ “نامِ بتاں” محبوبوں/حسینوں کا ذکر ہے، اور “بے قرار” ہونا اس بات کا ثبوت کہ دل میں خواہش چھپی نہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ جو شخص خود کو پارسا ظاہر کرتا ہے، وہ محض دعوے کی حد تک نیک ہے؛ حقیقت میں وہ بھی اسی کشش کا اسیر ہے۔

کچھ قفس میں ان دنوں لگتا ہے جی

آشیاں اپنا ہوا برباد کیا

آج کل میرا دل جیسے قفس ہی میں لگنے لگا ہے۔

میں نے اپنا ہی آشیاں خود اپنے ہاتھوں برباد کر دیا۔

شاعر ایک تلخ اعتراف کرتا ہے کہ قید اب اسے مانوس سی لگنے لگی ہے۔ قفس پابندیوں اور بے بسی کی علامت ہے، اور آشیاں اصل گھر، آزادی اور اپنا ٹھکانا۔ دوسرے مصرعے میں خود کو قصوروار ٹھہرا کر وہ پچھتاوا اور شکستہ دلی ظاہر کرتا ہے۔ جذبے کی گہرائی یہی ہے کہ جب اپنا گھر اجڑ جائے تو قید بھی عادت بن جاتی ہے۔

سوز غم سے اشک کا ایک ایک قطرہ جل گیا

آگ پانی میں لگی ایسی کہ دریا جل گیا

غم کی تپش اتنی تھی کہ آنسو کا ایک ایک قطرہ بھی جل کر رہ گیا۔

پانی کے اندر ایسی آگ بھڑکی کہ یوں لگا جیسے دریا تک جل اٹھا۔

شاعر نے غم کو آگ کی صورت میں پیش کیا ہے جو آنسو جیسے پانی کو بھی جلا دے۔ یہ ایک جان بوجھ کر باندھا ہوا تضاد ہے: عام طور پر پانی آگ بجھاتا ہے مگر یہاں شدتِ غم فطرت کا قاعدہ الٹ دیتی ہے۔ “پانی میں آگ” اس باطنی کرب کی علامت ہے جو تسکین کے بجائے اور پھیلتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ دریا جیسی وسعت بھی جلتی محسوس ہوتی ہے۔

اتنی کدورت اشک میں حیراں ہوں کیا کہوں

دریا میں ہے سراب کہ دریا سراب میں

میرے آنسوؤں میں اتنی کدورت ہے کہ میں حیران رہ گیا ہوں، کیا کہوں۔

سمجھ نہیں آتا کہ دریا میں سراب ہے یا خود دریا ہی سراب کے اندر ہے۔

اس شعر میں غم کی شدت کو آنسوؤں کی کدورت سے ظاہر کیا گیا ہے، جیسے رونے سے بھی دل صاف نہیں ہوتا۔ دریا حقیقت اور سراب فریب کی علامت ہے، مگر شاعر نے دونوں کو الٹ کر ایک الجھی ہوئی کیفیت بنا دی ہے۔ یہی الٹ پھیر بتاتا ہے کہ دکھ نے نظر کو ایسا دھندلا دیا ہے کہ حقیقت اور وہم میں فرق باقی نہیں رہا۔

رہ کے مسجد میں کیا ہی گھبرایا

رات کاٹی خدا خدا کر کے

مسجد میں رہ کر بھی میں بہت گھبرا گیا، دل کو سکون نہ ملا۔

میں نے پوری رات خدا کو یاد کر کے، بار بار “خدا، خدا” کہتے ہوئے گزار دی۔

اس شعر میں باطن کی بے قراری نمایاں ہے کہ عبادت گاہ میں بھی دل کو اطمینان نصیب نہیں ہوتا۔ “خدا خدا” کہنا دعا بھی ہے اور گھبراہٹ میں نکلا ہوا سہارا بھی، جیسے آدمی رات بھر اپنے خوف سے لڑتا رہے۔ جذبہ یہ ہے کہ دل کی پریشانی کو صرف یادِ خدا ہی تھام سکتی ہے، مگر قرار پھر بھی مشکل سے ملتا ہے۔

تاب نظارہ نہیں آئنہ کیا دیکھنے دوں

اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے

تم میں اتنی طاقت نہیں کہ یہ منظر سہہ سکو، پھر میں تمہیں آئینہ کیسے دیکھنے دوں؟

اگر تم پر حیرت طاری ہوئی تو تم تصویر کی طرح ساکت ہو جاؤ گے۔

یہ شعر آئینے کو حُسن اور خود شناسی کے استعارے کے طور پر لاتا ہے۔ شاعر شوخی اور حیا کے ساتھ کہتا ہے کہ دیکھنے والے میں تابِ نظارہ نہیں، اس لیے آئینہ دکھانا بھی خطرہ ہے۔ حیرت کا اتنا غلبہ ہوگا کہ انسان جیسے جم کر رہ جائے اور تصویر بن جائے۔ یوں مبالغہ بھی ہے اور حسن کے اثر کی نرمی سے بیان بھی۔

کر علاج جوش وحشت چارہ گر

لا دے اک جنگل مجھے بازار سے

اے چارہ گر، میری وحشت کے جوش کا علاج کر دو۔

بازار کی بھیڑ سے مجھے ایک جنگل لا کر دے دو۔

شاعر اپنی باطنی بے قراری کو بیماری سمجھ کر چارہ گر سے فریاد کرتا ہے، مگر علاج کے طور پر دوا نہیں مانگتا۔ وہ چاہتا ہے کہ بازار کی گھٹن اور ہجوم کے بدلے جنگل کی تنہائی اور وسعت مل جائے۔ یہاں بازار دنیا کی شورش ہے اور جنگل سکون و آزادی کی علامت، جہاں دل کی وحشت ٹھہر سکے۔

صاحب نے اس غلام کو آزاد کر دیا

لو بندگی کہ چھوٹ گئے بندگی سے ہم

آقا نے اس غلام کو رہائی دے دی۔

دیکھو کیسی بندگی ہے کہ ہم بندگی ہی سے چھوٹ گئے۔

شعر میں محبوب کو “صاحب” اور عاشق کو “غلام” کہا گیا ہے، جہاں بندگی دراصل عشق کی رضاکارانہ غلامی ہے۔ محبوب نے جب آزادی دی، یعنی تعلق توڑ دیا یا قربت چھین لی، تو عاشق کی بندگی ہی ختم ہو گئی۔ یہاں آزادی کو نعمت نہیں بلکہ محرومی بنا کر پیش کیا گیا ہے، اسی میں طنزیہ درد چھپا ہے۔

ہے کس کا انتظار کہ خواب عدم سے بھی

ہر بار چونک پڑتے ہیں آواز پا کے ساتھ

تم کس کے انتظار میں ہو کہ عدم کی نیند بھی سکون نہیں دیتی؟

ہر بار قدموں کی آہٹ سن کر تم چونک کر جاگ اٹھتے ہو۔

شاعر محبوب کے انتظار کی ایسی شدت بیان کرتا ہے کہ آدمی کو عدم کی نیند، یعنی موت جیسی بے خبری بھی قرار نہیں دیتی۔ ذرا سی آوازِ پا امید کو جگا دیتی ہے اور دل چونک اٹھتا ہے کہ شاید وہ آ گیا۔ اس میں بے قراری، امید اور عاشقانہ تڑپ کا گہرا رنگ ہے۔

راز نہاں زبان اغیار تک نہ پہنچا

کیا ایک بھی ہمارا خط یار تک نہ پہنچا

میرا چھپا ہوا راز غیر لوگوں کی باتوں تک نہیں پہنچا۔

مگر کیا میرا ایک بھی خط محبوب تک نہیں پہنچا؟

اس شعر میں ایک تلخ طنز ہے: راز تو اغیار کی زبان تک نہ گیا، یعنی بدنامی سے بچ گئے، مگر محبت کی خبر بھی یار تک نہ پہنچی۔ شاعر “پہنچنے” کے ایک ہی لفظ سے حفاظت اور محرومی دونوں کو سامنے لاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ دل کی بات کا راستہ بند ہے اور ہجر کی کسک بڑھ جاتی ہے۔

بے خود تھے غش تھے محو تھے دنیا کا غم نہ تھا

جینا وصال میں بھی تو ہجراں سے کم نہ تھا

میں اپنے ہوش میں نہ تھا، غشی اور محویت میں تھا، اس لیے دنیا کا کوئی غم محسوس نہیں ہوتا تھا۔

لیکن وصال کی حالت میں جینا بھی ہجراں کے دکھ سے کچھ کم نہیں تھا۔

شاعر محبت کی ایسی شدت بیان کرتا ہے کہ عاشق خودی سے بےخبر ہو کر دنیا کے غم بھول جاتا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ محبوب مل جانے پر بھی دل کی بےقراری ختم نہیں ہوتی۔ وصال میں بھی ایک طرح کی تڑپ اور اندیشہ رہتا ہے، اس لیے سکون نہیں ملتا۔ یوں ہجراں اور وصال دونوں میں درد کی یکسانیت دکھائی گئی ہے۔

نے جائے واں بنے ہے نے بن جائے چین ہے

کیا کیجئے ہمیں تو ہے مشکل سبھی طرح

نہ وہاں جانے سے بات بنتی ہے، نہ نہ جانے سے دل کو چین ملتا ہے۔

اب کیا کریں، ہمارے لیے ہر صورت مشکل ہی ہے۔

شاعر محبوب کے معاملے میں دوراہے پر ہے: جانا بھی نقصان اور نہ جانا بھی عذابِ بےچینی۔ “واں” محبوب کی سمت/قربت کی علامت ہے اور “چین” دل کے سکون کی۔ دونوں طرف تکلیف ہونے سے یہ شعر بےبسی اور اضطراب کی شدت کو نمایاں کرتا ہے۔

Recitation

بولیے