Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Mubarak Azimabadi's Photo'

مبارک عظیم آبادی

1896 - 1959 | پٹنہ, انڈیا

بہار کے ممتاز مابعد کلاسیکی شاعر

بہار کے ممتاز مابعد کلاسیکی شاعر

مبارک عظیم آبادی کے اشعار

28K
Favorite

باعتبار

تیری بخشش کے بھروسے پہ خطائیں کی ہیں

تیری رحمت کے سہارے نے گنہ گار کیا

تیری بخشش کے بھروسے پہ خطائیں کی ہیں

تیری رحمت کے سہارے نے گنہ گار کیا

جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں

دل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیں

جو نگاہ ناز کا بسمل نہیں

دل نہیں وہ دل نہیں وہ دل نہیں

مجھ کو معلوم ہے انجام محبت کیا ہے

ایک دن موت کی امید پہ جینا ہوگا

مجھ کو معلوم ہے انجام محبت کیا ہے

ایک دن موت کی امید پہ جینا ہوگا

پھول کیا ڈالوگے تربت پر مری

خاک بھی تم سے نہ ڈالی جائے گی

پھول کیا ڈالوگے تربت پر مری

خاک بھی تم سے نہ ڈالی جائے گی

رہنے دے اپنی بندگی زاہد

بے محبت خدا نہیں ملتا

رہنے دے اپنی بندگی زاہد

بے محبت خدا نہیں ملتا

دن بھی ہے رات بھی ہے صبح بھی ہے شام بھی ہے

اتنے وقتوں میں کوئی وقت ملاقات بھی ہے

دن بھی ہے رات بھی ہے صبح بھی ہے شام بھی ہے

اتنے وقتوں میں کوئی وقت ملاقات بھی ہے

تری ادا کی قسم ہے تری ادا کے سوا

پسند اور کسی کی ہمیں ادا نہ ہوئی

تری ادا کی قسم ہے تری ادا کے سوا

پسند اور کسی کی ہمیں ادا نہ ہوئی

ہنسی ہے دل لگی ہے قہقہے ہیں

تمہاری انجمن کا پوچھنا کیا

ہنسی ہے دل لگی ہے قہقہے ہیں

تمہاری انجمن کا پوچھنا کیا

کب وہ آئیں گے الٰہی مرے مہماں ہو کر

کون دن کون برس کون مہینہ ہوگا

کب وہ آئیں گے الٰہی مرے مہماں ہو کر

کون دن کون برس کون مہینہ ہوگا

آپ کا اختیار ہے سب پر

آپ پر اختیار کس کا ہے

آپ کا اختیار ہے سب پر

آپ پر اختیار کس کا ہے

جو دل نشیں ہو کسی کے تو اس کا کیا کہنا

جگہ نصیب سے ملتی ہے دل کے گوشوں میں

جو دل نشیں ہو کسی کے تو اس کا کیا کہنا

جگہ نصیب سے ملتی ہے دل کے گوشوں میں

مہربانی چارہ سازوں کی بڑھی

جب بڑھا درماں تو بیماری بڑھی

مہربانی چارہ سازوں کی بڑھی

جب بڑھا درماں تو بیماری بڑھی

اپنی سی کرو تم بھی اپنی سی کریں ہم بھی

کچھ تم نے بھی ٹھانی ہے کچھ ہم نے بھی ٹھانی ہے

اپنی سی کرو تم بھی اپنی سی کریں ہم بھی

کچھ تم نے بھی ٹھانی ہے کچھ ہم نے بھی ٹھانی ہے

قبول ہو کہ نہ ہو سجدہ و سلام اپنا

تمہارے بندے ہیں ہم بندگی ہے کام اپنا

قبول ہو کہ نہ ہو سجدہ و سلام اپنا

تمہارے بندے ہیں ہم بندگی ہے کام اپنا

بے وفا عمر دغاباز جوانی نکلی

نہ یہی رہتی ہے ظالم نہ وہی رہتی ہے

بے وفا عمر دغاباز جوانی نکلی

نہ یہی رہتی ہے ظالم نہ وہی رہتی ہے

ملو ملو نہ ملو اختیار ہے تم کو

اس آرزو کے سوا اور آرزو کیا ہے

ملو ملو نہ ملو اختیار ہے تم کو

اس آرزو کے سوا اور آرزو کیا ہے

لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاس

اب کے چھوڑ آؤں گا ظالم کو ستم گار کے پاس

لے چلا پھر مجھے دل یار دل آزار کے پاس

اب کے چھوڑ آؤں گا ظالم کو ستم گار کے پاس

دامن اشکوں سے تر کریں کیوں کر

راز کو مشتہر کریں کیوں کر

دامن اشکوں سے تر کریں کیوں کر

راز کو مشتہر کریں کیوں کر

مری خاک بھی اڑے گی با ادب تری گلی میں

ترے آستاں سے اونچا نہ مرا غبار ہوگا

مری خاک بھی اڑے گی با ادب تری گلی میں

ترے آستاں سے اونچا نہ مرا غبار ہوگا

اک تری بات کہ جس بات کی تردید محال

اک مرا خواب کہ جس خواب کی تعبیر نہیں

اک تری بات کہ جس بات کی تردید محال

اک مرا خواب کہ جس خواب کی تعبیر نہیں

کب ان آنکھوں کا سامنا نہ ہوا

تیر جن کا کبھی خطا نہ ہوا

کب ان آنکھوں کا سامنا نہ ہوا

تیر جن کا کبھی خطا نہ ہوا

سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کو

یہ دوستی سمجھتا ہے دشمن کے پیار کو

سمجھائیں کس طرح دل ناکردہ کار کو

یہ دوستی سمجھتا ہے دشمن کے پیار کو

کسی نے برچھیاں ماریں کسی نے تیر مارے ہیں

خدا رکھے انہیں یہ سب کرم فرما ہمارے ہیں

کسی نے برچھیاں ماریں کسی نے تیر مارے ہیں

خدا رکھے انہیں یہ سب کرم فرما ہمارے ہیں

جو قیامت کا نہیں دن وہ مرا دن کیسا

جو تڑپ کر نہ کٹی ہو وہ مری رات نہیں

جو قیامت کا نہیں دن وہ مرا دن کیسا

جو تڑپ کر نہ کٹی ہو وہ مری رات نہیں

میں تو ہر ہر خم گیسو کی تلاشی لوں گا

کہ مرا دل ہے ترے گیسوئے خم دار کے پاس

میں تو ہر ہر خم گیسو کی تلاشی لوں گا

کہ مرا دل ہے ترے گیسوئے خم دار کے پاس

Recitation

بولیے