Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Saleem Ahmed's Photo'

سلیم احمد

1927 - 1983 | کراچی, پاکستان

پاکستان کے ممتاز ترین نقادوں میں نمایاں۔ اینٹی غزل رجحان اور جدیدیت مخالف رویے کے لئے مشہور

پاکستان کے ممتاز ترین نقادوں میں نمایاں۔ اینٹی غزل رجحان اور جدیدیت مخالف رویے کے لئے مشہور

سلیم احمد کے اشعار

11.3K
Favorite

باعتبار

در بہ در ٹھوکریں کھائیں تو یہ معلوم ہوا

گھر کسے کہتے ہیں کیا چیز ہے بے گھر ہونا

گھاس میں جذب ہوئے ہوں گے زمیں کے آنسو

پاؤں رکھتا ہوں تو ہلکی سی نمی لگتی ہے

نہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا

کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

سچ تو کہہ دوں مگر اس دور کے انسانوں کو

بات جو دل سے نکلتی ہے بری لگتی ہے

اتنی کاوش بھی نہ کر میری اسیری کے لیے

تو کہیں میرا گرفتار نہ سمجھا جائے

اس ایک چہرے میں آباد تھے کئی چہرے

اس ایک شخص میں کس کس کو دیکھتا تھا میں

نکل گئے ہیں جو بادل برسنے والے تھے

یہ شہر آب کو ترسے گا چشم تر کے بغیر

کسی کو کیا بتاؤں کون ہوں میں

کہ اپنی داستاں بھولا ہوا ہوں

منزل کا پتا ہے نہ کسی راہ گزر کا

بس ایک تھکن ہے کہ جو حاصل ہے سفر کا

میں وہ معنی غم عشق ہوں جسے حرف حرف لکھا گیا

کبھی آنسوؤں کی بیاض میں کبھی دل سے لے کے کتاب تک

چلی ہے موج میں کاغذ کی کشتی

اسے دریا کا اندازہ نہیں ہے

کون تو ہے کون میں کیسی وفا

حاصل ہستی ہیں کچھ رسوائیاں

دکھ دے یا رسوائی دے

غم کو مرے گہرائی دے

دیوتا بننے کی حسرت میں معلق ہو گئے

اب ذرا نیچے اتریے آدمی بن جائیے

خموشی کے ہیں آنگن اور سناٹے کی دیواریں

یہ کیسے لوگ ہیں جن کو گھروں سے ڈر نہیں لگتا

محلے والے میرے کار بے مصرف پہ ہنستے ہیں

میں بچوں کے لیے گلیوں میں غبارے بناتا ہوں

ساتھ اس کے رہ سکے نہ بغیر اس کے رہ سکے

یہ ربط ہے چراغ کا کیسا ہوا کے ساتھ

میرا شور غرقابی ختم ہو گیا آخر

اور رہ گیا باقی صرف شور دریا کا

سخت بیوی کو شکایت ہے جوان نو سے

ریل چلتی نہیں گر جاتا ہے پہلے سگنل

میں تجھ کو کتنا چاہتا ہوں

یہ کہنا غیر ضروری ہے

کوئی نہیں جو پتا دے دلوں کی حالت کا

کہ سارے شہر کے اخبار ہیں خبر کے بغیر

مجھ سے کہتا ہے کہ سائے کی طرح ساتھ ہیں ہم

یوں نہ ملنے کا نکالا ہے بہانہ کیسا

مجھے حرف غلط سمجھا تھا تو نے

سو میں معنی کا دفتر ہو گیا ہوں

وہ جنوں کو بڑھائے جائیں گے

ان کی شہرت ہے میری رسوائی

کیسے قصے تھے کہ چھڑ جائیں تو اڑ جاتی تھی نیند

کیا خبر تھی وہ بھی حرف مختصر ہو جائیں گے

اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا

روشنی کے ساتھ رہیئے روشنی بن جائیے

بارہا یوں بھی ہوا تیری محبت کی قسم

جان کر ہم نے تجھے خود سے خفا رکھا ہے

حال دل کون سنائے اسے فرصت کس کو

سب کو اس آنکھ نے باتوں میں لگا رکھا ہے

بدن کی آگ کو کہتے ہیں لوگ جھوٹی آگ

مگر اس آگ نے دل کو مرے گداز کیا

نہیں رہا میں ترے راستے کا پتھر بھی

وہ دن بھی تھے ترے احساس میں خدا تھا میں

یاد نے آ کر یکایک پردہ کھینچا دور تک

میں بھری محفل میں بیٹھا تھا کہ تنہا ہو گیا

جتنا آنکھ سے کم دیکھوں

اتنی دور دکھائی دے

یہ چاہا تھا کہ پتھر بن کے جی لوں

سو اندر سے پگھلتا جا رہا ہوں

خود اپنی دید سے اندھی ہیں آنکھیں

خود اپنی گونج سے بہرا ہوا ہوں

میں غم کو بسا رہا ہوں دل میں

بے گھر کو مکان دے رہا ہوں

سائے کو سائے میں گم ہوتے تو دیکھا ہوگا

یہ بھی دیکھو کہ تمہیں ہم نے بھلایا کیسے

قرب بدن سے کم نہ ہوئے دل کے فاصلے

اک عمر کٹ گئی کسی نا آشنا کے ساتھ

بہت طویل مری داستان غم تھی مگر

غزل سے کام لیا مختصر بنانے کا

وہ بے خودی تھی محبت کی بے رخی تو نہ تھی

پہ اس کو ترک تعلق کو اک بہانہ ہوا

آ کے اب جنگل میں یہ عقدہ کھلا

بھیڑیے پڑھتے نہیں ہیں فلسفہ

سفر میں عشق کے اک ایسا مرحلہ آیا

وہ ڈھونڈتا تھا مجھے اور کھو گیا تھا میں

خوش نما لفظوں کی رشوت دے کے راضی کیجیے

روح کی توہین پر آمادہ رہتا ہے بدن

حال دل ناگفتنی ہے ہم جو کہتے بھی تو کیا

پھر بھی غم یہ ہے کہ اس نے ہم سے پوچھا ہی نہیں

لباس درد بھی ہم نے اتارا

یہ کپڑے اب پرانے ہو چکے ہیں

زمیں یخ بستہ ہو جاتی ہے جب جاڑوں کی راتوں میں

میں اپنے دل کو سلگاتا ہوں انگارے بناتا ہوں

دل حسن کو دان دے رہا ہوں

گاہک کو دکان دے رہا ہوں

یہ نہیں ہے کہ نوازے نہ گئے ہوں ہم لوگ

ہم کو سرکار سے تمغہ ملا رسوائی کا

یہ کیسے لوگ ہیں صدیوں کی ویرانی میں رہتے ہیں

انہیں کمروں کی بوسیدہ چھتوں سے ڈر نہیں لگتا

جس آگ سے دل سلگ رہے تھے

اب اس سے دماغ جل رہے ہیں

اک آگ سی جلتی رہی تا عمر لہو میں

ہم اپنے ہی احساس میں پکتے رہے تا دیر

Recitation

بولیے