قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند
کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا
-
موضوعات : ضرب المثلاور 1 مزید
قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند
کچھ دور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا
-
موضوعات : ضرب المثلاور 1 مزید
اے کاش ہماری قسمت میں ایسی بھی کوئی شام آ جائے
اک چاند فلک پر نکلا ہو اک چاند سر بام آ جائے
-
موضوع : چاند
اے کاش ہماری قسمت میں ایسی بھی کوئی شام آ جائے
اک چاند فلک پر نکلا ہو اک چاند سر بام آ جائے
-
موضوع : چاند
ہم ہی ان کو بام پہ لائے اور ہمیں محروم رہے
پردہ ہمارے نام سے اٹھا آنکھ لڑائی لوگوں نے
ہم ہی ان کو بام پہ لائے اور ہمیں محروم رہے
پردہ ہمارے نام سے اٹھا آنکھ لڑائی لوگوں نے
آنکھوں میں دمک اٹھی ہے تصویر در و بام
یہ کون گیا میرے برابر سے نکل کر
آنکھوں میں دمک اٹھی ہے تصویر در و بام
یہ کون گیا میرے برابر سے نکل کر
اک برف سی جمی رہے دیوار و بام پر
اک آگ میرے کمرے کے اندر لگی رہے
اک برف سی جمی رہے دیوار و بام پر
اک آگ میرے کمرے کے اندر لگی رہے
اک داستان اب بھی سناتے ہیں فرش و بام
وہ کون تھی جو رقص کے عالم میں مر گئی
اک داستان اب بھی سناتے ہیں فرش و بام
وہ کون تھی جو رقص کے عالم میں مر گئی
جل اٹھے بزم غیر کے در و بام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے
جل اٹھے بزم غیر کے در و بام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے
احباب مجھ سے قطع تعلق کریں جگرؔ
اب آفتاب زیست لب بام آ گیا
-
موضوع : احباب
احباب مجھ سے قطع تعلق کریں جگرؔ
اب آفتاب زیست لب بام آ گیا
-
موضوع : احباب
جب سفر سے لوٹ کر آئے تو کتنا دکھ ہوا
اس پرانے بام پر وہ صورت زیبا نہ تھی
جب سفر سے لوٹ کر آئے تو کتنا دکھ ہوا
اس پرانے بام پر وہ صورت زیبا نہ تھی
اللہ رے ان کے حسن کی معجز نمائیاں
جس بام پر وہ آئیں وہی کوہ طور ہو
اللہ رے ان کے حسن کی معجز نمائیاں
جس بام پر وہ آئیں وہی کوہ طور ہو
ایک انگڑائی سے سارے شہر کو نیند آ گئی
یہ تماشا میں نے دیکھا بام پر ہوتا ہوا
ایک انگڑائی سے سارے شہر کو نیند آ گئی
یہ تماشا میں نے دیکھا بام پر ہوتا ہوا
مجھ کو بھی جاگنے کی اذیت سے دے نجات
اے رات اب تو گھر کے در و بام سو گئے
مجھ کو بھی جاگنے کی اذیت سے دے نجات
اے رات اب تو گھر کے در و بام سو گئے
میں جانتا ہوں مکینوں کی خامشی کا سبب
مکاں سے پہلے در و بام سے ملا ہوں میں
میں جانتا ہوں مکینوں کی خامشی کا سبب
مکاں سے پہلے در و بام سے ملا ہوں میں
جدا تھی بام سے دیوار در اکیلا تھا
مکیں تھے خود میں مگن اور گھر اکیلا تھا
جدا تھی بام سے دیوار در اکیلا تھا
مکیں تھے خود میں مگن اور گھر اکیلا تھا
وہ صبح کو اس ڈر سے نہیں بام پر آتا
نامہ نہ کوئی باندھ دے سورج کی کرن میں
وہ صبح کو اس ڈر سے نہیں بام پر آتا
نامہ نہ کوئی باندھ دے سورج کی کرن میں
ہم لب گور ہو گئے ظالم
تو لب بام کیوں نہیں آتا
ہم لب گور ہو گئے ظالم
تو لب بام کیوں نہیں آتا
کوئی بھی سجنی کسی بھی ساجن کی منتظر ہے نہ مضطرب ہے
تمام بام اور در بجھے ہیں کہیں بھی روشن دیا نہیں ہے
کوئی بھی سجنی کسی بھی ساجن کی منتظر ہے نہ مضطرب ہے
تمام بام اور در بجھے ہیں کہیں بھی روشن دیا نہیں ہے