Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بیدار پر اشعار

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

جب جوانوں کے اندر عقاب جیسی بلند پرواز روح جاگ اٹھتی ہے،

تو انہیں اپنا اصل مقام اور مقصد آسمانوں کی بلندیوں میں دکھائی دیتا ہے۔

علامہ اقبال یہاں “عقاب” کو بلند ہمتی، آزادی اور خوداعتمادی کی علامت بناتے ہیں۔ جب نوجوانوں میں اندرونی بیداری پیدا ہوتی ہے تو اُن کی سوچ عام اور محدود مقاصد سے اوپر اٹھ جاتی ہے۔ پھر انہیں اپنی منزل بھی بلند نظر آتی ہے اور وہ اونچے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ شعر خودی کو جگا کر عظمت کی طرف بڑھنے کا پیغام ہے۔

علامہ اقبال

کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے

رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا

ہجر ناظم علی خان

یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا

رات بھر طالع بیدار نے سونے نہ دیا

حیدر علی آتش

ہم کس کو دکھاتے شب فرقت کی اداسی

سب خواب میں تھے رات کو بیدار ہمیں تھے

تعشق لکھنوی

وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے

کلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہو جائے

اصغر گونڈوی

ہجر اک وقفۂ بیدار ہے دو نیندوں میں

وصل اک خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں

احمد مشتاق

جو سوتے ہیں نہیں کچھ ذکر ان کا وہ تو سوتے ہیں

مگر جو جاگتے ہیں ان میں بھی بیدار کتنے ہیں

ابو المجاہد زاہد

یہ روز و شب یہ صبح و شام یہ بستی یہ ویرانہ

سبھی بیدار ہیں انساں اگر بیدار ہو جائے

جگر مراد آبادی

وہ شور ہوتا ہے خوابوں میں آفتابؔ حسینؔ

کہ خود کو نیند سے بیدار کرنے لگتا ہوں

آفتاب حسین

وصل کی رات خوشی نے مجھے سونے نہ دیا

میں بھی بے دار رہا طالع بے دار کے ساتھ

جلیل مانک پوری

کوئی تو رات کو دیکھے گا جواں ہوتے ہوئے

اس بھرے شہر میں بے دار کوئی تو ہوگا

شہزاد احمد

اب جس دل خوابیدہ کی کھلتی نہیں آنکھیں

راتوں کو سرہانے مرے بے دار یہی تھا

مصحفی غلام ہمدانی

تری زلف کی شب کا بیدار میں ہوں

تجھ آنکھوں کے ساغر کا مے خوار میں ہوں

ولی عزلت

شکست دل کی ہر آواز حشر آثار ہوتی ہے

مگر سوئی ہوئی دنیا کہاں بیدار ہوتی ہے

فگار اناوی

محفل عشق میں وہ نازش دوراں آیا

اے گدا خواب سے بیدار کہ سلطاں آیا

جوش ملیح آبادی

نہ جانے کیسی نگاہوں سے موت نے دیکھا

ہوئی ہے نیند سے بیدار زندگی کہ میں ہوں

صائمہ اسما

محو لقا جو ہیں ملکوتی خصال ہیں

بیدار ہو کے بھی نظر آتے ہیں خواب میں

پنڈت جواہر ناتھ ساقی

یہ تو نہیں کہ خواب میں دنیا بدل گئی

بیدار جب ہوئے تو تصور نیا ملا

سعید الظفر چغتائی

پھر چھیڑا حسنؔ نے اپنا قصہ

بس آج کی شب بھی سو چکے ہم

میر حسن

چبھا ہے پاؤں میں کانٹا خرد کا

جنوں بیدار ہوتا جا رہا ہے

منیش شکلا

کاہکشاں کے خواب مظفرؔ دیکھ رہا تھا

اور بیداری ریت کے ٹیلے پر لے آئی

مظفر وارثی
بولیے