حوصلہ پر اشعار
شاعری کاعلاقہ بہت وسیع
ہے وہ نہ صرف عشق وعاشقی کابیان ہے بلکہ زندگی کی اوربہت سی صورتیں اس کے دائرے میں آتی ہیں ۔ بعض اوقات زندگی کے مشکل ترین وقتوں میں کوئی ایک شعر ہی ایسا آجاتا ہے جو جینے کا حوصلہ دے جاتا ہے اور ایک داخلی قوت عطا کرتا ہے ۔ کچھ ایسےشعرہی ہم یہاں ہیش کررہے ہیں ۔
تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاہین بلند حوصلے اور خوددار طبیعت کی علامت ہے، جس کی پہچان رُک جانا نہیں بلکہ اوپر اٹھتے رہنا ہے۔ شاعر تسکین اور ٹھہراؤ سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ “اور بھی ہیں” یہ بتاتا ہے کہ منزلیں ختم نہیں ہوتیں، نئے افق کھلتے رہتے ہیں۔ جذبہ امید اور مسلسل جدوجہد کا ہے۔
-
موضوعات : اقبال ڈےاور 1 مزید
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
Interpretation:
Rekhta AI
اقبال کے ہاں “شاہیں” بلند ہمت اور خوددار انسان کی علامت ہے۔ قصرِ سلطانی کا گنبد آسائش، چاپلوسی اور اقتدار کے سائے میں جینے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ پہاڑوں کی چٹانیں آزادی، سخت کوشی اور بلندی کی نشان دہی کرتی ہیں۔ شعر کا پیغام یہ ہے کہ آسان سہولتوں کے بدلے اپنی خودی نہ بیچی جائے۔ جذبہ یہ ہے کہ آدمی باوقار اور خودمختار زندگی اختیار کرے۔
ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیں
وہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیں
ہم کو مٹا سکے یہ زمانہ میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
-
موضوعات : ایٹی ٹیوڈاور 3 مزید
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیوں بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے
-
موضوع : مشہور اشعار
اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا
-
موضوع : ترغیبی
سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے
-
موضوعات : ترغیبیاور 3 مزید
شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل
ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا
-
موضوع : ترغیبی
ساحل کے سکوں سے کسے انکار ہے لیکن
طوفان سے لڑنے میں مزا اور ہی کچھ ہے
واقف کہاں زمانہ ہماری اڑان سے
وہ اور تھے جو ہار گئے آسمان سے
دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ
-
موضوع : ترغیبی
جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
وہی دنیا بدلتے جا رہے ہیں
-
موضوع : ترغیبی
لوگ کہتے ہیں بدلتا ہے زمانہ سب کو
مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے
-
موضوعات : انقلاباور 1 مزید
ہار ہو جاتی ہے جب مان لیا جاتا ہے
جیت تب ہوتی ہے جب ٹھان لیا جاتا ہے
-
موضوع : ترغیبی
آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
Interpretation:
Rekhta AI
اقبال یہاں جوانی کی اصل مردانگی کو “حق گوئی” اور “بیباکی” سے جوڑتے ہیں۔ “شیر” وقار، غیرت اور اخلاقی جرأت کی علامت ہے، جبکہ “روباہی” مصلحت پرست چالاکی اور بزدلی کا استعارہ۔ شعر کا جذبہ یہ ہے کہ اہلِ حق کو ڈر اور فریب نہیں سجتے، ان کی شان سچ اور دلیری ہے۔
-
موضوع : ترغیبی
میرے ٹوٹے حوصلے کے پر نکلتے دیکھ کر
اس نے دیواروں کو اپنی اور اونچا کر دیا
میرے سینے میں نہیں تو تیرے سینے میں سہی
ہو کہیں بھی آگ لیکن آگ جلنی چاہئے
-
موضوع : انقلاب
لوگ جس حال میں مرنے کی دعا کرتے ہیں
میں نے اس حال میں جینے کی قسم کھائی ہے
-
موضوع : ترغیبی
ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو
ابھی یارو سفر کی ابتدا ہے
اسے گماں ہے کہ میری اڑان کچھ کم ہے
مجھے یقیں ہے کہ یہ آسمان کچھ کم ہے
تیر کھانے کی ہوس ہے تو جگر پیدا کر
سرفروشی کی تمنا ہے تو سر پیدا کر
یہ کہہ کے دل نے مرے حوصلے بڑھائے ہیں
غموں کی دھوپ کے آگے خوشی کے سائے ہیں
میں آندھیوں کے پاس تلاش صبا میں ہوں
تم مجھ سے پوچھتے ہو مرا حوصلہ ہے کیا
بھنور سے لڑو تند لہروں سے الجھو
کہاں تک چلو گے کنارے کنارے
-
موضوعات : ترغیبیاور 1 مزید
بڑھ کے طوفان کو آغوش میں لے لے اپنی
ڈوبنے والے ترے ہاتھ سے ساحل تو گیا
صدا ایک ہی رخ نہیں ناؤ چلتی
چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی
وقت کی گردشوں کا غم نہ کرو
حوصلے مشکلوں میں پلتے ہیں
جلانے والے جلاتے ہی ہیں چراغ آخر
یہ کیا کہا کہ ہوا تیز ہے زمانے کی
-
موضوع : ترغیبی
یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے
ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے
-
موضوعات : پارلیمنٹاور 1 مزید
ہوا خفا تھی مگر اتنی سنگ دل بھی نہ تھی
ہمیں کو شمع جلانے کا حوصلہ نہ ہوا
-
موضوع : ہوا
مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا
مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا
-
موضوع : ترغیبی
اتنے مایوس تو حالات نہیں
لوگ کس واسطے گھبرائے ہیں
-
موضوع : امید
موجوں کی سیاست سے مایوس نہ ہو فانیؔ
گرداب کی ہر تہہ میں ساحل نظر آتا ہے
انہی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلے گا
اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی بھی ہے
-
موضوع : ترغیبی
گو آبلے ہیں پاؤں میں پھر بھی اے رہروو
منزل کی جستجو ہے تو جاری رہے سفر
دامن جھٹک کے وادئ غم سے گزر گیا
اٹھ اٹھ کے دیکھتی رہی گرد سفر مجھے
لذت غم تو بخش دی اس نے
حوصلے بھی عدمؔ دیے ہوتے
-
موضوع : غم
بنا لیتا ہے موج خون دل سے اک چمن اپنا
وہ پابند قفس جو فطرتا آزاد ہوتا ہے
جن حوصلوں سے میرا جنوں مطمئن نہ تھا
وہ حوصلے زمانے کے معیار ہو گئے