ویرانی پر اشعار
شاعری میں ویرانی ہماری
آس پاس کی دنیا کی بھی ہے ۔ کبھی چمن ویران ہوتا ہے، کبھی گھر اورکبھی بستیاں ۔ شاعر ان سب کو ایک ٹوٹے ہوئے دل اور زخمی احساس کے ساتھ موضوع بناتا ہے ۔ ساتھ ہی اس ویرانی کا دائرہ پھیل کر دل کی ویرانی تک آپہنچتا ہے ۔ عشق کا آسیب کس طرح سے دل کی ساری رونقوں کو کھا جاتا ہے اس کا اندازہ آپ کو ہمارے اس انتخاب سے ہوگا ۔
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
EXPLANATION #1
یہ ایک عجیب طرح کی اور شدید ویرانی ہے۔
صحرا اور بیابان کو دیکھ کر مجھے اپنا گھر یاد آ گیا۔
مرزا غالب اس شعر میں فرماتے ہیں کہ میرے گھر کی ویرانی اور اُجاڑ پن کا یہ عالم ہے کہ دشت (جنگل) بھی اس کے سامنے کچھ نہیں۔ عام طور پر انسان دشت سے گھبرا کر گھر کا رخ کرتا ہے، مگر یہاں دشت کی ویرانی دیکھ کر شاعر کو اپنے گھر کی یاد آتی ہے جو اس سے بھی زیادہ ویران ہے۔
محمد اعظم
-
موضوعات : گھراور 1 مزید
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر نے دل کو ایک شہر کی طرح برتا ہے جس پر بار بار غم اور صدمے حملہ آور ہوئے۔ اتنی تکرارِ زخم کے بعد ویرانی کا ذکر بے معنی لگتا ہے، گویا بربادی معمول بن گئی ہو۔ “سو مرتبہ” مبالغہ ہے جو دکھ کی طویل، مسلسل شدت اور بے بسی کو نمایاں کرتا ہے۔
-
موضوعات : دلاور 1 مزید
اب جس طرف سے چاہے گزر جائے کارواں
ویرانیاں تو سب مرے دل میں اتر گئیں
صحرا کو بہت ناز ہے ویرانی پہ اپنی
واقف نہیں شاید مرے اجڑے ہوئے گھر سے
گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے
Interpretation:
Rekhta AI
غالب کہتے ہیں کہ میرا دل تو پہلے ہی ویران تھا، اس میں لٹنے کے قابل کچھ بھی نہ تھا۔ محبت کے غم نے اگر کچھ چھوڑا ہے یا جس چیز کا وجود باقی ہے، وہ صرف ایک حسرت ہے کہ کاش میں بھی اپنا گھر بسا سکتا۔ یہ حسرتِ تعمیر ہی اب میری کل کائنات ہے۔
ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبان چمن
تم کوئی اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام
بنا رکھی ہیں دیواروں پہ تصویریں پرندوں کی
وگرنہ ہم تو اپنے گھر کی ویرانی سے مر جائیں
-
موضوع : تنہائی
بستیاں کچھ ہوئیں ویران تو ماتم کیسا
کچھ خرابے بھی تو آباد ہوا کرتے ہیں
تمہارے رنگ پھیکے پڑ گئے ناں؟
مری آنکھوں کی ویرانی کے آگے
میری بربادی میں حصہ ہے اپنوں کا
ممکن ہے یہ بات غلط ہو پر لگتا ہے
ختم ہونے کو ہیں اشکوں کے ذخیرے بھی جمالؔ
روئے کب تک کوئی اس شہر کی ویرانی پر
کس نے آباد کیا ہے مری ویرانی کو
عشق نے؟ عشق تو بیمار پڑا ہے مجھ میں
-
موضوع : عشق
دور تک دل میں دکھائی نہیں دیتا کوئی
ایسے ویرانے میں اب کس کو صدا دی جائے
-
موضوع : دل
بستی بستی پربت پربت وحشت کی ہے دھوپ ضیاؔ
چاروں جانب ویرانی ہے دل کا اک ویرانہ کیا
-
موضوعات : دھوپاور 1 مزید
میں وہ بستی ہوں کہ یاد رفتگاں کے بھیس میں
دیکھنے آتی ہے اب میری ہی ویرانی مجھے
تنہائی کی دلہن اپنی مانگ سجائے بیٹھی ہے
ویرانی آباد ہوئی ہے اجڑے ہوئے درختوں میں
-
موضوع : تنہائی
نہ ہم وحشت میں اپنے گھر سے نکلے
نہ صحرا اپنی ویرانی سے نکلا
-
موضوعات : صحرااور 1 مزید
فرق نہیں پڑتا ہم دیوانوں کے گھر میں ہونے سے
ویرانی امڈی پڑتی ہے گھر کے کونے کونے سے
-
موضوع : دیوانگی
دو جیون تاراج ہوئے تب پوری ہوئی بات
کیسا پھول کھلا ہے اور کیسی ویرانی میں
اندر سے میں ٹوٹا پھوٹا ایک کھنڈر ویرانہ تھا
ظاہر جو تعمیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا
جی یہی کہتا ہے اب چل کے وہیں جا ٹھہرو
ہم نے ویرانوں میں دیکھے ہیں وہ آثار کہ بس