aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Bekhud Dehlvi's Photo'

بیخود دہلوی

1863 - 1955 | دلی, انڈیا

داغ دہلوی کے شاگرد

داغ دہلوی کے شاگرد

بیخود دہلوی کے اشعار

18.2K
Favorite

باعتبار

ادائیں دیکھنے بیٹھے ہو کیا آئینہ میں اپنی

دیا ہے جس نے تم جیسے کو دل اس کا جگر دیکھو

بات وہ کہئے کہ جس بات کے سو پہلو ہوں

کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لیے

تشریح

شعر میں جو نکتہ بیان کیا گیا ہے اسی نے اسے دل چسپ بنایا ہے۔ اس میں لفظ بات کی اگرچہ تین دفعہ اور پہلو کی دو دفعہ تکرار ہوئی ہے مگر لفظوں کی ترنم ریزی اور بیان کی روانی کے وصف نے شعر میں لطف پیدا کیا ہے۔ پہلو کی مناسبت سے لفظ بدلنے نے شعر کی کیفیت کو تاثر بخشا ہے۔

دراصل شعر میں جو نکتہ بیان کیا گیا ہے، وہ اگرچہ کسی تخصیص کا حامل نہیں بلکہ عام فہم ہے مگر جس انداز سے شاعر نے اس نکتے کوبیان کیا ہے وہ اس نکتے کو عام فہم ہونے کے باوجود نادر بنادیتا ہے۔

ٍشعر کا مفہوم یہ ہے کہ بات کو کچھ ایسے رمزیہ انداز میں کہنا چاہیے کہ اس سے سو طرح کے مفہوم بر آمد ہوں۔کیونکہ معنی کے اعتبار سے اکہری بات کہنا دانا لوگوں کا شیوہ نہیں بلکہ وہ سو نکتوں کا نچوڑ ایک بات میں بیان کرتے ہیں۔ اس طرح سے سننے والوں کو بحث کرنے یا وضاحت طلب کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی پہلو ہاتھ آجاتا ہے۔ اور جب بات کے پہلو کثیر ہوں تو بات بدلنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ یعنی نکتے سے نکتہ برآمد ہوتا ہے۔

شفق سوپوری

دل محبت سے بھر گیا بیخودؔ

اب کسی پر فدا نہیں ہوتا

جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں

تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

راہ میں بیٹھا ہوں میں تم سنگ رہ سمجھو مجھے

آدمی بن جاؤں گا کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد

سن کے ساری داستان رنج و غم

کہہ دیا اس نے کہ پھر ہم کیا کریں

دل تو لیتے ہو مگر یہ بھی رہے یاد تمہیں

جو ہمارا نہ ہوا کب وہ تمہارا ہوگا

آئنہ دیکھ کر وہ یہ سمجھے

مل گیا حسن بے مثال ہمیں

مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند

دونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند

ہمیں پینے سے مطلب ہے جگہ کی قید کیا بیخودؔ

اسی کا نام جنت رکھ دیا بوتل جہاں رکھ دی

وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا

جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا

نہ دیکھنا کبھی آئینہ بھول کر دیکھو

تمہارے حسن کا پیدا جواب کر دے گا

حوروں سے نہ ہوگی یہ مدارات کسی کی

یاد آئے گی جنت میں ملاقات کسی کی

بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو

مجھ کو دم بھر کے لئے غیر کی قسمت دے دو

قیامت ہے تری اٹھتی جوانی

غضب ڈھانے لگیں نیچی نگاہیں

منہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر

جب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے

سخت جاں ہوں مجھے اک وار سے کیا ہوتا ہے

ایسی چوٹیں کوئی دو چار تو آنے دیجے

سودائے عشق اور ہے وحشت کچھ اور شے

مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا

دی قسم وصل میں اس بت کو خدا کی تو کہا

تجھ کو آتا ہے خدا یاد ہمارے ہوتے

بولے وہ مسکرا کے بہت التجا کے بعد

جی تو یہ چاہتا ہے تری مان جائیے

جھوٹا جو کہا میں نے تو شرما کے وہ بولے

اللہ بگاڑے نہ بنی بات کسی کی

تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام

تم سنوارا کرو بیٹھے ہوئے گیسو اپنے

چشم بد دور وہ بھولے بھی ہیں ناداں بھی ہیں

ظلم بھی مجھ پہ کبھی سوچ سمجھ کر نہ ہوا

اب آپ کوئی کام سکھا دیجئے ہم کو

معلوم ہوا عشق کے قابل تو نہیں ہم

جواب سوچ کے وہ دل میں مسکراتے ہیں

ابھی زبان پہ میری سوال بھی تو نہ تھا

دشمن کے گھر سے چل کے دکھا دو جدا جدا

یہ بانکپن کی چال یہ ناز و ادا کی ہے

میرا ہر شعر ہے اک راز حقیقت بیخودؔ

میں ہوں اردو کا نظیریؔ مجھے تو کیا سمجھا

نمک بھر کر مرے زخموں میں تم کیا مسکراتے ہو

مرے زخموں کو دیکھو مسکرانا اس کو کہتے ہیں

چلنے کی نہیں آج کوئی گھات کسی کی

سننے کے نہیں وصل میں ہم بات کسی کی

انہیں تو ستم کا مزا پڑ گیا ہے

کہاں کا تجاہل کہاں کا تغافل

سوال وصل پر کچھ سوچ کر اس نے کہا مجھ سے

ابھی وعدہ تو کر سکتے نہیں ہیں ہم مگر دیکھو

پڑھے جاؤ بیخودؔ غزل پر غزل

وہ بت بن گئے ہیں سنے جائیں گے

بھولے سے کہا مان بھی لیتے ہیں کسی کا

ہر بات میں تکرار کی عادت نہیں اچھی

ہمیں اسلام اسے اتنا تعلق ہے ابھی باقی

بتوں سے جب بگڑتی ہے خدا کو یاد کرتے ہیں

محفل وہی مکان وہی آدمی وہی

یا ہم نئے ہیں یا تری عادت بدل گئی

دل ہوا جان ہوئی ان کی بھلا کیا قیمت

ایسی چیزوں کے کہیں دام دیے جاتے ہیں

رقیبوں کے لیے اچھا ٹھکانا ہو گیا پیدا

خدا آباد رکھے میں تو کہتا ہوں جہنم کو

منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے

اس شرم اس لحاظ کے قربان جائیے

تکیہ ہٹتا نہیں پہلو سے یہ کیا ہے بیخودؔ

کوئی بوتل تو نہیں تم نے چھپا رکھی ہے

یہ کہہ کے میرے سامنے ٹالا رقیب کو

مجھ سے کبھی کی جان نہ پہچان جائیے

بیخودؔ تو مر مٹے جو کہا اس نے ناز سے

اک شعر آ گیا ہے ہمیں آپ کا پسند

زمانہ ہم نے ظالم چھان مارا

نہیں ملتیں ترے ملنے کی راہیں

غم میں ڈوبے ہی رہے دم نہ ہمارا نکلا

بحر ہستی کا بہت دور کنارا نکلا

کیا کہہ دیا یہ آپ نے چپکے سے کان میں

دل کا سنبھالنا مجھے دشوار ہو گیا

ہو لیے جس کے ہو لیے بیخودؔ

یار اپنا تو یہ حساب رہا

تیر قاتل کو کلیجے سے لگا رکھا ہے

ہم تو دشمن کو بھی آرام دیے جاتے ہیں

نظر کہیں ہے مخاطب کسی سے ہیں دل میں

جواب کس کو ملا ہے سوال کس کا تھا

محبت اور مجنوں ہم تو سودا اس کو کہتے ہیں

فدا لیلیٰ پہ تھا آنکھوں کا اندھا اس کو کہتے ہیں

موت آ رہی ہے وعدے پہ یا آ رہے ہو تم

کم ہو رہا ہے درد دل بے قرار کا

دل میں پھر وصل کے ارمان چلے آتے ہیں

میرے روٹھے ہوئے مہمان چلے آتے ہیں

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے