ادا پر اشعار
حسن کی ساری نزاکت اداؤں
سے ہی ہے اور یہی ادائیں عاشق کیلئے جان لیوا ہوتی ہیں ۔ محبوب کے دیکھنے ،مسکرانے ، چلنے ، بات کرنے ، اورخاموش رہنے کی اداؤں کا بیان شاعری کا ایک اہم باب ہے ۔ ہم اچھے شعروں کا ایک انتخاب پیش کر رہے ہیں ۔
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا
لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر محبوب کی اس ادا پر فریفتہ ہے کہ وہ بغیر کسی ظاہری ہتھیار کے لڑنے یا قتل کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ یہ سادگی دراصل محبوب کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، کیونکہ ان کی قاتل نگاہیں تلوار سے زیادہ تیز ہیں۔ غالب اس تضاد کو بیان کرتے ہیں کہ محبوب کا یہ انداز کہ وہ نہتے ہو کر بھی وار کر رہے ہیں، عاشق کی جان لینے کے لیے کافی ہے۔
-
موضوعات : سادگیاور 1 مزید
انداز اپنا دیکھتے ہیں آئنے میں وہ
اور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو
-
موضوع : مشہور اشعار
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا
-
موضوع : حیا
پہلے اس میں اک ادا تھی ناز تھا انداز تھا
روٹھنا اب تو تری عادت میں شامل ہو گیا
یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں
جان کتنوں کی لیے بیٹھے ہیں
ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا
بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا
-
موضوعات : دلاور 2 مزید
آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکن
مرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہے
آپ نے تصویر بھیجی میں نے دیکھی غور سے
ہر ادا اچھی خموشی کی ادا اچھی نہیں
گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میر
اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ حسن کی مختلف صورتیں—پھول، چاند، آئینہ اور سورج جیسی چمک—اپنی جگہ، مگر محبوب ہونے کے لیے صرف خوب صورتی کافی نہیں۔ اصل کسوٹی ‘ادا’ ہے: وہ دل نشیں انداز، نزاکت اور جاذبیت جو شخصیت کو منفرد بناتی ہے۔ اسی لیے محبوب وہی ٹھہرتا ہے جس کے طور طریقے میں کشش ہو۔
ادا آئی جفا آئی غرور آیا حجاب آیا
ہزاروں آفتیں لے کر حسینوں پر شباب آیا
ادائیں دیکھنے بیٹھے ہو کیا آئینہ میں اپنی
دیا ہے جس نے تم جیسے کو دل اس کا جگر دیکھو
اس ادا سے مجھے سلام کیا
ایک ہی آن میں غلام کیا
زمانہ حسن نزاکت بلا جفا شوخی
سمٹ کے آ گئے سب آپ کی اداؤں میں
ساتھ شوخی کے کچھ حجاب بھی ہے
اس ادا کا کہیں جواب بھی ہے
Interpretation:
Rekhta AI
داغؔ دہلوی محبوب کی اس دلکش کیفیت کو سراہتے ہیں کہ شوخی کے باوجود اس میں حجاب یعنی حیا بھی موجود ہے۔ یہی امتزاج اس کی ادا کو اور زیادہ پراثر بنا دیتا ہے، کیونکہ بے باکی بھی ہے اور وقار بھی۔ شاعر اسی نرالے توازن پر حیران ہے اور کہتا ہے کہ ایسی ادا کا دنیا میں جواب نہیں۔ یہ شعر خالص تحسین اور عاشقانہ مبہوتی کی فضا رکھتا ہے۔
عمر بھر ملنے نہیں دیتی ہیں اب تو رنجشیں
وقت ہم سے روٹھ جانے کی ادا تک لے گیا
-
موضوعات : دشمنیاور 1 مزید
خوب رو ہیں سیکڑوں لیکن نہیں تیرا جواب
دل ربائی میں ادا میں ناز میں انداز میں
پردۂ لطف میں یہ ظلم و ستم کیا کہیے
ہائے ظالم ترا انداز کرم کیا کہیے
Interpretation:
Rekhta AI
شاعر کہتا ہے کہ محبوب اپنی سختی کو لطف اور مہربانی کے پردے میں چھپا کر دکھاتا ہے، اس لیے ظلم بھی کرم بن کر سامنے آتا ہے۔ یہاں طنز اور شکوہ ساتھ ساتھ ہیں: بظاہر نرمی، باطن میں اذیت۔ “اندازِ کرم” کہہ کر وہ اسی دوغلے پن کو بے نقاب کرتا ہے کہ جسے رحمت سمجھا جائے وہی زخم بن جاتی ہے۔
لگاوٹ کی ادا سے ان کا کہنا پان حاضر ہے
قیامت ہے ستم ہے دل فدا ہے جان حاضر ہے
برق کو ابر کے دامن میں چھپا دیکھا ہے
ہم نے اس شوخ کو مجبور حیا دیکھا ہے
تنہا وہ آئیں جائیں یہ ہے شان کے خلاف
آنا حیا کے ساتھ ہے جانا ادا کے ساتھ
وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا
جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا
یہ ادائیں یہ اشارے یہ حسیں قول و قرار
کتنے آداب کے پردے میں ہے انکار کی بات
مار ڈالا مسکرا کر ناز سے
ہاں مری جاں پھر اسی انداز سے
ظالم نے کیا نکالی رفتار رفتہ رفتہ
اس چال پر چلے گی تلوار رفتہ رفتہ
Interpretation:
Rekhta AI
شعر میں ظالم کی بڑھتی ہوئی جرأت اور ظلم کی تدریجی شدت دکھائی گئی ہے۔ “رفتار” سے مراد ظلم کا پھیلنا ہے اور “تلوار” سزا، انصاف یا انتقام کی علامت ہے۔ “رفتہ رفتہ” کی تکرار بتاتی ہے کہ جیسے جیسے ظلم قدم بڑھاتا ہے ویسے ہی اس کا انجام بھی قریب آتا جاتا ہے۔ لہجہ دھمکی نہیں بلکہ ایک پُرسکون تنبیہ ہے کہ بدلہ لازماً ہوگا۔
بے خود بھی ہیں ہشیار بھی ہیں دیکھنے والے
ان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے
-
موضوع : نگاہ
جام لے کر مجھ سے وہ کہتا ہے اپنے منہ کو پھیر
رو بہ رو یوں تیرے مے پینے سے شرماتے ہیں ہم
-
موضوعات : شراباور 2 مزید
ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہی
نگاہ مست سے دنیا خراب ہو کے رہی
-
موضوع : نگاہ
بناوٹ وضع داری میں ہو یا بے ساختہ پن میں
ہمیں انداز وہ بھاتا ہے جس میں کچھ ادا نکلے
بولے وہ مسکرا کے بہت التجا کے بعد
جی تو یہ چاہتا ہے تری مان جائیے
پھول کہہ دینے سے افسردہ کوئی ہوتا ہے
سب ادائیں تری اچھی ہیں نزاکت کے سوا
پامال کر کے پوچھتے ہیں کس ادا سے وہ
اس دل میں آگ تھی مرے تلوے جھلس گئے
اے طراحدار عشوہ طراز دیار ناز
رخصت ہوا ہوں تیرے لیے دل گلی سے میں
چودھویں کا چاند پھولوں کی مہک ٹھنڈی ہوا
رات اس کافر ادا کی ایسی یاد آئی کہ بس
-
موضوعات : پھولاور 3 مزید
قتل تو نہیں بدلا قتل کی ادا بدلی
تیر کی جگہ قاتل ساز اٹھائے بیٹھا ہے
-
موضوع : قاتل
کہنے پہ مرے آؤ مرے پاس تو بیٹھو
وہ ان کے بگڑنے کی ادا یاد ہے اب تک
-
موضوع : خفا