Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ادا پر اشعار

حسن کی ساری نزاکت اداؤں

سے ہی ہے اور یہی ادائیں عاشق کیلئے جان لیوا ہوتی ہیں ۔ محبوب کے دیکھنے ،مسکرانے ، چلنے ، بات کرنے ، اورخاموش رہنے کی اداؤں کا بیان شاعری کا ایک اہم باب ہے ۔ ہم اچھے شعروں کا ایک انتخاب پیش کر رہے ہیں ۔

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

Interpretation: Rekhta AI

شاعر محبوب کی اس ادا پر فریفتہ ہے کہ وہ بغیر کسی ظاہری ہتھیار کے لڑنے یا قتل کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ یہ سادگی دراصل محبوب کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، کیونکہ ان کی قاتل نگاہیں تلوار سے زیادہ تیز ہیں۔ غالب اس تضاد کو بیان کرتے ہیں کہ محبوب کا یہ انداز کہ وہ نہتے ہو کر بھی وار کر رہے ہیں، عاشق کی جان لینے کے لیے کافی ہے۔

مرزا غالب

انداز اپنا دیکھتے ہیں آئنے میں وہ

اور یہ بھی دیکھتے ہیں کوئی دیکھتا نہ ہو

نظام رامپوری

پوچھا جو ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح

زلفوں کو رخ پہ ڈال کے جھٹکا دیا کہ یوں

آرزو لکھنوی

حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا

حسینوں کو بھی کتنا سہل ہے بجلی گرا دینا

اکبر الہ آبادی

پہلے اس میں اک ادا تھی ناز تھا انداز تھا

روٹھنا اب تو تری عادت میں شامل ہو گیا

آغا شاعر قزلباش

یہ جو سر نیچے کئے بیٹھے ہیں

جان کتنوں کی لیے بیٹھے ہیں

جلیل مانک پوری

نگاہیں اس قدر قاتل کہ اف اف

ادائیں اس قدر پیاری کہ توبہ

آرزو لکھنوی

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا

اسد علی خان قلق

آفت تو ہے وہ ناز بھی انداز بھی لیکن

مرتا ہوں میں جس پر وہ ادا اور ہی کچھ ہے

امیر مینائی

آپ نے تصویر بھیجی میں نے دیکھی غور سے

ہر ادا اچھی خموشی کی ادا اچھی نہیں

جلیل مانک پوری

گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میر

اپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہو

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کہتا ہے کہ حسن کی مختلف صورتیں—پھول، چاند، آئینہ اور سورج جیسی چمک—اپنی جگہ، مگر محبوب ہونے کے لیے صرف خوب صورتی کافی نہیں۔ اصل کسوٹی ‘ادا’ ہے: وہ دل نشیں انداز، نزاکت اور جاذبیت جو شخصیت کو منفرد بناتی ہے۔ اسی لیے محبوب وہی ٹھہرتا ہے جس کے طور طریقے میں کشش ہو۔

میر تقی میر

ادا آئی جفا آئی غرور آیا حجاب آیا

ہزاروں آفتیں لے کر حسینوں پر شباب آیا

نوح ناروی

ادائیں دیکھنے بیٹھے ہو کیا آئینہ میں اپنی

دیا ہے جس نے تم جیسے کو دل اس کا جگر دیکھو

بیخود دہلوی

اس ادا سے مجھے سلام کیا

ایک ہی آن میں غلام کیا

آصف الدولہ

زمانہ حسن نزاکت بلا جفا شوخی

سمٹ کے آ گئے سب آپ کی اداؤں میں

کالی داس گپتا رضا

کرے ہے عداوت بھی وہ اس ادا سے

لگے ہے کہ جیسے محبت کرے ہے

کلیم عاجز

ساتھ شوخی کے کچھ حجاب بھی ہے

اس ادا کا کہیں جواب بھی ہے

Interpretation: Rekhta AI

داغؔ دہلوی محبوب کی اس دلکش کیفیت کو سراہتے ہیں کہ شوخی کے باوجود اس میں حجاب یعنی حیا بھی موجود ہے۔ یہی امتزاج اس کی ادا کو اور زیادہ پراثر بنا دیتا ہے، کیونکہ بے باکی بھی ہے اور وقار بھی۔ شاعر اسی نرالے توازن پر حیران ہے اور کہتا ہے کہ ایسی ادا کا دنیا میں جواب نہیں۔ یہ شعر خالص تحسین اور عاشقانہ مبہوتی کی فضا رکھتا ہے۔

داغؔ دہلوی

عمر بھر ملنے نہیں دیتی ہیں اب تو رنجشیں

وقت ہم سے روٹھ جانے کی ادا تک لے گیا

فصیح اکمل

خوب رو ہیں سیکڑوں لیکن نہیں تیرا جواب

دل ربائی میں ادا میں ناز میں انداز میں

لالہ مادھو رام جوہر

پردۂ لطف میں یہ ظلم و ستم کیا کہیے

ہائے ظالم ترا انداز کرم کیا کہیے

Interpretation: Rekhta AI

شاعر کہتا ہے کہ محبوب اپنی سختی کو لطف اور مہربانی کے پردے میں چھپا کر دکھاتا ہے، اس لیے ظلم بھی کرم بن کر سامنے آتا ہے۔ یہاں طنز اور شکوہ ساتھ ساتھ ہیں: بظاہر نرمی، باطن میں اذیت۔ “اندازِ کرم” کہہ کر وہ اسی دوغلے پن کو بے نقاب کرتا ہے کہ جسے رحمت سمجھا جائے وہی زخم بن جاتی ہے۔

فراق گورکھپوری

لگاوٹ کی ادا سے ان کا کہنا پان حاضر ہے

قیامت ہے ستم ہے دل فدا ہے جان حاضر ہے

اکبر الہ آبادی

برق کو ابر کے دامن میں چھپا دیکھا ہے

ہم نے اس شوخ کو مجبور حیا دیکھا ہے

حسرتؔ موہانی

تنہا وہ آئیں جائیں یہ ہے شان کے خلاف

آنا حیا کے ساتھ ہے جانا ادا کے ساتھ

جلیل مانک پوری

وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا

جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا

بیخود دہلوی

یہ ادائیں یہ اشارے یہ حسیں قول و قرار

کتنے آداب کے پردے میں ہے انکار کی بات

خالد یوسف

مار ڈالا مسکرا کر ناز سے

ہاں مری جاں پھر اسی انداز سے

جلیل مانک پوری

ظالم نے کیا نکالی رفتار رفتہ رفتہ

اس چال پر چلے گی تلوار رفتہ رفتہ

Interpretation: Rekhta AI

شعر میں ظالم کی بڑھتی ہوئی جرأت اور ظلم کی تدریجی شدت دکھائی گئی ہے۔ “رفتار” سے مراد ظلم کا پھیلنا ہے اور “تلوار” سزا، انصاف یا انتقام کی علامت ہے۔ “رفتہ رفتہ” کی تکرار بتاتی ہے کہ جیسے جیسے ظلم قدم بڑھاتا ہے ویسے ہی اس کا انجام بھی قریب آتا جاتا ہے۔ لہجہ دھمکی نہیں بلکہ ایک پُرسکون تنبیہ ہے کہ بدلہ لازماً ہوگا۔

داغؔ دہلوی

بے خود بھی ہیں ہشیار بھی ہیں دیکھنے والے

ان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے

ابوالکلام آزاد

جام لے کر مجھ سے وہ کہتا ہے اپنے منہ کو پھیر

رو بہ رو یوں تیرے مے پینے سے شرماتے ہیں ہم

غمگین دہلوی

ادا ادا تری موج شراب ہو کے رہی

نگاہ مست سے دنیا خراب ہو کے رہی

جلیل مانک پوری

بناوٹ وضع داری میں ہو یا بے ساختہ پن میں

ہمیں انداز وہ بھاتا ہے جس میں کچھ ادا نکلے

امداد علی بحر

بولے وہ مسکرا کے بہت التجا کے بعد

جی تو یہ چاہتا ہے تری مان جائیے

بیخود دہلوی

پھول کہہ دینے سے افسردہ کوئی ہوتا ہے

سب ادائیں تری اچھی ہیں نزاکت کے سوا

جلیل مانک پوری

پامال کر کے پوچھتے ہیں کس ادا سے وہ

اس دل میں آگ تھی مرے تلوے جھلس گئے

آغا شاعر قزلباش

کچھ اس ادا سے محبت شناس ہونا ہے

خوشی کے باب میں مجھ کو اداس ہونا ہے

راہل جھا

اے طراحدار عشوہ طراز دیار ناز

رخصت ہوا ہوں تیرے لیے دل گلی سے میں

جون ایلیا

چودھویں کا چاند پھولوں کی مہک ٹھنڈی ہوا

رات اس کافر ادا کی ایسی یاد آئی کہ بس

رئیس رامپوری

قتل تو نہیں بدلا قتل کی ادا بدلی

تیر کی جگہ قاتل ساز اٹھائے بیٹھا ہے

کیف بھوپالی

کہنے پہ مرے آؤ مرے پاس تو بیٹھو

وہ ان کے بگڑنے کی ادا یاد ہے اب تک

سردار خان سوز
بولیے