ادریس بابر کے اشعار
ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہت
پھر بھی اے دوست تری ایک نظر سے کم ہے
ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہت
پھر بھی اے دوست تری ایک نظر سے کم ہے
آج تو جیسے دن کے ساتھ دل بھی غروب ہو گیا
شام کی چائے بھی گئی موت کے ڈر کے ساتھ ساتھ
آج تو جیسے دن کے ساتھ دل بھی غروب ہو گیا
شام کی چائے بھی گئی موت کے ڈر کے ساتھ ساتھ
موت کی پہلی علامت صاحب
یہی احساس کا مر جانا ہے
-
موضوع : احساس
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
موت کی پہلی علامت صاحب
یہی احساس کا مر جانا ہے
-
موضوع : احساس
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اب تو مشکل ہے کسی اور کا ہونا مرے دوست
تو مجھے ایسے ہوا جیسے کرونا مرے دوست
-
موضوع : سوشل ڈسٹینسنگ شاعری
اب تو مشکل ہے کسی اور کا ہونا مرے دوست
تو مجھے ایسے ہوا جیسے کرونا مرے دوست
-
موضوع : سوشل ڈسٹینسنگ شاعری
ٹینشن سے مرے گا نہ کرونے سے مرے گا
اک شخص ترے پاس نہ ہونے سے مرے گا
-
موضوع : سوشل ڈسٹینسنگ شاعری
ٹینشن سے مرے گا نہ کرونے سے مرے گا
اک شخص ترے پاس نہ ہونے سے مرے گا
-
موضوع : سوشل ڈسٹینسنگ شاعری
تو بھی ہو میں بھی ہوں اک جگہ پہ اور وقت بھی ہو
اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا مرے دوست!
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تو بھی ہو میں بھی ہوں اک جگہ پہ اور وقت بھی ہو
اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا مرے دوست!
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ٹوٹ سکتا ہے چھلک سکتا ہے چھن سکتا ہے
اتنا سوچے تو کوئی جام اچھالے کیسے
ٹوٹ سکتا ہے چھلک سکتا ہے چھن سکتا ہے
اتنا سوچے تو کوئی جام اچھالے کیسے
اس اندھیرے میں جب کوئی بھی نہ تھا
مجھ سے گم ہو گیا خدا مجھ میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اس اندھیرے میں جب کوئی بھی نہ تھا
مجھ سے گم ہو گیا خدا مجھ میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اس قدر مت اداس ہو جیسے
یہ محبت کا آخری دن ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اس قدر مت اداس ہو جیسے
یہ محبت کا آخری دن ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں جانتا ہوں یہ ممکن نہیں مگر اے دوست
میں چاہتا ہوں کہ وہ خواب پھر بہم کئے جائیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں جانتا ہوں یہ ممکن نہیں مگر اے دوست
میں چاہتا ہوں کہ وہ خواب پھر بہم کئے جائیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
تمام دوست الاؤ کے گرد جمع تھے اور
ہر ایک اپنی کہانی سنانے والا تھا
تمام دوست الاؤ کے گرد جمع تھے اور
ہر ایک اپنی کہانی سنانے والا تھا
وہ مجھے دیکھ کر خموش رہا
اور اک شور مچ گیا مجھ میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہ مجھے دیکھ کر خموش رہا
اور اک شور مچ گیا مجھ میں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اک خوف زدہ سا شخص گھر تک
پہنچا کئی راستوں میں بٹ کر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اک خوف زدہ سا شخص گھر تک
پہنچا کئی راستوں میں بٹ کر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں جنہیں یاد ہوں اب تک یہی کہتے ہوں گے
شاہزادہ کبھی ناکام نہیں آ سکتا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
میں جنہیں یاد ہوں اب تک یہی کہتے ہوں گے
شاہزادہ کبھی ناکام نہیں آ سکتا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ذرا سا مل کے دکھاؤ کہ ایسے ملتے ہیں
بہت پتا ہے تمہیں چھوڑ جانا آتا ہے
-
موضوع : ملاقات
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
ذرا سا مل کے دکھاؤ کہ ایسے ملتے ہیں
بہت پتا ہے تمہیں چھوڑ جانا آتا ہے
-
موضوع : ملاقات
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
خودکشی بھی نہیں مرے بس میں
لوگ بس یوں ہی مجھ سے ڈرتے ہیں
خودکشی بھی نہیں مرے بس میں
لوگ بس یوں ہی مجھ سے ڈرتے ہیں
پھول ہے جو کتاب میں اصل ہے کہ خواب ہے
اس نے اس اضطراب میں کچھ نہ پڑھا لکھا تو پھر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
پھول ہے جو کتاب میں اصل ہے کہ خواب ہے
اس نے اس اضطراب میں کچھ نہ پڑھا لکھا تو پھر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بریک ڈانس سکھایا ہے ناؤ نے دل کو
ہوا کا گیت سمندر کو گانا آتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
بریک ڈانس سکھایا ہے ناؤ نے دل کو
ہوا کا گیت سمندر کو گانا آتا ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہ جن کو میسر تھی ہر اک چیز دگر بھی
ممکن ہے سہولت کی فراوانی سے مر جائیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہ جن کو میسر تھی ہر اک چیز دگر بھی
ممکن ہے سہولت کی فراوانی سے مر جائیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مرے سوال وہی ٹوٹ پھوٹ کی زد میں
جواب ان کے وہی ہیں بنے بنائے ہوئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
مرے سوال وہی ٹوٹ پھوٹ کی زد میں
جواب ان کے وہی ہیں بنے بنائے ہوئے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہی نہ ہو کہ یہ سب لوگ سانس لینے لگیں
امیر شہر کوئی اور خوف طاری کر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
وہی نہ ہو کہ یہ سب لوگ سانس لینے لگیں
امیر شہر کوئی اور خوف طاری کر
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اک دیا دل کی روشنی کا سفیر
ہو میسر تو رات بھی دن ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ
اک دیا دل کی روشنی کا سفیر
ہو میسر تو رات بھی دن ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
- رائے زنی
- رائے
- ڈاؤن لوڈ